• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک میں اِن دِنوں یوں محسوس ہوتاہے کہ ہمارا سب سے بڑا اور اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال ہونی چاہیے یا نہیں ۔ اس ضمن میں حکومت ، حزبِ اختلاف اور الیکشن کمیشن میں اتفاقِ رائے نہیں، لیکن مسئلہ صرف اتنا ہی نہیں ہے،بلکہ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک،آزاد ذرایع،سیاسی اور سماجی امور کے بعض ماہرین نے بھی اس بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ان میں سے بعض سوالات اور نکات ملک کی سلامتی اور اس کے سیاسی نظام کے ضمن میں بہت اہمیت کے حامل ہیں۔

آخر اتنی جلدی کیوں؟

بعض حلقے اس بات پر حیران وپریشان ہیں کہ حکومت کو آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے کرانے کی اتنی جلدی کیوں ہے۔ پیپلز پارٹی کے راہ نما مصطفی نواز کھوکھرکی جانب سے اٹھائے گئے آئینی نکتے کے بعد یہ سوال مزید اہمیت اختیار کرجاتا ہے کہ کیا یہ مشینیں پہلے سے رائُج پیپر بیلٹنگ کا نعم البدل ہوسکتی ہیں ؟ کیا ان کے مہیا کردہ نتائُج پر اعتبار کیا جا سکتا ہے ؟ کیا ان مشینوں کے ذریعے کسی خاص سیاسی جماعت یا امیدوار کو جتوایا جا سکتاہے ؟ان کی تیکنیکی حیثیت کتنی مستحکم ہے وغیرہ وغیرہ۔

سوالات، ابہامات، تحفّظات اور خدشات

پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی راہ نما، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھرنے استفسار کیاہے کہ کیا پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال کرنے کا قانون موجود ہے؟ الیکٹرانک ووٹنگ کے بارے میں فیصلہ کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے۔الیکشن کمیشن نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکومت اوراپوزیشن میں اعتماد کا فقدان ہے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر کہتے ہیں کہ 2018 میں آرٹی ایس سسٹم بیٹھ گیا تھااس کی ناکامی کی تحقیقات کا کیا بنا ؟دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بعض راہ نما یہ کہتے ہیں کہ کئی ممالک میں اس مشین کے استعمال پراعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ تین بارگنتی کے بعد فارم نمبر پینتالیس جاری ہوتا ہے،لیکن مذکورہ مشین کے ذریعے ایک بٹن دبانے سے وہ عمل ختم ہوجائے گا اور یوں غلطی اور دھاندلی کا احتمال زیادہ ہوسکتا ہے۔

ادہر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ووٹنگ مشین کے ذریعےعام انتخابات کرانے کے خلاف دائر کی گئی درخواست پر محفوظ کیا گیافیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال اجنبی کام نہیں۔یہ نظام بہت سے ممالک میں رائج ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ پارلیمنٹ کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانے کے لیے قانون سازی کی ضرورت ہے۔پارلیمنٹ کو ابھی ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات پر بحث اور قانون سازی کرنی ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانا اورانہیں دھاندلی سے محفوظ رکھنا بھی الیکشن کمیشن کی آئینی ذمے داری ہے۔

جعل سازی کا خطرہ

ای وی ایم یا الیکٹرانک ووٹنگ مشین دو حصّوں پر مشتمل ہوتی ہے۔پہلے حصے کا نام’’ بیلٹنگ یونٹ‘‘ہے جس پر رائےدہندہ اپنے پسندیدہ امیدوار کے نام یا نشان کا بٹن دباتا ہے۔دوسراحصہ ’’ کنٹرول یونٹ ‘‘ کہلاتا ہے اور متعلقہ پولنگ یا پریزائیڈنگ آفیسر کے کمرے میں ہوتاہے۔ یہ دونوں حصے ایک خاص قسم کے کیبل کے ذریعے ایک دوسرے سےمنسلک ہوتے ہیں۔ ای وی ایم کا پورا نظام چھ یا بارہ وولٹ کی بیٹری کے ذریعے توانائی حاصل کرتا ہے یا ایسا کرسکتا ہے۔ یعنی اسے دونوں طرح سے چلایا جاسکتا ہے۔

