• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

رمیز راجہ مکمل اختیارات کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کے خواہش مند

11جولائی2019کو برمنگھم کے ایجبسٹن گراونڈ میں ورلڈ کپ سیمی فائنل میں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے دی اور ہرجانب میزبان ٹیم کی جیت کا جشن منایا جارہا تھا اسی شور اور ہنگامے میں سے میں نے میڈیا سینٹر سے باہر نکل کر سڑک کراس کی اور بمشکل چار منٹ کی واک کے بعد ایک کافی شاپ میں داخل ہوا جہاں وسیم خان میرے منتظر تھے۔شاپ کھلی ہوئی تھی لیکن کافی ختم ہوچکی تھی۔صبح لندن سے برمنگھم آتے ہوئے ٹرین میں میری وسیم خان سے فون پر بات ہوئی تھی اور انہوں نے میچ کے بعد اسی کافی شاپ میں ملاقات کا وقت دیا تھا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر جو بعد میں طاقتور چیف ایگزیکٹیو آفیسر بن گئے وہ تپاک سے ملے اور اپنے مستقبل کے پلان بتاتے ہوئے مجھے حیران کرگئے۔انہوں نے واضع طور پر بتایا کہ وہ پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں اپنی نئی انتظامی ٹیم لائیں گے۔وہ نہیں چاہتے کہ سبحان احمد اور ذاکر خان جیسے بااثر لوگ ہیڈ کوارٹر میں رہیں اور میرے لئے مشکلات پیدا کریں۔سبحان احمد تین دہائیوں سے پی سی بی میں کام کررہے تھے اور چیف آپریٹنگ آفیسر بن کر لگ رہا تھا کہ شائد ان کے بغیر بورڈ نہیں چلے گا۔

ذاکر خان کا تذکرہ آیا تو میں نے انہیں کہا کہ وسیم صاحب ایسا نہ کیجئے گا ورنہ شائد آپ کو بھی پی سی بی میں جگہ برقرار رکھنے میں مشکل پیش آئے بلکہ آپ کی چھٹی بھی ہوسکتی ہے۔ وسیم خان ایجبسٹن گراونڈ کے پاس موزلے کے علاقے میں رہتے ہیں اسی علاقے میں سابق کپتان مشتا ق محمد اور فرسٹ کلاس کرکٹر حارث خان کا بھی گھر ہے۔اٹک کرکٹ گراونڈ بھی موزلے میں واقع ہے۔ کئی بار برمنگھم آنے کی وجہ سے میں اس علاقے سے بخوبی واقف تھا۔

ایک گھنٹے طویل نشست کے بعد وسیم خان نے مجھے اپنی گاڑی میں نیو اسٹریٹ ریلوے اسٹیشن ڈراپ کیاجہاں سےمجھے لندن کے لئے ٹرین پکڑنا تھی۔سارے راستے میں سوچتا رہا کہ وسیم خان پی سی بی کی ہیوی ویٹ شخصیات کو کس طرح سیٹ اپ سے باہر کریں گے۔اس سے قبل ایک بار دبئی اسٹیڈیم میں جب وسیم خان سے ملاقات ہوئی تھی اس ملاقات میں کئی اور صحافی موجود تھے میں نے اس وقت وسیم خان کی ایک بات سے شدید اختلاف کیا تھا کہ آپ کرکٹ کے قابل ایڈمنسٹریٹر ضرور ہیں لیکن آپ کو ہماری کرکٹ کی اندرونی سیاست اور باریکیوں کا علم نہیں ہے۔

وہ بر ملا کہتے رہے کہ میں ہر چیز جانتا ہوں آپ فکر نہ کریں۔ پھر وسیم خان نے پی سی بی ہیڈ کوارٹر میں ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تو کوئٹہ میں ہونے والی گورننگ بورڈ کی میٹنگ میں نعمان بٹ اور ان کے ساتھیوں نے وسیم خان کو آنسووں سے رلا دیا۔ وسیم خان کا خیال تھا کہ میرے خلاف سازش سبحان احمد نے تیار کی ہے۔ یہیں سے سبحان احمد کےگھر جانے کے فیصلے پر مہر لگ گئی۔سبحان احمد،مدثر نذر،انضمام الحق،مکی آرتھر، سرفراز احمد، ڈاکٹر سہیل سلیم ،سمیت درجنوں بڑے ناموں کو وسیم خان نے گھر بھیج دیا اور اپنی پسند کی انتظامی ٹیم لاکر سیاہ اور سفید کے مالک بن گئے۔

راقم الحروف وسیم خان کو سندھی ٹوپی اور اجرک پہنتاتے ہوئے
راقم الحروف وسیم خان کو سندھی ٹوپی اور اجرک پہنتاتے ہوئے

