• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ساون گھنگھور گھٹائیں، رِم جھم، پھوار، بھیگا موسم،ابر کرم اور برسات ،یہ رومان انگیز الفاظ معنوی اعتبار سے ساون رُت کی غمازی کرتے ہیں۔ فلمی نغمات میں ان کیفیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ہمارے ممتازشعراء نے ایک سے بڑھ کر ایک رومان پرور گیت تخلیق کیے ، جنہیں موسیقاروں نے اپنی دل کش دُھنوں میں پرو کر گلوکاروں نے اپنے سُریلے آہنگ سے سجا کر شاہ کار گیتوں کے قالب میں ڈھالا، یُوں جب جب ساون رُت کی آمد ہوتی ہے، یہ گیت انسانی جذبات و کیفیات کے آئینہ دار بن کرکبھی ہماری یادوں میں، کبھی ہماری باتوں میں اور کبھی سماعتوں میں گونجنے لگتے ہیں۔ 

پاکستانی سینما کی پہلی دہائی سے ساون کی گھٹائوں سے مذکورہ گیت جو سب سے پہلے مقبول ہوا۔ وہ تھا مسعود پرویز کی یادگار نغمہ بار رومانی فلم انتظار 1956، کا یہ گیت، جس کے بول تھے ’’گھنگھور گھٹائو ،ساون کی ترس گئے مورے نین پیابن، برس برس ،مت مجھے رلائو، ساون کی گھنگھور گھٹائو، خوب صورت گیت لکھا تھا ،قتیل شفائی نے اور اس کی دل کش دُھن مرتب کی تھی ،خواجہ خورشید انور نے۔ یہ کورس گیت ملکہ ترنم نورجہاں اور سکھیوں کی آوازوں سے سجا تھا، ہدایت کار خلیل قیصر نے تخیلاتی کہانی یادگار فلم ’’ناگن‘‘ 1959، بنائی تو کہانی ایک موڑ پر جب ناگن ’’نیلو ، اپنے ناگ، رس کمار کے ہجر میں، بے چین و بے قرار ہوتی ہے، تو ساون کا موسم اسے یہ گیت گانے پر مجبور کر دیتا ہے۔’’امبوا کی ڈالیوں پر جھولنا جھلا جا، اب کے ساون تو سجن گھر آ جا۔‘‘

قتیل شفائی کے ان خوبصورت اشعار کو طرز دی تھی،موسیقار منور حسین نے اور فراق کی اُداسی میں گھلا ہوا ترنم بخشا تھا ،ملکہ غزل اقبال بانو نے، یہ گیت آج بھی ذوق و شوق سے سُنا اور پسند کیا جاتا ہے۔

ناگن کی ریلیز کے سال1959میں ہی نغمہ بار کوئل منظرعام پر ٓآئی، جس کا ہر گیت شاہ کار تھا۔ ان ہی مقبول گیتوں میں رِم جھم گیت رِم جھم پڑے پھوار …‘‘تیرا میرا نت کا پیار ‘‘ جیسا سدا بہار یادگار گیت بھی شامل تھا، جسے،نجمہ نیازی، ناہید نیازی ،منیر حسین اور نورجہاں نے گایا تھا، اسے لکھا تھا تنویر نقوی نے اور انتہائی دل کش میٹھی اور امر دھن تخلیق کی تھی خواجہ خورشید انور نے، بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ برکھا رت کی کیفیات میں جو گیت تخلیق ہوئے، ان میں یہ گیت اپنی میلوڈی اور کمپوزیشن کے حوالے سے سرتاج گیت کی حیثیت رکھتا ہے۔ 

تحریک آزادی کے مجاہد قادو مکرانی کی بائیو گرافیکل مودی ’’جاگ اٹھا انسان‘‘ جسے بابائے سندھی سینما شیخ حسن نے ڈائریکٹ کیا تھا، اس میں بھی ایک سچویشن میں یادگار اور دل کش ’’ساون‘‘ کی رنگینیوں سے سجا گیت ’’جب ساون گھر گھر آئے ،کوئلیا گائے تو سجن تو آ جانا ۔… او بل تو آجانا … مالا بیگم اور سکھیوں کے ترنم سے سجے اس گیت کے خالق تھے، دکھی پریم نگری اور موسیقار تھے، لال محمد اقبال۔ یہ گیت بھی سدا بہار ساون گیتوں میں سے ایک ہے۔ 1970کی ریلیز ہدایت کار ایم اے رشید کی سوشل نغمہ بار فلم ’’آنسو بن گئے موتی ‘‘ کے لیے نغمہ نگار قتیل شفائی نے خُوب صورت رم جھم گیت ’’رم جھم برس ،لارگی رے پھوار‘‘ لکھا، جسے ماسٹر عنایت نے کمپوز کیا اور مالا بیگم نے اپنی سریلی آواز میں گایا۔ 