ای وی ایم کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کی ساری کارکردگی اس کے سافٹ ویئرپر منحصر ہوتی ہے اور کوئی بھی ایسا شخص جو ان مشینوں کےبارے میں معلومات رکھتاہے اور ان کاڈیزائن سمجھتا ہے، وہ مشین کے پروسیسر میں اپنی مرضی کی کوڈنگ کر کے مشین کے سارے کام کو نا قابل اعتبار بنا سکتا ہے۔وہ کسی امیدوار کے ووٹوں کی تعداد میں کمی بیشی بھی کرسکتا ہے۔یہ سب اس وقت ہو سکتاہے جب ووٹنگ کے وقت سافٹ ویئر کام کر رہے ہوں۔

اس وقت چند سطروں کی فائل انسٹال کرنے سے یا کوئی یو ایس بی محض لگاکر نکال لینے سے مشین کے کام کرنے کا طریقہ بدل جائے گااور ووٹوں کی غلط تعداد ظاہر ہو گی۔اگرچہ وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی ،شبلی فراز حکومت کی جانب سے پیش کی گئی ای وی ایم کو ہیکنگ سمیت تما م نقایص سے پاک قرار دیتے ہیں، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ امریکا جیسے ملک میں پچھلے دو انتخابات میں الیکٹرانی نظام میں روس کی مداخلت کی بات بہت زیادہ سنجیدگی سے کیوں کی گئی تھی اور پھر اس بارے میں وہاں کس نوعیت کی اور کتنی طویل تحقیقات کی گئی تھیں۔

ناقدین کہتے ہیں کہ ہم ای وی ایم مشین بنانے اور انہیں فراہم کرنے والے ادارے پر اعتبار کرلیتے ہیں ۔ لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ کوئی شخص جو ان مشینوں کے کام ، ڈیزائن اور سافٹ ویئر کو سمجھتا ہو، وہ مشین میں چند الفاظ پر مشتمل اپنا کوڈ شامل کر دے یا پروسیسر تبدیل کر دے ، تو مشین غلط اعداد و شمارظاہرنہیں کرے گی۔ لالچ یہ کام کراسکتی ہے۔

ای وی ایم اپناکر چھوڑ دینے والے

شاید درجِ بالا وجوہات ہی تھیں جن کی وجہ سے کئی ممالک نے الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام اپنانے کے بعد اسے مکمل طورپر ترک کردیا ۔ان کی جانب سے پیش کردہ وجوہات کچھ اس نوعیت کی تھیں:

۔الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم میں سیکیورٹی لیکیج دیکھنے میں آئی۔ سسٹم نا قابل اعتبار ثابت ہوا۔ ہر الیکشن میں سسٹم کو اپ ڈیٹ کرنے اور دیکھ بھال پر بہت اخراجات ہونے لگے تھے۔

اس نوعیت کے مسائل کی وجہ سےبعض ممالک نے اپنے ہاں بعض انتخابات میں الیکٹرک ووٹنگ مشین استعمال نہیں کی۔ مثلا ارجنٹائن اور کینیڈا نے قومی انتخابات ،برکینا فاسونے قومی اور میونسپل انتخابات،فن لینڈ نے قومی اور میونسپل انتخابات ( 17-2016 ) – فرانس نے 2017 کے انتخابات میں ان کا استعمال منسوخ کردیا تھا ۔جرمنی نے 2009 میں ان پر پابندی لگادی تھی۔اسی طرح ، گھانا اور انڈونیشیانے کیا تھا۔نیدر لینڈ نے 2007 ،آئر لینڈنے 2010 اور قازقستان نے 2011 میں ان پر پابندی عاید کی تھی۔ ناروےنے میونسپل انتخابات میں اور لیتھوینیا، ملائیشیا، موزمبیق، روس، اسپین، سوئیڈن، زمبابوے اورانگلستان نےقومی انتخابات میں ان کے استعمال پر پابندی عاید کی۔

جن ممالک نے یہ مشینیں 2000سے استعمال کرنا شروع کیں وہ انہیں درجِ ذیل وجوہات کی وجہ سے رد کر چکے ہیں :

انہیں باآسانی ہیک کیا جا سکتا ہے۔ انہیں بناتے وقت ان کے سافٹ ویئر میں تبدیلی کر کے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے نتائج پر یقین نہیں کیاجاسکتا کہ یہ سو فی صد صحیح ہیں۔عام انتخابات چار یا پانچ برس بعد ہوتے ہیں، آج کی خریدی ہوئی مشینوں پر چار یا پانچ برس بعد، جب نئی ٹیکنالوجی آ چکی ہو گی ،اعتماد کیا جاسکے گا؟کیا ہر الیکشن کے موقعے پر نئی مشینیں خریدی جائیں گی ؟ان کی مرمت اور دیکھ بھال مشکل اور منہگا عمل ہوگا۔عین وقت پر بڑی تعداد میں ان میں شکایات سامنے آنے پر کیا ہوگا؟وغیرہ۔

خدشات سے آگے

یہاں مسئلہ صرف دھاندلی کے خدشات کا نہیں بلکہ اور بھی مسائل بتائے جاتے ہیں۔ مثلا ان مشینوں کو کہاں سے حاصل کرنا ہے، ان کی کوالٹی اور کام کون چیک کرے گا،اس سارے پراجیکٹ پر کتنا خرچ آئے گا،پانچ برس بعد کیا ضمانت ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اس وقت بھی قابلِ استعمال ہو،وغیرہ وغیرہ۔

یہ مشینیں کہاںسے بنوائی جائیں گی،کیا پرانی مشینیں خریدنا بے وقوفی ہو گی؟بنی بنائی مشینیںانسپیکشن کے بغیر خریدنا گویاکروڑوں ڈالرز سمندر میں پھینکناہوگا ۔ مشینیں بنواتے وقت ان کے ہر کام کی نگرانی ضروری ہوگی۔ ایسے معتبر اور کام کو سمجھنے والےافراد کہاں سے ملیں گے؟دنیا کے ہر سافٹ ویئر میں ، خواہ وہ کتنی ہی محنت اور عرق ریزی سے بنایا گیا ہو، کہیں نہ کہیں کوئی ایک آدھ خلا یا نقص ضرور رہ جاتاہےجس میں سے ’’ہیکر ‘‘ اس میں داخل ہو کر چند الفاظ شامل کر کے پورے سافٹ ویئر پر کنٹرول حاصل کر لیتا ہےاور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنا ممکن بنا لیتاہے\۔یہ ایسا مسُلہ ہے جس پر قابو پانا بہت مشکل کام ہے۔

یہ بچّوں کا کھیل نہیں

قوموں کی زندگی میں عام انتخابات اور ریفرنڈم بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بہت سے ممالک میں بیلٹ اور بیلٹ باکس کی بہت زیادہ حفاظت کی جاتی ہے اور انہیں بہت اہمیت دی جاتی ہے ۔ لیکن ہمارے ملک میں بہت سے افراد آج بھی یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ کیا میری رائے کی کوئی اہمیت ہے ؟ پولیٹیکل سائنٹسٹس کی زبان میں اس کا سب سے بڑا جواب یہ ہے کہ جمہوریت میں ہر شخص کی رائے یک ساں اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ جمہوریت میں لوگوں کی رائے جاننے کے لیے بیلٹ اور بیلٹ باکس بنیادی اہمیت کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔

بیلٹ (BALLOT) دراصل وہ ذریعہ ہے جو انتخابات میں لوگ اپنی رائے کے اظہار (ووٹنگ) کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ کاغذ کا ایک ٹکڑا ہوسکتا ہے یا خفیہ اظہارِ رائے کے لیے چھوٹی سی گیند بھی ہوسکتی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ایک چھوٹی سی سیاہ گیند ہوتی تھی جو رائے دہندگان (ووٹرز) کی جانب سے دیے جانے والے فیصلے کو ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ دنیا بھر میں رائے شماری یا انتخابات کے لیے ایک رائے دہندہ ایک بیلٹ استعمال کرتا ہے اور اس میں کسی دوسرے کو شریک نہیں کیا جاسکتا۔

انتخاب کی سادہ قسم میں یہ کاغذ کا ٹکڑا ہوسکتا ہے جس پر رائے دہندگان اپنے پسندیدہ امیدواروں کے نام تحریر کرسکتے ہیں۔ لیکن جب معاملہ پارلیمانی انتخابات یا حکومت کے چنائو کا ہو تو اس کے لیے پہلے سے طباع شدہ بیلٹ پیپراستعمال کیا جاتاہے تاکہ رائے دہندگان کی رائے خفیہ رہ سکے۔ رائے دہندگان بیلٹ پیپرپر اپنی رائے کا اظہار کرنے کے بعد اسے پولنگ اسٹیشن میں جس باکس میں ڈالتے ہیں اسے بیلٹ باکس کہا جاتا ہے۔ برطانوی انگریزی میں بیلٹ کو بیلٹ پیپر کہا جاتا ہے۔ ’’بیلٹ‘‘ کا لفظ دراصل کسی تنظیم یا انتظام کے تحت ہونے والے انتخابی عمل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل کسی سماجی تنظیم، محنت کشوں یا دکان داروں کی انجمن میں بھی ہوسکتا ہے۔

بیلٹ کے لفظ کے بارے میں غالب گمان یہ ہے کہ یہ اطالوی زبان سے آیا ہے۔ اس کے دو ممکنہ ماخذ اطالوی زبان کا ایک لفظ BALLOTA ہے۔ جدید اطالوی زبان میں اس کے استعمال کے بارے میں یہ وضاحت ملتی ہے کہ 1803ء میں فلورنس کی سٹی کونسل نے روم کے شہنشاہ کونرڈ (KONRAD) دوم کی جانب سے تحفے کے طور تعمیر کرائے جانے والے چیسٹ نٹ ٹاور میں اجلاس کرنے کا آغاز کیا تھا۔ رائے دہندگان اپنی رائے کا اظہار کرنے کے لیے وہاں اخروٹ استعمال کرتے تھے۔ رائے کے اظہار کا یہ طریقہ بعد میں بیلٹا کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔ اس طرح یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ لفظ دراصل فلورنس کے لوگوں کے اخروٹ کے استعمال کے ایک طریقے کا نام ہے۔ 

بعد میں یہ اصطلاح دیگر شہروں تک پھیل گئی تھی اور پھر اسے رائے دہندگی کے دیگر طریقوں کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔ دوسرا ماخذ بھی BALLOTA کا لفظ ہی ہے۔ لیکن اس کا تعلق قدیم اطالوی زبان میں استعمال کی جانے والی اصطلاح سے جوڑا جاتا ہے۔ قدیم اطالوی زبان میں یہ لفظ اصطلاحاً چھوٹی گیند کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ تاریخ کے مطابق وینس (اطالیہ) میں 1540ء کی دہائی میں بیلٹ کا لفظ رائے دہندگی کے لیے استعمال کی جانے والی گیند کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ یونان میں تیسری اور پانچویں صدی قبلِ مسیح میں ایک سیاسی اقدام میں ٹھیکریوں کے ذریعے رائے کے اظہار کے شواہد ملتے ہیں۔ یہ اقدام اوسٹراسزم (OSTRACISM) کہلاتا تھا اور اس کے ذریعے ناپسندیدہ افراد عوامی اظہارِ رائے کے ذریعے چند برسوں کے لیے جلاوطن کردیے جاتے تھے۔

کاغذ سے بنے ہوئے پہلے بیلٹ پیپر کے انتخابات میں استعمال کے شواہد 139قبل مسیح میں روم میں ملتے ہیں۔ انڈیا میں 920 بعد از مسیح میں تامل ناڈو میں گائوں کی اسمبلی کے اراکین کے انتخاب کے لیے پام کے درخت کے پتّے استعمال کرنے کے شواہد ملتے ہیں۔ ان پتّوں پر لوگ امیدواروں کے نام لکھ کر مٹی کے برتن میں ڈال دیا کرتے تھے جنہیں بعد میں باہر نکال کر شمار کیا جاتا تھا۔ اس عمل کو کودا وولائی (KUDAVOLAI) نظام کہا جاتا تھا۔ شمالی امریکا میں 1629ء میں میسا چوسٹس بے کالونی کے چرچ کے پاسٹر کے انتخاب کے لیے پہلی مرتبہ کاغذ کے بیلٹ کے استعمال کے شواہد ملتے ہیں۔

رائے دہندگی کے نظام کی قسم کے حوالے سے مختلف بیلٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔ رینکڈ(RANKED)بیلٹ میں یہ سہولت ہوتی ہے کہ رائے دہندگان اپنی ترجیح کے لحاظ سے امیدواروں کو درجے دیں۔ فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ سسٹم میں رائے دہندگان ایک عہدے کے لیے صرف ایک امیدوار کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ پارٹی لِسٹ سسٹم میں امیدواروں کی فہرست کھلی یا بند ہوسکتی ہے۔ امریکا کی سیاسی تاریخ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ اس میں طویل اور چھوٹے بیلٹ استعمال ہوتے رہے ہیں۔ 

وہاں خانہ جنگی (سِول وار) سے قبل بہت سے افراد کی سوچ یہ تھی کہ فعال عہدوں کی تعداد بڑھا کرجمہوریت کی بنیادیں وسیع کی جاسکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ریاست کی سطح پر وزیر، کنٹری سرویئر، رجسٹر آف ڈیڈز، کنٹری کارنر اور سٹی کلرک تک کے عہدے انہوں نے اپنی فہرست میں شامل کیے تھے۔ چناں چہ اتنے زیادہ افراد کے انتخاب کے لیے طویل بیلٹ کی ضرورت تھی، لیکن اس سے ابہامات اور مسائل پیدا ہوگئے تھے۔ پھر وہاں ترقی پسندوں نے اپنے دور(1893ء ۔1917ء) میں اس معاملے پر آواز اٹھائی تھی۔ لہٰذا آج بیلٹ ریفارم کی اصطلاح بعض اوقات ان کوششوں کی جانب اشارہ کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو منتخب عہدے داروں کی تعداد کم کرنے کے لیے کی گئی تھیں۔

بیلٹ کا ڈیزائن انتخابی عمل میں ابہامات پیدا یا ختم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے انتخابات میں اسے بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ ابہام کی وجہ سے رائے دہندگان اپنی رائے کے اظہار میں غلطی کرسکتے ہیں۔ امریکا میں 2000ء کے انتخابات میں جو بیلٹ استعمال ہوا اسے بٹر فلائی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے بیلٹ میں دونوں جانب نیچے کی طرف نام ہوتے ہیں اور ایک کالم میں درمیان میں پنچ ہول ہوتے ہیں۔ اس بناوٹ کی وجہ سے وہاں بڑے پیمانے پر بیلٹ میں غلط نشانات لگنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ روس میں 2011ء میں ہونے والے ڈوما کے انتخابات میں لسٹ بیلٹ استعمال ہوا تھا جس میں سیاسی جماعتوں کی فہرست تھی۔ بعض پولیٹیکل سائنٹسٹس کہتے ہیں کہ پے چیدہ انداز کے بیلٹ کی وجہ سے انتخابی اصلاحات کا نعرہ لگتا ہے۔

رائے کا اظہار کرنے کے بعد لوگ بیلٹ جس ڈبے میں ڈالتے ہیں وہ بیلٹ باکس کہلاتا ہے جو پولنگ اسٹیشن میں رکھا ہوتا ہے۔ تاہم بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں انہیں گھر لے جانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ مثلاً آئرلینڈ، اطالیہ اور روس میں جن لوگوں کے لیے پولنگ اسٹیشن جانا ممکن نہیں ہوتا ان کے لیے بیلٹ باکس گھر تک پہنچایا جاتا ہے۔ جن ممالک میں بیلٹ پیپر کافی طویل ہوتا ہے وہاں اسے بیلٹ باکس کے اندر پہنچانے کے لیے فیڈر میکانزم استعمال کیا جاتا ہے۔ 

انتخابی عمل کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنانے کے لیے دنیا بھر میں جاری اصلاحات کے نتیجے میں اب بہت سے ممالک میں شفاف بیلٹ باکس استعمال کیے جاتے ہیں۔ بیلٹ باکس کی بناوٹ اور شکل کے مراحل مختلف زمانوں میں طے ہوئے۔ ان کی ابتدائی شکل بنانے کا کام مٹّی سے شروع ہوا۔ پھر انہیں لوہے سے بنایا جانے لگا اور اب بہت سے ممالک میں (بہ شمول پاکستان) یہ پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں۔ تاہم بعض ممالک ایسے بھی ہیں جہاں اب پیپر بیلٹ استعمال ہوتا ہے اور نہ بیلٹ باکس، کیوں کہ وہاں اب الیکٹرانی طریقے سے رائے کا اظہار کیا جاتا ہے۔

عیاں اور پوشیدہ طریقہ رائے دہندگی

انتخابات میں رائے دہندگی کے دنیا میں دو طریقے رائج ہیں۔ اول عیاں، دوم پوشیدہ۔ جدید تاریخ میں برطانیہ میں پہلی مرتبہ 15 اگست 1872ء کو پوٹن فریکٹ میں خفیہ رائے شماری کی گئی تھی جس میں بیلٹ پیپر اور بیلٹ باکس استعمال ہوئے تھے۔ اسی زمانے میں وہاں بیلٹ ایکٹ متعارف کرایا گیا تھا۔ ان بیلٹ باکسز کو موم سے سر بہ مہر کیا گیا تھا اور LIQUORICE (ملٹھی) کی مہر لگائی گئی تھی۔ 

واشنگٹن ڈی سی میں پہلے وفاقی انتخابات میں گتّے سے بنے بیلٹ باکس استعمال کیے گئے تھے۔ شمال مشرقی امریکا میں 1870ء میں جاری کش مکش کے دوان استعمال ہونے والے بیلٹ باکس لکڑی سے بنے ہوئے تھے۔ کیلی فورنیا میں 1936ء میں استعمال ہونے والے بیلٹ باکس گیلوینائزڈ دھات سے بنائے گئے تھے۔ امریکا میں 1884ء میں استعمال ہونے والے بیلٹ باکس شیشے سے بنے ہوئے تھے۔

انیسویں صدی کے زیادہ تر عرصے میں مغربی ممالک میں پیپر بیلٹ کی طباعت اور ان کی تقسیم کا کام سیاسی جماعتوں کے کنٹرول میں تھا جنہیں پارٹی ٹکٹ کے نام سے شہرت ملی۔ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں اس کام کے لیے استعمال ہونے والے کاغذ کے سائز، موٹائی اور رخ کے بارے میں ریاستوں نے قوانین بنائے تھے۔ باقی معاملات سیاسی جماعتوں کی صوابدید پر چھوڑ دیے گئے تھے۔ اس کے نتیجے میں وہاں بیلٹ کی مختلف اشکال اور اقسام سامنے آگئی تھیں اور ان کے ذریعے ابہامات اور جعل سازی کے دروازے کُھل گئے تھے۔ یہ مسائل حل کرنے کے لیے وہاں گزرتے وقت کے ساتھ انتخابی اصلاحات کی گئیںاور آج وہاں ان مسائل پر قابو پالیا گیا ہے۔

انتخابات میں جعل سازی اور دھاندلی کی شکایات نئی نہیں بلکہ بہت پرانی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل امریکا میں بھی اس بارے میں آوازیں اٹھی تھیں۔ وہاں بعض حلقوں نے ری پبلکن پارٹی پر الزام لگایا تھا کہ اس نے فلوریڈا سے پنسلوانیاتک اقلیت کے ووٹ کی طاقت کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ آواز اٹھانے والے صرف سیاہ فام نہیں تھے بلکہ ان سے آواز ملانے والے بہت سے سفید فام بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیموکریٹس کے حامی اضلاع میں شناختی کارڈ کی اور دیگر پابندیاں لگا کر اس جماعت کے حامیوں کی طاقت کم کرنے کی کوشش کی گئی۔

ان کے بہ قول 1960ء کے عشرے میں بھی جنوبی علاقوں میں ایسا کیا گیا تھا۔ ایسے اقدامات کے خلاف امریکا کی بعض اعلیٰ عدالتوں میں مقدمات بھی دائر کیے گئے تھے جن کے فیصلوں میں اس بارے میں بعض رہنما اصول وضح کیے گئے تھے۔ 1966ء میں امریکا کی سپریم کورٹ نے اس بارے میں آخری رکاوٹیں بھی ختم کردی تھیں اور اس کے بعد وہاں ووٹنگ رائٹ ایکٹ منظور کرلیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہاں سیاہ فاموں اور کم تعلیم یافتہ افراد کے ووٹ دینے کے حق کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم ہوگئی تھیں۔

آج کل دنیا بھر میں عام انتخابات اور ریفرنڈم میں رائے دینے کا جو طریقہ رائج ہے وہ خفیہ اظہارِرائے کہلاتا ہے۔ اس طریقے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ رائے دہندہ بلا خوف و خطر کسی امیدوار کے حق یا مخالفت میں اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر رائے کا اظہار کرسکے اور کوئی امیدوار کسی رائے دہندہ کو دباؤ یا لالچ کے تحت اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور نہ کرسکے۔ طباع شدہ فارم کے ذریعے انتخابات میں اظہارِ رائے کا یہ خفیہ طریقہ آسٹریلین بیلٹ بھی کہلاتا ہے، کیوں کہ وہاں یہ پہلی مرتبہ 1850ء کی دہائی میں استعمال ہوا تھا۔ امریکا میں اسے میساچوسٹس بیلٹ کہا جاتا ہے، کیوں کہ وہاں پہلی مرتبہ یہ طریقہ ریاست می ساچوسٹس میں استعمال کیا گیا تھا اور 1892ء سے وہاں یہ طریقہ تمام ریاستوں میں استعمال ہونے لگا تھا۔ 

تاہم تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ خفیہ اظہارِ رائے کا طریقہ سب سے پہلے یونانیوں نے اپنایا تھا اور وہاں اسے مختلف مواقع پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی طرح روم کی سلطنت دنیا کی وہ پہلی سلطنت تھی جس نے سب سے پہلے یعنی 139 قبلِ مسیح میں انتخابات سے متعلق قوائد و ضوابط ترتیب دیے تھے۔ فرانس کے 1795ء کے آئین کا آرٹیکل نمبر 31کہتاہے:’’تمام انتخابات خفیہ اظہارِرائےکے طریقے کے تحت ہوں گے ۔ ‘‘ یہ ہی بات 1848ء کا آئین بھی کہتا ہے۔ یہ آئین کہتا ہے کہ رائے دہندہ اپنے پسندیدہ امیدوار کا نام بیلٹ پیپر پر اپنے گھر میں لکھے گا اور ایسا سفید کاغذ کے ٹکڑے پر کیا جائے گا۔ پھراس کاغذ کو تہہ کیا جائے گا تاکہ دیگر افراد کاغذ پر لکھے گئے نام کو نہ دیکھ سکیں۔

قوانین، قواعد اور مشاورت

دنیا میں بیلٹ باکس اور بیلٹ پیپر کے حجم، شکل، رنگ اور انداز کے بارے میں طرح طرح کے قوانین اور قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ مختلف ممالک میں یہ قانون، قاعدے حکومتیں، حزبِ اختلاف کے ساتھ طویل مشاورت اور غورو خوض کے بعد بناتی ہیں۔ اس ضمن میں سب سے اہم نکتہ پوری آزادی کے ساتھ لوگوں کی جانب سے رائے کے اظہار کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ انتخابی عمل کی شفّافیت کو یقینی بنانے کا ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں اس ضمن میں بہت زیادہ پیش رفت کی جاچکی ہے اور وہاں الیکٹرانک ووٹنگ کا طریقہ رائج ہوگیا ہے۔ 

ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں بھی ایسی مشین کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اس مشین کی وجہ سے بیلٹ پیپر کی طباعت، منتقلی اور حفاظت کرنے کے اخراجات ختم ہوگئے ہیں۔ اسی طرح بیلٹ باکس بنانے، انہیں منتقل کرنے اور ان کی حفاظت کرنے کے اخراجات بھی ختم ہوگئے ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ کی وجہ سے ووٹس کی گنتی میں صرف ہونے والا وقت اور رائے کے اظہار کا وقت کافی کم ہوگیا ہے۔ جن ممالک میں آج بھی بیلٹ باکس استعمال ہو رہے ہیں ان میں سے بعض میں شفاف پلاسٹک سے بنے ہوئے بیلٹ باکس کا استعمال لازم ہے۔ یہ باکسز رائے دہندگان کی تعداد کو مدنظر رکھ کر بنائے جاتے ہیں۔ 

پھر یہ اہتمام کیا جاتا ہے کہ ایک بار یہ باکس سر بہ مہر کردیا جائے کو اسے مہر توڑے بغیر کھولانہ جاسکے۔ ان کا وزن ایسا ہوتا ہے کہ انہیں آسانی سے ایک سے دوسرے مقام پر منتقل کیا جاسکے۔ حتیٰ کہ بعض ممالک میں ان باکسز پر لگائی جانے والی مہر یا تالے کی شکل، قسم اور اس کی تیاری کے مواد کے بارے میں بھی قواعد و ضوابط موجود ہیں۔ بعض ممالک میں ان پر منفرد انداز کے کوڈ بھی ڈالے جاتے ہیں تاکہ گنتی کے وقت کوئی جعل سازی ممکن نہ ہوسکے۔ آج کل بہت سے ممالک میں (بہ شمول پاکستان) بیلٹ باکس کو سر بہ مہر کرنے کے لیے پلاسٹک کی مخصوص سیل استعمال کی جاتی ہے جسے توڑے بغیر کھولنا ناممکن ہوتا ہے۔