• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پنچایت یا مصالحتی کمیٹی کو کرائے میں کٹوتی کا اختیار حاصل نہیں

تفہیم المسائل

سوال: میں نے اپنا مکان تحریری معاہدے کے تحت یکم دسمبر2019ء کو کرایہ پر دیا ،معاہدے پر فریقین اور گواہان کے دستخط موجود ہیں ۔ 13 اپریل2021ء کو کرایہ دار نے بذریعہ پنچایت مکان کی چابی واپس کی ،کرایہ دار کہتا ہے کہ مالک مکان نے چابی7دسمبر2019ء کو دی تھی ، اس پر کرایہ دار نے حلف بھی اٹھالیا ہے ۔ پنچایت نے مالک مکان کی مرضی کے بغیر 13دن کا کرایہ معاف کردیا ، سات دن جھوٹے حلف کی وجہ سے اور چھ دن قضیہ ختم کرنے کے لیے ۔یعنی پنچایت نے مالک مکان کو13دن کے کرائے سے محروم کردیا ، کیایہ شرعاً جائز ہے ؟(طارق محمود ، ساہیوال )

جواب: فریقین اور گواہان کے دستخط کے ساتھ تحریری معاہدہ موجود ہے ،تو کسی بھی فریق سے حلف نہیں لیاجائے گا ، اجارہ مُتحقق ہوگیا اور اُن دنوں کی اجرت کرایہ دار پر لازم ہوگئی ۔یکم دسمبر2019ء کو آپ نے چابی کرایہ دار کے حوالے کی تھی، کرایہ دار کو اس مکان سے منفعت حاصل کرنے پر قدرت حاصل ہوگئی اور مالک مکان اجرت کا مستحق ہوگیا ۔

علامہ نظا م الدین ؒلکھتے ہیں:ترجمہ:’’پھر اُجرت کا استحقاق تین باتوں میں سے کسی ایک کے پائے جانے سے ہوتاہے یا توبلا تاخیر اداکرنے کی شرط ہو یا عجلت کے ساتھ اداکردے یا جس منفعت کے لیے اجارہ کیاہے ،وہ منفعت حاصل کرلے ،پس جب ان تین باتوں میں سے کوئی بات پائی گئی تو مُؤجِر(مکان یا دکان کا مالک یعنیLand Lord) اُجرت کا مالک ہوگیا ،جیساکہ ’’شرح الطّحاوی ‘‘ میں ہے اور جس طرح منفعت حاصل کرلینے سے اجرت واجب ہوتی ہے ،اسی طرح منفعت حاصل کرنے کی قدرت پائے جانے سے بھی واجب ہو جاتی ہے ،بشرطیکہ اجارہ صحیح ہو ،حتیٰ کہ اگر کسی شخص نے کوئی دکان یا مکان کسی معلوم مدت کے لیے کرایہ پر لیا ،اس مکان یا دکان میں اس مدت تک نہ رہا،حالانکہ وہ اس پر قادر تھا(یعنی کوئی مانع نہ تھا)،وہ رہ سکتاتھا تو کرایہ واجب ہوگا ،’’محیط ‘‘ میں اسی طرح ہے، (فتاویٰ عالمگیری ،جلد4، ص:413)‘‘۔

اگر آپ کا بیان درست ہے، تو پنچایت کا فیصلہ خلافِ شرع ہے، پنچایت کوہرگز یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی حق دار کو اُس کے حق سے محروم کردے،کرائے دار کوبھی خوفِ خدا کرنا چاہیے کہ ظلماً اور ناحق مالک مکان کاحق غصب نہ کرے ۔

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

tafheem@janggroup.com.pk