یہ گیت دو مختلف سچویشنز میں، مختلف کیفیات کا غماز تھا۔ فلم کے ابتدائی حصے میں یہ خوشی کی صورت حال میں فلمایا گیا تھا، جب کہ دوسری بارالمیہ سچویشن کا غماز تھا۔ سچویشنز کی مناسبت سے نغمے کے بول بھی مختلف تھے۔ یہ رم جھم گیت فلم ’’آنسو بن گئے موتی‘‘ کا اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے، جسے فلم میں دونوں بار فلم کی فرسٹ ہیروئن شمیم آرا پر پکچرائز کیا گیا۔ اسی سال 1970ہی کی ریلیز قمر زیدی کی کام یاب فلم ’’نصیب اپنا اپنا ‘‘ کے لیے بھی ’’بارش‘‘ کو ابر کرم سے تعبیر کر کے مسرور انور نے گیت لکھا، جس کے بول تھے ’’ اے ابر کرم ،آج اتنا برس ،اتنا برس کہ وہ جا نہ سکیں۔ لال محمد کی عمدہ دُھن پر گریٹ سنگر احمد رشدی نے اسے گایا اور پیکچرائز ہوا، شہزادہ رومانس وحید مراد پر، یُوں ایک امر گیت کو وجود ملا۔ بالعموم کسی بھی وقت اور بالخصوص موسم برسات میں یہ گیت سُناجائے تو سامع کو ایک خاص رفاقت کا احساس دلاتا ہے۔ہدایت کار ایس ٹی زیدی کی رومانی میوزیکل مووی’’سلامِ محبت ‘‘ کا میوزک خواجہ خورشید انور نے مرتب کیا تھا، لیکن صرف ایک گیت جو بھیگے موسم کی شاعری پر مشتمل تھا۔

اس کی دھن رشید عطرے نے بنائی تھی اور آواز کا جادو جگایا تھا ،مہدی حسن نے، گیت کے بول تھے ’’کیوں ہم سے خفا ہو گئے اے جان تمنا ،بھیگے ہوئے موسم کا مزا کیوں نہیں لیتے۔ ‘‘میٹھی دُھن، اعلیٰ شاعری اور عمدہ گائیکی کا مرقع یہ گیت آج بھی بے حد سُنا جاتا ہے۔ ہدایت کار رحمن کی چاہت1974کا ساون گیت ’’ساون آئے ساون جائے، تجھ کو پکاریں گیت ہمارے ‘‘ پاکستان کے شہرہ آفاق گیتوں میں سے ایک ہے، جسے سُریلے گلوکار اخلاق احمد نے دل کش آہنگ دیا۔ فلم چاہت کی ریلیز والے سال میں ہدایت کار اقبال اختر کی مزاح سے بھرپور کام یاب فلم ’’ پردہ نہ اٹھائو ‘‘ میں بھی ایک خوب صورت ساون گیت شامل تھا، جس کے بول تھے ’’جھوم اٹھی ہے جوانی، کہتی ہے رت مستانی کہ ساون آیا ہے، کہ ساون آیا ہے۔

مالا نے یہ خوب صورت گیت گایا تھا،اس گیت کا شمار بھی پاکستان کے بہترین ساون رت گیتوں میں ہوتا ہے۔نغمہ نگار ا،ختر یوسف کی بہ طور ڈائریکٹر بنائی گئی فلم ’’ساون آیا تم نہیں آئے ‘‘گو ایک ڈیڈ فلاپ فلم تھی، لیکن علی کاظمی کی خوب صورت دُھن پر بنا ساون گیت ’’ساون آیا ،تم نہیں آئے ،رہ گئے ہم تو آس لگائے۔اس فلم کو یادوں میں اور تذکروں میں زندہ رکھنے کا واحد مضبوط حوالہ ہے۔ 1976کی ریلیز حسن طارق کی فلم ’’ناگ اور ناگن‘‘ جو کہ خلیل قیصر کی ناگن کا ری میک تھی، کے لیے ناہید اختر کا گایا ہوا، سیف الدین سیف کا لکھا ہوا گیت، جس کی دُھن نثار بزمی نے ترتیب دی تھی،گیت کے بول تھے ’’ساون کے دن آئے بالم جھولا کون جھلائے ‘‘ اپنے وقت کا ایک مقبول ترین گیت تھا، اب یہ معدوم ہو چکا ہے، لیکن اسلم ڈار کی رومانی نغماتی فلم ’’وعدہ‘‘ 1976کا رم جھم گیت ’’بھیگی بھیگی رات میں، رم جھم کی برسات میں آجا میرےساتھیا ،پیار ہم کریں، ابتدا ہی سے کل کی طرح آج بھی بے حد مقبول ہےاور ذوق و شوق سے سُنا جانے والا گیت ہے۔ اس گیت کے خالق شاعر فیاض ہاشمی تھے۔ 

گلوکار مہدی حسن نے اسے میٹھے سروں سے سجایا اور اس کی لافانی دھن کمال احمد نے مرتب کی۔ یہ گیت جب بھی سماعتوں تک پہنچتا ہے، سننے والوں پر سحر طاری کر دیتا ہے۔ علاوہ ازیں کئی فلموں کے لیے ساون رت گیت بنائے گئے، ان میں خریدار کا گیت ،برسات کا موسم ہے ،سجن دور نہ جائو ‘‘سنگم کا گیت ’’ہم رہے پیاسے کے پیاسے ،لاکھ ساون آ گئے ‘‘ پہلی نظر کا گیت ’’بھری برکھا میں دل کو جلایا ‘‘ اپنے ہوئے پرائے کا گیت دھانی چنریا لہرائی پھر ساون کی رت آئی، اچھے میاں کا گیت ٹھہر جا میری جا ں چھوڑ جانے کا ارادہ۔ اور برکھا بہار کہے بھیگی بھیگی ،نشانی کا گیت لو آیا ساون سچ کا تن من بہار ہندی رہ جائے گی۔ عبادت کا گیت ’’ساون کے موسم میں دل تڑپانا منع ہے، اور فلم بڑا آدمی کا گیت کچھ دیر تو رک جائو برسات کے بہانے ‘‘ بہ طور خاص قابل ذکر ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید