• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ادبی ذوق کی حامل فلم اور ٹی وی کی سینئر اداکارہ ’’دیبا‘‘

یہ کہانی ہے، اس فن کارہ کی جس نے اس دور میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا، جب اس کے بچپن میں شرارت اور کھیلنے کودنے کے دن تھے۔ ایسے میں ایک معصوم بچی راحیلہ کو اس کی منہ بولی پھوپھی گلاب عرف گجا تیز روشنیوں اور کیمرے کے سامنے لے آئیں۔ یہ 1954ء کا ذکر ہے، فلم ساز رفیق چمن نے ایسٹرن فلم اسٹوڈیو میں اپنی فلم ’’دُعا‘‘ کا آغاز کیا، اس فلم میں راحیلہ بہ طور چائلڈ اسٹار کاسٹ ہوگئی۔ فلم مکمل نہ ہوسکی، لیکن یہ چائلڈ اسٹار دیگر فلم سازوں کی نظر میں آگئی۔ 

کراچی میں بننے والی ایک فلم ’’مس56‘‘ میں راحیلہ نے اسکول کی بچی کا ایک کردار کیا ۔ اس فلم کی ہیروئن مینا شوری تھیں، اس فلم میں اسکول کلاس کے ایک منظر میں مینا شوری بچوں کو سبق پڑھاتے ہوئے ایک گیت سناتی ہے ’’او ننھے سے راہی‘‘ اس گانے میں دیگر بچیوں کے ساتھ راحیلہ نمایاں تھی۔ یہ بہ طور چائلڈ اسٹار راحیلہ کی پہلی فلم تھی۔

ہدایت کار رفیق رضوی کی کام یاب فلم ’’واہ رے زمانے‘‘ میں اس بچی نے معروف اداکارہ شمیم آرا کے بچپن کا کردار کیا۔ یہ فلم 1967ء میں ریلیز ہوئی، جب کہ 1959ء میں ریلیز ہونے والی ہدایت کار جعفر شاہ بخاری کی سپرہٹ فلم ’’فیصلہ‘‘ میں اس نے فلم کی ہیروئثن شمیم آرا کی چھوٹی بہن کا رول کیا۔ یہ ننھی بچی راحیلہ آگے چل کر فلم انڈسٹری کی ایک معروف اداکارہ دیبا کے نام سے آسمانِ فن کا ایک ایسا روشن ستارہ بنیں، جس کے فن کی روشنی آج بھی اپنی توانائی کا احساس دلا رہی ہے۔

اداکارہ دیبا 3؍اگست 1946ء بمقام رانچی (صوبہ بہار) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سید ارشد حسین الہٰ آباد کے رہنے والے تھے، جب کہ والدہ صابرہ بیگم کا تعلق گورکھ آباد سے تھا۔ ان کی منہ بولی پھوپھی انہیں پاکستان بننے کے بعد کراچی لے آئیں۔ کراچی کینٹ کے علاقے میں ابتدائی رہائش اپنائی۔ وقت گزرتا رہا اور دبیا چائلڈ اسٹار سے ہیروئن بن کر فلمی دنیا میں متعارف ہوگئیں۔ ابتدائی دور میں چند فلمیں کراچی میں کرنے کے بعد لاہور شفٹ ہوگئیں ۔

فلموں میں کاسٹنگ کے تمام معاملات ان کی پھوپھی طے کرتی تھیں، جن کے داماد باقر رضوی بھی ایک ہدایت کار تھے۔ دیبا ثانوی اداکارہ سے ہیروئن بنیں، تو اس کی مسکراہٹ پر فلم بینوں نے اسے مونا لیزا کا خطاب دیا ، لیکن اس مسکراہٹ میں کتنے درد چھپے تھے، یہ کوئی نہ جان سکا۔ انہوں نے راحیلہ سے دیبا کا سفر بڑی مشکلات سے طے کیا۔ ایک روز وہ ایک افسانہ پڑھ رہی تھیں، جس کا عنوان ’’ماں‘‘ تھا، اسے پڑھ کراپنی ماں بہت یاد آئی۔ اس کی پھوپھی جذبات سے عاری خودغرض خاتون تھیں۔ 

دیبا کو اس بات کا اطمینان تھا کہ اس کی والدہ اور بہن بھائی ڈھاکا میں ہیں۔ ہدایت کار رحمٰن کی فلم ’’ملن‘‘ میں دیبا نے انسانی ہمدردی کی مثال قائم کرتے ہوئے اس فلم میں بلامعاوضہ کام کیا۔ رحمٰن کے ساتھ حادثہ پیش آنے کے بعد تمام ہیروئنز نے کام کرنے سے انکار کردیا تھا، تب دیبا وہ اداکارہ تھیں، جس نے ہامی بھری۔ ’’ملن‘‘ کی شوٹنگ کے لیے جب وہ ڈھاکا پہنچی، تو اس کی آنکھوں میں ماں سے ملنے کے خواب سجے ہوئے تھے۔ ماں اور بیٹی کی ملاقات میں پھوپھی دیوار بن کر کھڑی تھیں، لیکن دیبا کی محبت نے اس دیوار کو گرا کر ایک روز ڈھاکا میں اپنی ماں سے ملاقات کرلی۔

راحیلہ جب دیبابن گئیں تو سب سے پہلے انہیں فضل کریم فضلی نے فلم ’’چراغ جلتا رہا‘‘ میں دیبا کا نام دے کر متعارف کروایا۔ محمد علی اور زیبا کی یہ پہلی فلم تھی۔ یہ 1962ء میں کراچی کے نشاط سنیما میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے پریمیئر شو میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح نے خصوصی شرکت فرمائی تھی۔ اس فلم کی کام یابی کے بعد یہ تینوں فن کار زیبا، محمد علی اور دیبا عوام میں مقبول ہوگئے۔ 

لاہور کے نگار خانوں میں بھی ان کی شہرت پہنچ گئی۔ انور کمال پاشا کی فلم ’’محبوب‘‘ اور خلیل قیصر کی ’’دوشیزہ‘‘ میں انہیں ثانوی کردار ملے۔ یہ دونوں فلمیں 1962ء میں ریلیز ہوئیں۔ 1963ء میں فلم ساز وحید مراد نے اپنی ذاتی فلم ’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘ میں معروف مزاحیہ اداکار لہری کے ساتھ دیبا کا پیئر بنایا۔ زیبا اور درپن اس فلم میں مرکزی کرداروں میں تھے۔ اس فلم کی کام یابی کے بعد 1964ء میں بہ طور سولو ہیروئن پہلی بار دیبا کو ہدایت کار خلیل اختر نے فلم ’’خاموش رہ‘‘ میں اداکار یوسف خان کے مدِمقابل ہیروئن کاسٹ کیا، یہی وہ فلم تھی، جس نے اداکار محمد علی کو عروج بام تک پہنچایا۔ 

اس فلم میں دیبا نے محمد علی کی بہن کا رول نبھایا تھا۔ فلم میں ایک گانا جسے گلوکارہ مالا نے گایا تھا ’’میں نے تو پریت نبھائی سانوریا رے نکلا تو ہرجائی‘‘ اداکارہ دیبا پر فلمایا گیا، جو آج بھی سپرہٹ ہے۔ اسی سال ریلیز ہونے والی ہدایت کار ظہور راجہ کی سسپنس، سائنس فنکشن فلم ’’دیوانہ‘‘ میں بھی ان کی کردار نگاری کو پسند کیا گیا، جب کہ موسیقار خواجہ خورشید انور کی ڈائریکشن میں بننے والی معاشرتی اصلاحی فلم ’’چنگاری‘‘ میں دیبا نے ایک آزاد خیال ماڈرن لڑکی کے کردار میں عمدہ اداکاری کا مظاہرہ کیا۔ اسی سال اداکار اور ہدایت کار رحمٰن کی فلم ’’مِلن‘‘ میں دیبا کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا اور اس فلم نے شان دار گولڈن جوبلی منائی۔ 

’’ملن‘‘ اور ’’خاموش رہو‘‘ کی ملک گیر کام یابی نے دیبا کو اس دور کی صف اول کی ہیروئنز میں شامل کردیا تھا۔ انہوں نے اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے اپنے آپ کو منواتے ہوئے اپنے فلمی کرداروں میں زندگی کی جو حرارت، توانائی اور سچے جذبات دیتے ہوئے جو تاثرات اور احساسات پیدا کیے، اس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔ اپنے طویل فنی کیریئر میں کردار نگاری کے کچھ ایسے رنگ بھرے جن کی تازگی آج بھی برقرار ہے۔ ہدایت کار دلجیت مرزا کی فلم ’’رواج‘‘ میں انہوں نے ’’پگلی‘‘ کا کردار کیا، تو واقعی حقیقی پگلی نظر آئیں۔ 

