• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کشمیر پر پاکستان کی تازہ کاوشوں کا خیرمقدم کرتے ہیں، حاجی قربان

لوٹن(شہزاد علی) کشمیر سالیڈیرٹی کمپین لوٹن کے کوار ڈی نیٹر اور چیئرمین لوٹن اسلامک کلچرل سوسائٹی سنٹرل ماسک حاجی چوہدری محمد قربان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی تازہ کاوشوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ اینٹونی بلنکن کے ساتھ اپنی پہلی ملاقات کے علاوہ دیگر کاوشیں قابل تحسین اور خوش آئند ہیں، انہوں نے کہا کہ پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کی بھرپور ترجمانی کی ہے اور بھارت کے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر اور بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کی سعی کی، دنیا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی آواز کو سنے اور بھارت کے مظالم بند کرانے کے لئے کردار ادا کرے ،سپر پاورز اپنا دہرا معیار ترک کرے، مغربی ممالک جس طرح چین میں ہونے والی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرتے ہیں وہ بھارت کے اندر بسنے والے اقلیتوں پر ظلم اور بھارت کے زیر قبضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ اور کشمیری مسلمانوں پر انتہائی درجے کے مظالم پر چشم پوشی کا مظاہرہ کیوں کرتے ہیں، انہیں یہ ڈبل معیار ختم کرنا ہوگا اور کشمیر پر پاکستان اور کشمیری عوام کی آواز اور مطالبات جو 100 فیصد حق پر مبنی ہیں، پر کان دھرنا ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ اوورسیز کشمیری ڈائسفرا اور کشمیری سالیڈیرٹی کمپین لوٹن پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی نیویارک میں بات چیت کو ایک مثبت پیش رفت سمجھتی ہے ۔ ہم شاہ محمود قریشی کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر او آئی سی کے ایک غیر رسمی اجلاس میں بھی کشمیر کا پیغام پہنچانے کا خیرمقدم کرتے ہیں، برطانیہ میں اراکین پارلیمنٹ کی طرف سے بھی کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کا خیرمقدم کرتے ہیں تاہم برطانوی پارلیمنٹ میں جب چینی سفیر کو اگر اس لیے اندر جانے کی اجازت سے انکار کیا گیا کہ چین مبینہ طور پر بین الاقوامی پروٹوکول اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے تو انہی وجوہات کی بنا پر بھارتی سفیر کو بھی اسی طرح کے اقدامات کا سامنا کرایا جائے لیکن برطانوی حکومت بھارت کے معاملے میں دہرے معیار کو اپنائے ہوئے ہے ،برطانیہ کے کشمیری اس دہرے معیار کے خاتمے کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو یہ علم بھی ہونا چاہیے کہ کشمیری عوام کے نمائندوں نے پاکستان بننے سے پہلے ہی ریاست جموں کشمیر کے الحاق کا فیصلہ پاکستان کے ساتھ کرنے کی قرارداد منظور کی ہوئی ہے، کشمیری باشندے کسی بھی صورت میں بھارت کے ساتھ رہنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے ،اس لیے عالمی برادری پاکستان جو کشمیری عوام کا وکیل ہے اس کا ساتھ دے۔
یورپ سے سے مزید