احسان مانی بظاہر تو آئی سی سی کے صدر رہ چکے تھے لیکن انہوں نے پاکستان کی پوری کرکٹ وسیم خان کے حوالے کردی۔وسیم خان ایک ماہر بیٹسمین کی طرح اسٹروک کھیل کر اپنی اننگز کو مستحکم کرتے رہے لیکن پاکستان کرکٹ نیچے آتی گئی۔ ایجبسٹن کی کافی شاپ سے دبئی اسٹیڈیم کے میڈیا سینٹر تک میری وسیم خان سے کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ برطانیہ سے ضرور آئے تھے لیکن شائد انہیں میڈیا ہیڈلنگ کا بالکل تجربہ نہیں تھا۔ وہ کئی صحافیوں کے نام لے ان کی کردار کشی کرتے تھے اور کئی بار اخلاقیات کی تمام حدیں عبور کرکے گالی گلوچ سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔

میرے ان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہوسکے دراصل ان کے مشیروں میں کچھ یو ٹیوبرز اور بعض ٹوئیٹر کے لوگ تھے۔انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ صحافی اور یوٹیوبرز میں کیا فرق ہے۔ کئی بار وہ صحافیوں کی کردار کشی کرتے تھے اور کئی بار انہیں کیریکٹر سرٹیفیکٹ بھی دیتے تھے۔وہ ٹی وی پر آکر کہتے تھے فلاں صحافی بہت اچھے ہیں اور فلاں صحافی بلیک میلر ہیں۔ وہ کئی بار احسان مانی کے کام کرنے کے انداز پر میڈیا کو کہانیاں بتاتے تھے اور بر ملا کہتے تھے کہ احسان مانی رات رات بھر جاگ کر فیصلے کرتے ہیں اور گالیاں مجھے پڑتی ہیں۔

انہیں اردو پڑھنا نہیں آتی تھی نہ وہ پاکستانی ٹی وی چینل دیکھتے تھے لیکن ان کے مشیر انہیں پاکستانی اخبارات کی خبریں پڑھ کر سناتے اور ٹی وی کلپ بھیجتے تھے۔ یو ٹیوب پر ایک خاتون اور ان کے شوہر کو انٹر ویو میں وسیم خان نے میڈیا کی خوب کردار کشی کی۔پانچ جون کو میرا ان سے آخری رابطہ واٹس ایپ پر ہوا تھا واٹس ایپ پر وہ ایک بار پھر رعونت اور اقتدار کے نشے میں پاگل دکھائی دیتے ہوئے دہمکیاں دے رہے تھے اور اخلاقیات سے گری باتیں کررہے تھے۔

میرے پاس ان کے واٹس ایپ پر لکھے پیغام اور کچھ آڈیو پیغامات موجود ہیں جس کا تفصیلی تذکرہ اپنی کتاب میں کروں گا۔ وسیم خان خود ہی میڈیا کو خبریں لیک کرتے تھے اور پھر یہ بھی کہتے تھے کہ میڈیا خبریں نہ ملنے پر انہیں بلیک میل کررہا ہے۔جون کے بعد میرا ان سے کبھی رابطہ نہیں ہوا حالانکہ کچھ لوگ چاہتے تھے کہ میں ان سے مل لوں۔ وسیم خان ا قتدار کے نشے میں غلط اسٹروکس کھیلتے کھیلتے وہ خود سسٹم سے باہر ہوگئے لیکن وسیم خان کو پاکستان کرکٹ کا مسیحا اور سپر مین بنانے والوں کو شائد اس بات کا جواب تاریخ دے گی کہ وہ تباہی کرکے واپس برطانیہ روانہ ہورہے ہیں۔

حالانکہ انہیں مزید دو سال کی توسیع دینے کی مہم بھی چلائی گئی تھی اور وہ خود بھی مزید کام کرنے کے خواہش مند تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ سے جانے کے بعد وسیم خان نے سوشل میڈیا پر اپنی کوتاہیوں اور میڈیا سے خراب تعلقات کا اعتراف کیا۔ کہتے ہیں کہ بد قسمتی سے پاکستان کرکٹ کے ساتھ میرا سفر ختم ہوگیا ۔میں نے بطور برطانوی تین سال قبل پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تھا۔میرا مقصد 22کروڑ کرکٹ کی دیوانی قوم کے لیے کھیل کی بہتری میں اپنا حصہ ڈالنا تھا ۔

انٹرنیشنل کرکٹ کی واپسی اور کرائسز مینجمنٹ سے نمٹنے کے لیے راتوں کو جاگ کر کام کیا ۔پاکستان کرکٹ میری روح میں گھل مل گئی ہے ۔مجھے فخر ہے میں بھی تاریخ کا چھوٹا سا حصہ بن گیا ہوں ۔ چند ہفتوں بعد میں لاہور سے انگلینڈ روانہ ہو جاؤں گا ۔پاکستانی شائقین کی محبت اور حمایت کے علاوہ میں کچھ مس نہیں کروں گا ۔پاکستان، لوگوں سے پیار کرنے والا ملک ہے۔ مجھے فخر ہے کہ میں نے پاکستانی عوام کی خدمت کی۔ میڈیا اسکروٹنی کے باوجود پاکستان کرکٹ کے لیے ایماندارانہ طور پر فیصلے کرنے کی کوشش کی۔ وسیم خان کے پاکستانی میڈیا سے تعلقات اس قدر خرب تھے کہ ملک کے تمام بڑے پریس کلب ،یونین آف جرنلسٹ اور پاکستان اسپورٹس رائٹرز فیڈریشن نے ان کے خلاف مذمتی قرار دادیں پاس کیں تھیں۔