ہدایت کار نذیر اجمیری کی اصلاحی و معاشرتی فلم ’’دل کے ٹکڑے‘‘ میں اداکار حبیب کی بچھڑی ہوئی مظلوم بہن بنیں، پہلی بار اس فلم میں وہ محمد علی کی ہیروئن کے روپ میں آئیں۔ یہ اپنے دور کی ایک کام یاب سپرہٹ فلم تھی،اس فلم میں سپر اسٹار شمیم آرا کی موجودگی میں دیبا کو مرکزی رول دیا گیا، یہ فلم 1965ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ 1966ء میں اداکار کمال کے ساتھ ریلیز ہونے والی ان کی فلم ’’ہم دونوں‘‘ کو بھی عوام نے بہت پسند کیا ، اس فلم میں رونا لیلیٰ کی آواز میں گایا ہوا یہ مسحورکن مقبول گیت ’’ان کی نظروں سے محبت کا جو پیغام ملا‘‘ آج بھی پسند کیا جاتا ہے ۔

اسی سال فلم ساز، مصنف اور ہدایت کار شباب کیرانوی نےفلم ’’آئینہ‘‘ میں اداکارہ دیبا کو ڈبل رول میں کاسٹ کیا۔ محمد علی نے اس فلم میں ان کے ہیرو کا کردار کیا۔ یہ فلم پہلے ’’رشیدہ‘‘ کے نام سے بن رہی تھی۔ ’’آئینہ‘‘ جب مکمل ہوئی تو اسے تقسیم کاروں نے یہ کہہ کر نہ خریدی کہ یہ فلم ایک دن بھی نہیں چلے گی۔ شباب صاحب نے اسے خود ریلیز کیا، اسی فلم سے انہوں نے اپنے ڈسٹری بیوٹر ادارے کا آغاز کیا۔ ’’آئینہ‘‘ نے کراچی کے کوہ نور سنیما میں شان دار گولڈن جوبلی منائی۔ اس فلم کا میوزک بھی سپرہٹ تھا۔ 

فلم کے تقریباً تمام گانے اپنے دور میں مقبول ہوئے، خاص طور پر ’’تم ہی ہو محبوب میرے میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں‘‘ اس سدابہار نغمے کی بازگشت آج بھی جب سماعتوں سے گزرتی ہے، تو ماضی کی حسین یادیں ذہن میں تازہ ہوجاتی ہیں۔ دیبا نے محمد علی کے مقابل جن فلموں میں مرکزی کردارکیے، ان میں ’’مادر وطن‘‘ ’’سجدہ‘‘ ’’مجاہد‘‘ ’’بے قصور‘‘  ’’حقیقت‘‘ شکوہ‘‘ ’’اجنبی‘‘ ’’ضمیر‘‘ اور ’’دو ڈاکو‘‘ کے نام شامل ہیں۔

چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے ساتھ پہلی بار دیبا نے ان کے مد مقابل فلم ’’بہو بیگم‘‘ میں ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد ’’اشارہ‘‘ ’’پھر صبح ہوگی‘‘  ’’تم ہی محبوب میرے‘‘ ’’افسانہ‘‘  ’’انجمن‘‘  ’’پھر چاند نکلے گا‘‘ ’’نیند ہماری خواب تمہارے‘‘ ’’زندگی ایک سفر ہے‘‘ ’’ننھا فرشتہ‘‘ ’’شمع‘‘ اور ’’پرستش‘‘ میں یہ جوڑی بے حد مقبول رہی۔ 1967ء میں ریلیز ہونے والی نغماتی رومانی فلم ’’دو راہا‘‘ میں دیبا نے ایک پہاڑی دوشیزہ کے روپ میں بے حد اعلیٰ کردار نگاری کی۔ شمیم آرا، وحید مراد اور دیبا کے اس ٹرائینگل لو اسٹوری فلم میں مرکزی کرداروں میں جلوہ گر ہوئے۔ اس فلم کی شوٹنگ کے دوران ایک ناقابل فراموش واقعہ پیش آیا۔ ایبٹ آباد کے پہاڑی علاقے میں ایک جھیل پر اداکارہ دیبا پر فلم کا مشہور گانا ’’کوئی میرے دل میں دھیرے دھیرے آیا‘‘ کی فلم بندی ہورہی تھی۔ 

پشتو فلموں کے لیجنڈ اور پہلے سپر اسٹار بدر منیر ان دنوں یعنی فلم کے یونٹ میں بہ طور لائٹ مین شامل تھے، جھیل پر ایک جھولا تھا، جو لکڑی کے بنے پل اور جھیل کے ساتھ تھا۔ دیبا کو گانے کے دوران پانی سے گزرنا تھا، جُھولے پر انہیں بٹھایا گیا ، بدر منیر ریفلیکٹر لیے کھڑا تھا، پل کی لکڑی دیبا کی کمر میں لگی اور وہ جھیل میں جیسے ہی گرنے لگیں، بدر منیر نے تیزی سے ریفلیکٹر کو پھینک کر دیبا کی جان بچا لی۔ اس طرح وہ ایک ناگہانی حادثے سے بچ گئیں۔ 

اس موقع پر دیبا نے بدر منیر کو دُعا دیتے ہوئے کہا تھا کہ تم ایک روز بہت بڑے اسٹار بنو گے اور پھر ایک روز یہ دعا قبول ہوگئی اور بدر منیر ملک کے بہت بڑے اسٹار بن گئے۔ 1968ء میں ہدایت کار ظفر شباب کی نغماتی گھریلو سپرہٹ گولڈن جوبلی فلم ’’سنگدل‘‘ میں پہلی بار دیبا نے ندیم کی ہیروئن کا رول کیا۔ یہ فلم اپنے سبجیکٹ، میوزک اور فن کاروں کی عمدہ کردار نگاری کی وجہ سے پورے ملک میں سپرٹ ہوئی۔ 

فلم کے تمام گیت اسٹریٹ سونگز ثابت ہوئے، جن میں ’’او میرے شوخ صنم‘‘ ’’او سن لے جان وفا‘‘ جیسے مقبول اور سدابہار گیت شامل تھے، جس کا سہرا ایم اشرف کے سر جاتا ہے۔ فلم میں ایک بار پھر دیبا نے ایک پہاڑی دوشیزہ کے کردار میں لاجواب کردار نگاری کا مظاہرہ کیا، اس یادگار نغماتی فلم نے کراچی کے ریگل سنیما میں شان دار گولڈن جوبلی منائی۔ ’’سنگدل‘‘ کی کام یابی کے بعد دیبا اور ندیم کی جوڑی ’’انبیلا‘ ‘ ’’پڑوسی‘‘  ’’مستانہ‘‘  ’’دل‘‘ ’’آنسو‘‘ ’’آئو پیار کریں‘‘ ’’محبت مر نہیں سکتی‘‘ ’’انسان اور فرشتہ‘‘ میں نظر آئی۔

اداکار شاہد نے اپنے کیریئر کا آغاز فلم ’’ایک رات‘‘ سے کیا۔ اس فلم کی ہیروئن دیبا تھیں، اس کے علاوہ شاہد کی ریلیز ہونے والی پہلی فلم ’’آنسو‘‘ کی بھی ہیروئن دیبا تھیں۔ ان دونوں کی بہ طور ہیرو ہیروئن ریلیز ہونے والی فلم ’’سوہنا پتر‘‘ پنجابی میں تھی، جو 1972ء میں ریلیز ہوئی تھی۔ انہیں یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ اپنے ساتھ ہیروز کے کردار ادا کرنے والے اداکاروں کے مقابل جب وہ 1968ء کی سپرہٹ فلم ’’بہن بھائی‘‘ میں ان کی بہن کے کردار میں آئیں تو فلم بینوں نے ان کی اداکاری کو بے حد سراہا، اس کے بعد 1974ء کی سپرہٹ فلم ’’شمع‘‘ میں وہ محمد علی اور ندیم کی بہن بن کر ایک بار پھر کام یاب رہیں۔

دیبا بیگم اپنے عروج کے دور میں معروف فوٹوگرافرنعیم رضوی سے شادی کرکے سعودی عرب چلی گئیں۔ ان کے شوہر وہاں سعودیہ ٹی وی پر ملازمت کرتے تھے، جن دنوں نذر شباب کی ’’شمع‘‘ ملک بھر میں سپرہٹ ہوئی، تو شباب کیرانوی نے اپنی آئندہ تین فلموں ’’شکوہ‘‘ ’’انسان اور فرشتہ‘‘ کے علاوہ لازوال فلم ’’میرا نام ہے محبت‘‘ میں پہلے دیبا اور ندیم کو کاسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ’’شکوہ‘‘ میں محمد علی ’’انسان اور فرشتہ‘‘ میں ندیم کے ساتھ وہ کام یاب رہیں۔ ’’میرا نام ہے محبت‘‘ کا جب شباب صاحب نے آغاز کیا، تو دیبا ان دنوں سعودی عرب میں تھیں، ان کے شوہر کو چھٹیوں کا مسئلہ تھا، اس لیے وہ شباب صاحب کو مطلوبہ تاریخیں نہ دے پائیں اور شباب صاحب نے اس فلم میں پہلی بار بابرہ شریف اور غلام محی الدین کو مرکزی کرداروں میں کاسٹ کیا۔

اپنے دور کی مقبول اور کام یاب ہیروئن نے 1974ء میں ماں کے کرداروں میں بھی اپنی اداکاری کا آغاز ہدایت کار نذرالاسلام کی فلم ’’حقیقت‘‘ سے کیا۔ اس فلم میں محمد علی اور دیبا نے وحید مراد کے والدین کے کردار نبھائے۔ 1976ء میں علی سفیان آفاقی کی فلم ’’آگ اور آنسو‘‘ میں انہوں نے غلام محی الدین اور طلعت اقبال کی ماں کے کردار کیے۔ 1977ء میں ہدایت کار اقبال کشمیری کی ایکشن ویسٹرن اردو فلم ’’شاہین‘‘ میں پنجابی فلموں کے لیجنڈ سپر اسٹار سلطان راہی کی ماں کا کردار ادا کیا۔ 1978ء میں فلم ’’امبر‘‘ میں وہ ندیم کی ماں بنیں۔ 1980ء میں ’’نہیں ابھی نہیں‘‘ میں نوجوان اداکار فیصل کی ماں کے کردار میں آئیں۔ سید نور کی کام یاب فلم ’’جیوا‘‘ میں انہوں نے جاوید شیخ اور بابر علی کی والدہ کا کردار ادا کیا۔ فلم ’’ہوائیں‘‘ میں اداکار سعود، فلم جذبہ‘‘ اور ’’بغاوت‘‘ میں موجودہ دور کے سپر اسٹار شان کی والدہ، سید نور کی بلاک بسٹر پنجابی فلم ’’چوڑیاں‘‘ میں معمر رانا کی والدہ کے کردار بھی بڑی عمدگی سے نبھائے۔

اردو فلموں میں کام یابی حاصل کرنے والی اس مایہ ناز اداکارہ کو پہلی بار ریاض بخاری نے اپنی پنجابی فلم ’’سجناں درد دیا‘‘ میں ایک اہم کردار میں کاسٹ کیا۔ یہ کردار ایک پگلی لڑکی کا تھا۔ فلم کے ہدایت کار افتخار خان تھے، اس فلم میں عمدہ اداکاری پر انہیں 1970ء میں خصوصی نگار ایوارڈ دیا گیا، جو ان کا پہلا اور اب تک کا آخری نگار ایوارڈ تھا۔ دیبا کو لاتعداد ایوارڈز ملے، جن میں مصور، گریجویٹ، اسکرین، بولان کے علاوہ حکومت کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی جیسے بڑے ایوارڈز شامل ہیں۔ اداکاری کے ساتھ دیبا بیگم نے بہ طور فلم ساز ایک اردو فلم ’’میرے جیون ساتھی‘‘ بنائی، جو مکمل ہونے کے باوجود ریلیز نہ ہوسکی۔ اس فلم میں وحید مراد ان کے ہیرو تھے، اس کے علاوہ دیبا بیگم نے ایک پنجابی فلم بھی شروع کی تھی، جو نامکمل رہی۔

فلموں میں ہیروئن، بہن اور ماں کے کردار کرنے والی اس سینئر اداکارہ نے ٹی وی پر بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ٹی وی پر انہوں نے ’’مورت‘‘ ’’منزل‘‘  ’’ریاست‘‘ اور ’’سرکار صاحب‘‘ نامی سیریز میں کام کیا۔ ٹی وی پر دیبا بیگم کی بیٹی مدیحہ رضوی اور بیٹے عمران نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے جب کہ ان کا ایک بیٹا علی بھی ہے۔

دیبا بیگم آج اپنے مقام اور ہستی میں فن کی ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتی ہیں، اس مرتبے اور مقام کو پانے کے لیے بڑے نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ فلمی تاریخ میں دیبا کا تذکرہ ہمیشہ عزت و احترام سے کیا جائے گا۔ انہیں اداکاری میں جو نمایاں مقام ملا، ان میں ان کی خود احتسابی کا بڑا عمل دخل تھا۔ انہوں نے اپنے کام کا خود جائزہ لیا اور اپنی خامیوں کی خود نشاندہی کی۔ اداکاری کے ساتھ ساتھ ان کے ادبی ذوق نے انہیں دیگر تمام اداکارائوں کے مقام پر ایک ممتاز مقام دلایا۔ شاعری اور لٹریچر سے ان کی محبت اور ذوق نے انہیں بہ طور ناول نگار بھی متعارف کروایا۔ ان کے مشہور ناولز میں ’’جوڑے کا پھول‘‘ ’’پردہ نشین‘‘ ’’حنا کی خوشبو‘‘ اور ’’دل اور پتھر‘‘ کو نمایاں مقبولیت حاصل ہوئی۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید