• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

دورے کی منسوخی، پاکستان کا مقدمہ انگلینڈ میں لڑا جارہا ہے

رمیز راجا کے پی سی بی چیئرمین بننے کے ساتھ ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کو نیوزی لینڈ اور انگلینڈ نے بحران سے دوچار کردیا ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم سیکیورٹی کا بہانہ بناکر بھاگ گئی۔ انگلینڈ نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کا دورہ منسوخ کردیا۔ ایک ہفتے کے دوران رمیز راجا نے جس طرح پاکستان کا کیس لڑا ہے اس کی وجہ سے انگلش کرکٹ بورڈ دبائو کا شکا ر ہے۔ انگلینڈ کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن، ڈیوڈ گاور اور کئی بڑے رائٹرز پاکستان کے حق میں لکھ رہے ہیں پہلی بار پاکستان کا مقدمہ انگلینڈ میں لڑا جارہا ہے۔

مائیکل ایتھرٹن نےکہا کہ انگلش کرکٹ بورڈ کو اپنی بزدلانہ خاموشی توڑنی ہوگی۔ اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ جارحانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہےدوسری جانب رمیز راجا ان کوششوں میں مصروف ہیں کہ ویسٹ انڈیز، آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ٹیموں کو مستقبل میں پاکستان آنا ہے ان ٹیموں کے انکار کی صورت میں متبادل پلان بنایا جائے اور دوسری ٹیموں کو تیار کیا جائے۔ ایسے میں جبکہ غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے انکار کررہی ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان ٹیم کو مدعو کرکے انہیں تھپکی دی اور کہا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے دوسری ٹیموں کے لئے مثال بن جائیں۔عمران خان، بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی سے زیادہ بات چیت کرتے رہے۔

بابر اعظم کو انہوں نے کپتانی کے گر بتاتے ہوئے کہا کہ یہی وہ کھیل ہے جس میں کپتان کا کردار زیادہ ہوتا ہے۔فخر زمان کانام سن کر وہ کہنے لگے تم فخر زمان ہو۔ عمران خان نے کہا کہ کھلاڑیوں کو سب سے پہلے اچھا انسان بننے کی نصیحت کی اور ان سے کہا کہ کہا پیسے کے بت کو توڑنا ہے کیوں کہ رزق اللہ دیتا ہے۔ عمران خان نے کھلاڑیوں سے کہا کہ کرکٹ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ ملک کے لیے کھیلنی ہے اور عزت و ذلت اللہ پر چھوڑ کر گراؤنڈ میں اچھا پرفارم کریں جب کہ مشکل وقت میں ہارنے سے نہیں گھبراناہے نہ ہی کسی کے دبائومیں آنا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی پر کوئی بات نہیں کی بلکہ انہیں ملک کا سفیر اور کرپشن سے پاک دلیر کرکٹر بننے کی تلقین کی۔ وزیر اعظم نے ٹیم میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ٹیم کو فیلڈنگ میں بہتری کی بہت ضرورت ہے جب کہ وزیراعظم نے بولروں کو ٹپس دیں کہ صرف اسکور نہیں بچانا بلکہ وکٹیں بھی لینی ہیں۔عمران خان سے ملاقات کو کھلاڑی یادگار قرار دیتے ہیں اور ان کے مشوروں سے کرکٹرز ورلڈ کپ میں دہماکہ خیز کارکردگی دکھانے کا عزم بھی کرسکتے ہیں۔ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی یقینی طور پر اہمیت کی حامل ہوگی۔کیوں کہ پڑوسی ملک نے سازش کرکے پاکستان کرکٹ کو مشکل میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان میں نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے دورے منسوخ ہونے سے کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ کرکٹ کے سربراہ کہہ چکے ہیں کہ خطرے کی بنیادی نوعیت کے بارے میں وہ پاکستانی کرکٹ بورڈ کو آگاہ کر چکے ہیں تاہم اس کی مخصوص تفصیلات نہ بتائی جا سکتی تھیں، نہ بتائی جائیں گی۔ نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے اپنی ٹیم کو پہلے ون ڈے انٹرنیشنل شروع ہونے کے محض چند گھنٹے پہلے دستبردار کروا کر وطن واپس بلانے کا جو حیران کن فیصلہ کیا تھا اس کا سبب اس نے اپنے کھلاڑیوں کو ملنے والی دھمکیوں (سکیورٹی تھریٹس) کو قرار دیا تھا لیکن انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے فیصلے کا تعلق کسی طور بھی سکیورٹی خدشات سے نہیں ہے۔ 

