• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب بھارتی نغمہ نگار کی انا نصرت فتح علی خان کو دیکھ کر ڈھیر ہوئی

شہنشاہِ قوالی نصرت فتح علی خان کے مداح ان کی وفات کو مدت گزر جانے کے بعد بھی ان کی زندگی کے اچھوتے لمحات کو جاننے کے لیے بیتاب رہتے ہیں۔

نصرت فتح کی قوالیوں میں روح اور دل کی ہم آہنگی کے باعث سننے والے آج بھی ان کے کلام میں کھو جایا کرتے ہیں۔ نصرت فتح کے جادو نے سرحدیں پار کیں اور بھارت میں بھی ان کے گیت اور قوالياں سر چڑھ کر بولتی ہیں۔

یہ قصہ بھی 1996 کا ہے جب وہ بالی ووڈ فلم  ’کچے دھاگے‘ کی موسیقی ترتیب دینے کے سلسلے میں ممبئی کے ایک عالیشان ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔

بالی ووڈ میں یہ نصرت فتح علی خان کی تیسری فلم تھی، جس میں اجے دیوگن اور سیف علی خان مرکزی کردار ادا کررہے تھے۔

اجے دیوگن نے ایک شو میں نصرت فتح علی خان سے جُڑی خوشگوار یادیں اپنے مداحوں کو بتائیں، انہوں نے کہا کہ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب نصرت فتح علی خان فلم کی موسیقی ترتیب دینے کے سلسلے میں بھارت آئے تھے اور مہینہ بھر یہیں رُکے تھے۔

نصرت فتح علی خان اپنی زندگی کے آخری ایام میں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے کے باعث فربہی کا شکار ہوگئے تھے۔

اجے دیوگن نے بھارتی موسیقار آنند بخشی اور نصرت فتح علی خان کا قصہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ نصرت فتح علی خان اپنے موٹاپے کے باعث گاڑی میں سفر نہیں کرسکتے تھے یہاں تک کہ وہ خود سے ایک قدم بھی نہیں بڑھا سکتے تھے۔

جب نصرت فتح علی خان نے آنند بخشی کو پیغام بھیجا کہ وہ آجائیں تاکہ مل کر البم پر کام ہوسکے تو ، آنند بخشی سمجھے کہ نصرت فتح علی خان پاکستان سے آئے ہیں اور ان میں انا کا عنصر بہت زیادہ ہے اس لیے وہ خود اُن سے ملنے نہیں آرہے بلکہ مجھے ہوٹل کی دعوت دے رہے ہیں۔

دو ہفتے تک  آنند بخشی اگر کوئی گیت لکھ کر بھیجتے تو نصرت فتح علی خان اس میں کسی تبدیلی کا کہتے ، تو کبھی آنند بخشی کو نصرت کی دھن پسند نہیں آتی۔

اب پندرہ سے بیس دن ایسے ہی گزر گئے تو ، آخر تنگ آکر نصرت فتح علی خان نے اپنے لوگوں سے کہا کہ وہ کسی طرح انہیں آنند بخشی کی طرف لے جائیں تاکہ گیت میں ہمیں کوئی کامیابی مل سکے۔

 نصرت فتح علی خان کو آٹھ دس افراد اُٹھا کر آنند بخشی کی طرف لے کر گئے، یہ منظر دیکھ کر آنند رو پڑے کہ میں کس انا کا شکار تھا۔

اجے دیوگن نے بتایا کہ یہ منظر دیکھ کر آنند بخشی نے نصرت فتح علی خان سے کہا کہ آپ جہاں کہیں گے میں وہیں آپ کے ساتھ رہوں گا اور ایک ساتھ کام آگے بڑھائیں گے۔

 1999 میں جب اجے دیوگن کی فلم ’کچے دھاگے‘ ریلیز ہوئی تو اس سے مدت قبل نصرت فتح علی خان دنیا سے رخصت ہوچکے تھے۔

خاص رپورٹ سے مزید