• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسٹیٹ بینک نے گاڑیوں کی خریداری کیلئے قرض کی شرائط سخت کردیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر )اسٹیٹ بینک نے درآمد اور طلب کی نمو معتدل کرنے کے لیے صارفی قرضوں کے محتاطیہ ضوابط پرنظر ثانی کر دی، جمعرات کوجاری اعلامیہ کے مطابق اسٹیٹ بینک نے صارفی مالکاری کے محتاطیہ ضوابط پرنظرِ ثانی کی ہے۔ اس اقدام سے معیشت میں طلب کی نمو کو معتدل کرنے میں مدد ملے گی، جس سے درآمدی نمو سست ہوگی اور اس طرح توازنِ ادائیگی کو سہار ادیا جائے گا۔ محتاطیہ ضوابط میں ان تبدیلیوں میں درآمد شدہ گاڑیوں کے لیے قرضوں کو ممنوع قرار دیا گیا ہے اور ملک میں ایک ہزارسی سی انجن کپیسٹی سے زائد کی بنی ہوئی / اسمبل کی ہوئی گاڑیوں کے قرضوں کے لیے، اور صارفی قرضے کی دوسری سہولتوں جیسے ذاتی قرضوں اور کریڈٹ کارڈز کے لیے ضوابطی تقاضے سخت بنائے گئے ہیں۔اعلامیہ کے مطابق کے مطابق گاڑیوں کے قرضوں کی زیادہ سے زیادہ مدّت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کردی گئی ہے، ذاتی قرضے کی زیادہ سے زیادہ مدت پانچ سال سے کم کر کے تین سال کر دی گئی ہے، ڈیٹ برڈن کا زیادہ سے زیادہ تناسب جس کی قرض گیر کو اجازت ہوتی ہے، 50سے کم کر کے 40فیصد کر دیا گیا ہے، ، کسی ایک فرد کیلئے تمام بینکوں / ترقیاتی مالی اداروں سے گاڑیوں کے قرضے کی جو مجموعی حد ہے، وہ کسی بھی وقت تیس لاکھ روپے سے زائد نہیں ہوگی، اور گاڑی کے قرضے کے لیے کم از کم ڈاؤن پیمنٹ 15فیصد سے بڑھا کر 30فیصد کر دی گئی ہے۔پست آمدنی سے متوسط آمدنی تک کے طبقے کی قوتِ خرید کو محفوظ بنانے کی غرض سے، ایک ہزار سی سی انجن کپیسٹی تک کی ملک میں بنی / اسمبل کی گئی گاڑیوں پر یہ نئے ضوابط لاگو نہیں ہوں گے۔ اسی طرح یہ ملکی ساختہ الیکٹرک گاڑیوں پر بھی لاگو نہیں ہوں گے تاکہ صاف ستھری توانائی کے استعمال کو فروغ دیا جائے۔

اہم خبریں سے مزید