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے انٹرنیشنل میچوں کے لیے اپنی مردوں اور خواتین ٹیموں کو پاکستان نہ بھیجنے کے بارے میں جو مؤقف اختیار کیا ہے اس کا تعلق ’بائیو سکیور ببل‘ اور کھلاڑیوں کی ذہنی صحت سے متعلق ہے۔نگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے اپنے اخباری کالم میں انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ کے پاس صحیح فیصلہ کرنے کا موقع تھا۔ اس کے پاس پاکستان کرکٹ کا قرض چکانے کا موقع تھا لیکن اس نے غلط فیصلہ کیا۔

مائیک ایتھرٹن نے یہ بھی یاد دلایا کہ اگر بات کووڈ کی ہے تو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ جولائی میں کووڈ کی وجہ سے انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنے سے قاصر تھی تو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے دوسری تیسری ٹیم میدان میں اتار دی تھی۔ کیا ایسا اس مرتبہ نہیں ہو سکتا تھا؟

مائیک ایتھرٹن نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس وقت سلیکٹرز کہاں ہیں؟ کیا پاکستان کے دورے کے لیے 14 کھلاڑی ملنا مشکل تھے؟ایتھرٹن کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے جب گذشتہ سال انگلینڈ کا دورہ کیا تھا تو اس وقت انگلینڈ کووڈ کی وجہ سے اموات کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا تیسرا خطرناک ملک تھا اس کے باوجود پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے دورے پر آئی تھی۔

رمیز راجا نے بھی جارحانہ انداز میں ٹیسٹ کھیلنے والے ملکوں اور آئی سی سی کو خبردار کیا ہے کہ اب ایسا نہیں چلے گا۔ رمیز راجا کا کہنا ہے کہ ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں جاننا چاہتی ہیں کہ نیوزی لینڈ کو دھمکی کس نے دی تھی۔بدقسمتی سے ہماری دوستی اور جذبات کی قدر نہیں کی گئی۔ اگر آئی سی سی نے اس مسئلے کا حل تلاش نہیں کیا تو اس کے اثرات خطرناک ہوں گے۔ ہوم سیریز نیوٹرل وینیو پر کھیلنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اورنہ ہی ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ میچ کا بائیکاٹ کریں گے۔

اب کسی کے ہاتھ سے اپنی قسمت کے فیصلے نہیں کرائیں گے۔اگر دنیا سے رشتے ناطے توڑ دیں گے تو اس سے پاکستان کرکٹ کو کیا فائدہ ملے گا۔میں روایتی چیئرمین نہیں ہوں اور چاہتا ہوں کہ آئی سی سی میٹنگ میں تعمیری فیصلے ہوں۔ ہمیں بغیر کسی غلطی کے سزا مل رہی ہے۔ خود دار قوم کی حیثیت سے با وقار انداز میں آگے بڑھیں گے۔ اپنی خودداری اور کرکٹ کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔میں نے ای سی بی چیئرمین کو بتادیا ہے کہ آپ نے ہمیں استعمال کرکے کچرے دان میں پھینک دیا ہے۔ہم سخت لائن لیں گے ، کسی کے ہاتھ میں اپنی قسمت نہیں دیں گے۔

رمیز راجا نے کہا کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے دورے منسوخ ہونے کے تمام معاملات آئی سی سی میں اٹھانے ہیں، ایسی کون سی تھریٹ تھی کہ وہ ایک دم بھاگ گئے، انہیں بتانا پڑےگا، ہمارے جذبات کی قدر نہیں کی گئی ہے، ہمیں کوئی بلاک ایسا نہیں بنانا لیکن جو لوگ ہمارے ساتھ ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے۔ 

رمیز راجا نے کہا کہ انگلینڈ کا فیصلہ متوقع تھا، بدقسمتی سے مغربی بلاک اکٹھا ہوجاتا ہے، ہم ایشیائی بلاک بنائیں گے، ہماری جانب سے مخالفین کا مقابلہ کرنے اور کوئی رعایت نہ دینے کا عزم کیا گیا ہے۔ ہم بھی وہاں تک جائیں گے جہاں تک ہمارا فائدہ ہے، صورتحال کا سب کو علم ہے، یہ کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے ،ہمارے لیے اب تک سبق ہی سبق ہے، پتہ چل رہا ہے کہ کون دوست ہے، کون ساتھ کھڑا ہے۔

انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ چیف سے بات کی، ہمیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہونا ہمیں ایک ساتھ آگے بڑھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے لیے ایک مصروف ترین کرکٹ سیزن تھا،ہم نے یہاں پہنچنے کے لیےبڑی محنت کی، لیکن اس کی قدر نہیں کی گئی جس کا دکھ ہے، صورتحال سمجھنے کی کوشش کریں، ایک دوسرے پر الزام لگانےکا وقت نہیں ہے۔ بلاشبہ رمیز راجا کا جارحانہ انداز پاکستان کرکٹ کو بلندیوں کی جانب لے جاسکتا ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ٹیم بھی اسی جارحانہ انداز میں کارکردگی دکھائے اور22کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کی ترجمانی کرے۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید