• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمانی کمیٹی نے جبری مذہب تبدیلی کا بل مسترد کردیا

اسلام آ باد ( نیوز رپورٹر) وزارت پارلیمانی واقلیتی امور اور انسانی حقوق کے آراء کی روشنی میں پارلیمانی کمیٹی نے زبردستی مذہب کی تبدیلی کے روک تھام کا بل آئین، قانون، اسلام،موجودہ حالات کے تناظراورعوام کے وسیع ترمفاد کوملحوظ خاطررکھتے ہوئے مستردکردیا،کمیٹی نے حکومت کوتجویز دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ قوانین کو موثر بنانے اورجبری مذہب تبدیلی کے روک تھام کیلئے انتظامی اقدامات اٹھائے،جبری مذہب تبدیلی سے اقلیتوں کے تحفظ کیلئے پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس سینیٹر لیاقت خان ترکئی کی زیرصدارت ہوا، اراکین مشتاق احمد، مولوی فیض احمد نے تبدیلی مذہب کیلئے 18سال کی عمر کی حد اوربالغ افراد کے تبدیلی مذہب کے مجوزہ طریقہ کارپرشدیدتحفظات کا اظہارکیا،وزیرمملکت پارلیمانی امورعلی محمد خان نے بتایا کہ سابقہ کمیٹی نے بل وزارت مذہبی امورکو بھیجا اور اسلامی نظریاتی کونسل کیساتھ مشاورت کے بعد بل کو مذہبی امورکی وزارت نے مستردکردیا جس کے بعد یہ بل واپس کمیٹی کو بھیجا گیا، رمیش کمار نے بل پر ووٹنگ کا کہا تو علی محمد خان نےکہا جو بھی بل آئین اوراسلام کی روح کیخلاف ہو اس پر ووٹنگ نہیں کرائی جا سکتی، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ بل میں قانون سازی کی ضرورت نہیں بلکہ اس حوالے سے قوانین موجود ہیں اس پرعملدرآمد کی ضرورت ہے ۔

اہم خبریں سے مزید