ان سے صحافیوں کے خلاف گندی زبانی استعمال کرنے پر معافی کا مطالبہ کیا تھا پھر انہوں نے معافی بھی مانگی جون کے بعد سے وسیم خان نے ایک ورچوئل پریس کانفرنس کے علاوہ کسی پریس کانفرنس یا میڈیا ٹاک میں شرکت نہیں کی انہیں بتادیا گیا تھا کہ صحافی ان کے خلاف ناراض ہیں اس لئے میڈیا سے دور رہیں۔ حکومتی آشیرباد کے ساتھ جو بھی نیا چیئرمین قذافی سٹیڈیم میں واقع پاکستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ کوارٹر میں قدم رکھتا ہے تو یہ بات سب کو معلوم ہوتی ہے کہ اب مزید تبدیلیاں آنے والی ہیں۔

ستمبر میں رمیز راجا کے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین بننے کے بعد بھی یہ بات طے تھی کہ وہ اپنے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کریں گے۔ کچھ لوگ اپنے استعفے دیں گے، کچھ سے استعفے لیے جائیں گے، اور پھر یہ سفر اسی طرح آگے بڑھے گا جیسا کہ پہلے بھی ہوتا رہا ہے۔رمیز راجا کے چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقاریونس نے استعفیٰ دے دیا تھا پھر چیف ایگزیکٹیو آفیسر کے اہم عہدے پر فائز وسیم خان نے بھی استعفیٰ دے دیا ۔ 

وسیم خان کا استعفیٰ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے غیر متوقع معلوم نہیں ہوتا حالانکہ ان کے عہدے کی مدت میں ابھی بھی پانچ ماہ باقی تھے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین میں زیادہ اختیارات چیف ایگزیکٹیو کے پاس ہوتے ہیں لیکن رمیز راجاچیئرمین بننے کے بعد جس طرح ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے ہیں، ان کے طرز عمل اور ان کے انٹرویوز، بیانات اور ٹوئٹر سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ شاید وہ اپنے پاس مکمل اختیارات رکھنا چاہتے ہیں۔ وسیم خان 2019 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر بنے تھے۔ 

ان کی تقرری پر اس وقت کے بورڈ آف گورنرز کے کچھ ارکان نے اعتراض کیا تھا جس پر اس وقت کے چیئرمین احسان مانی کا کہنا تھا کہ یہ تقرری آئین کے مطابق کی گئی ہے۔ ان کے چیئرمین احسان مانی سے بھی اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔وسیم خان نے بائیں ہاتھ کے بیٹسمین کی حیثیت سے انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں وارِک شائر، سسیکس اور ڈربی شائر کی نمائندگی کی اور پانچ سنچریاں اور سترہ نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ وہ لیسٹر شائر کاؤنٹی کے چیف ایگزیکٹیو بھی رہے۔ 

چونکہ وہ انگلینڈ سے آئے تھے اور وہاں کے کاؤنٹی کلچر کا حصہ رہے تھے لہذا ان دو ڈھائی برسوں کے دوران وہ انگلینڈ اور دوسرے ممالک کے کرکٹ بورڈز کے حکام سے اپنا ذاتی دوستی اور تعلقات کا ذکر زورشور سے کرتے رہے تھے۔وسیم خان کے لیے سب سے بڑا دھچکہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے پاکستان کے دورے کی منسوخی تھی کیونکہ وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ یہ ٹیمیں ان کے ان کرکٹ بورڈز سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے پاکستان آرہی ہیں۔ پاکستان کرکٹ کو نیا وژن دینے کا دعوی کرنے والے وسیم خان شائد یہ بھول گئے تھے کہ ہر عروج کو زوال ہے۔ اپنے یوٹیوب چینل سے ریٹنگ حاصل کرنے والے اور ان کی ٹوئیٹر بریگیڈ ان کی رخصتی پر تعریف کا ایک لفظ بھی نہیں بول سکے۔

یہ فیصلہ تاریخ کو کرنا ہے کہ وسیم خان پاکستان کرکٹ کو کیا دے کر گئے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ تیس لاکھ روپے تنخواہ،بورڈ آف گورنرز کے رکن، کرکٹ کمیٹی کے رکن اور فائیو اسٹار لگژری کا مزہ لینے والے وسیم خان کے دور میں پاکستانی ٹیم کی کارکردگی میں تنزلی ہوئی۔ گراس روٹ پر ہونے والی تباہی نے تین سال میں کھیل کو شدید نقصان پہنچایا۔ وسیم خان اب دوبارہ برمنگھم کے علاقے موزلے میں جارہے ہیں۔ انہیں سپر مین کہنے والے تو خاموش ہیں لیکن انہوں نے ملک مقبول کھیل کو کیا فائدہ پہنچایا اس کا جواب تاریخ اور وقت ہی دے گا۔ برمنگھم میں شائد وہ پاکستا ن کی فائیو اسٹار لگژری اور وی وی آئی پی پروٹوکول کو بھول نہ سکیں؟

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید