• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم کو نئے چیف سیکرٹری پنجاب نے نئی طرز حکمرانی کا خاکہ پیش کردیا

اسلام آباد (انصار عباسی) وزیراعظم عمران خان کو دی جانے والی پریزنٹیشن میں پنجاب کے نئے چیف سیکریٹری نے ’’نئی طرز حکمرانی کے نمونے‘‘ کے حوالے سے اپنا ویژن پیش کیا اور اُن مسائل کی نشاندہی کی جو صوبے میں طرز حکمرانی کو خراب کرنے کے بڑے اسباب ہیں، ان میں کرپشن کا تسلسل، مسلسل ٹرانسفر پوسٹنگ، عہدے کی معیاد کے حوالے سے عدم تحفظ، غلط ٹیم کا انتخاب اور نیب کا ڈر شامل ہیں۔ 

چیف سیکریٹری نے وسیع کرپشن کو سرفہرست مسئلہ قرار دیا اور سویلین بیوروکریسی میں مسلسل ٹرانسفر پوسٹنگ کے مسئلے پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ خراب گورننس کی ایک اور وجہ غلط ٹیم کا انتخاب ہے۔ انہوں نے میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں اور افسران کے عہدوں کی معیاد کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ 

اُن کی پریزنٹیشن کے نکات، جن کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے، میں پنجاب کی سینئر انتظامیہ کی نارسائی کا ذکر کیا گیا اور اسی بات کو اور نیب کے خوف کو خراب طرز حکمرانی کی وجہ بتائی گئی ہے اور عمومی طور پر انہی باتوں کو بیوروکریسی کی عدم صلاحیت اور فیصلہ سازی کی طاقت نہ ہونے کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے۔ 

وزیراعظم کو 15؍ ستمبر کو دی گئی پریزنٹیشن میں بلدیاتی نظام کی معطلی اور اشیائے خوردنوش کی قیمتوں پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے طرز حکمرانی پر منفی اثرات مرتب ہونے کی بات بھی کی گئی ہے۔ 

انہوں نے ریونیو ایڈمنسٹریشن پر بھی توجہ مرکوز رکھی اور وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ ریونیو کے امور اور ان کے کیسز موثر انداز سے اور بروقت نمٹائے نہیں جا رہے۔ پنجاب میں ریونیو ایڈمنسٹریشن کو گورننس کیلئے ایک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔ 

چیف سیکریٹری نے اپنی پریزنٹیشن میں ترقیاتی منصوبوں کی مالکی نہ کیے جانے اور ٹیکنالوجی استعمال نہ کرنے کو بھی پنجاب میں گورننس کے بحران کی ایک وجہ قرار دیا گیا ہے۔ 

نئے چیف سیکریٹری کی جانب سے وزیراعظم عمران خان کو مسائل کے جو حل اور ترجیحات تجویز کی ہیں ان میں کرپشن اور پنجاب ایڈمنسٹریشن کی عدم صلاحیت کو ختم کرنا۔

میرٹ کی بنیاد پر تقرریوں اور قواعد کے مطابق عہدے کی معیاد پر دو سے تین سال تک افسر کو مستحکم رکھنا شامل ہیں۔ طرز عمل (کلچر) اور سوچ (مائنڈ سیٹ) کو تبدیل کرنے کیلئے چیف سیکریٹری نے اس بات پر زور دیا کہ گورننس کو ریاست کے مرکز سے تبدیل کرکے عوام کے مرکز تک لانا ہوگا تاکہ عوام کی خدمت کی جا سکے اور معاملات چلانے کیلئے عوام کی فلاح و بہبود کو ایک لازمی کام سمجھا جائے۔

اس میں شفافیت اور تیزی لانا ہوگی اور سرکاری وسائل کو بہترین انداز سے استعمال کرنا ہوگا، اختیارات کو منصفانہ طریقے سے استعمال کرنا ہوگا جس میں آزادی بھی ہو اور سخت احتساب بھی۔ 

چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ فوری طور پر توجہ کرپشن اور عدم صلاحیت کے خاتمے، ترقیاتی کاموں میں تیزی اورترجیحی پروجیکٹس کو پہلے مکمل کرنے، موثر انداز سے خدمات کی فراہمی اور مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہوگی۔ 

چیف سیکریٹری نے چار ہفتوں کی ڈیڈلائن دیتے ہوئے ساکھ کی بنیاد پر تقرریاں کرنے، کارکردگی دکھانے، دو سے تین سال تک کیلئے عہدے کی معیاد کے تحفظ، کارکردگی کے اہم اشاریوں (کی پرفارمنس انڈیکیٹرز)، ماتحت افسران کی کارکردگی کے جائزے کیلئے سہ ماہی بنیادوں پر درست رپورٹنگ پر مبنی احتساب، مانیٹرنگ اینڈ ایولیوشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے خدمات کی فراہمی اور ساتھ ہی سزا اور جزا کے ماڈل کا ذکر کیا۔ 

تیز رفتار ترقی کیلئے چیف سیکریٹری نے یقین دہانی کرائی کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تحت چلنے والے پروجیکٹس کو موثر انداز سے چلایا جائے گا اور ترجیحی پروجیکٹس مکمل کیے جائیں گے۔ 

مہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے چیف سیکریٹری نے انتظامی اور مارکیٹ بیسڈ اقدامات پر بات کی جن میں سپلائی چین کو سمجھنا، فارم ہول سیل ریٹل کے فرق کو کم کرنا، ناقابل فہم بین الاضلاع قیمتوں کے فرق کو کم کرنا، انتظامی پرائس کنٹرول اقدامات، کم قیمت ریٹیل میں مسابقت لانے، قانونی رکاوٹیں دور کرنے وغیرہ جیسے اقدامات کا ذکر کیا اور ساتھ ہی دو ہفتوں میں پروجیکٹ پر عملدرآمد اور فیلڈ وزٹ پر بھی زور دیا۔ 

خدمات کی موثر انداز سے فراہمی کیلئے چیف سیکریٹری نے تحصیل، ضلع اور ڈویژنل سطح پر نگرانی اور احتساب لانے کی بات کی۔ انہوں نے طے شدہ اور اچانک دوروں، کھلی کچہریوں، افسران تک عوام کی رسائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بنیاد پر حالات اور صورتحال کی نگرانی جیسے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

اہم خبریں سے مزید