• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

LRH،سرکاری ادویات مریضوں کو دینے کے بجائے جعلی اندراج کا انکشاف

پشاور(سٹا ف رپورٹر) خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور انتظامیہ کی جانب سے سرکاری ادویات غریب مریضوں کو دینے کی بجائے کاغذات میں جعلی اندراج کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے ادویات تقسیم کے ایک سال کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے ، کمیٹی نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے شعبہ کارڈیالوجی کے کیشئر کی جانب سے15لاکھ روپے کی خورد برد کی انکوائری اور 30دنوں میں ملزمان سے رقم وصولی کے احکامات جاری کردئیے ہیں ۔ خیبر پختونخوا اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس قائم مقام چیئرمین ادریس خان کی صدارت میں منعقد ہوا ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا سروسز پشاور کی جانب سے فراہم کردہ نامکمل دستاویزات پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کا نوٹس لیا کہ محکمہ کی جانب سے اجلاس کے دوران ورکنگ پیپر مہیا کئے جارہے ہیں جوکہ نہ صرف قانون کی خلاف ورزی ہے بلکہ ممبران پی اے سی کا استحقاق مجروح کرنے کے مترادف ہے، چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ پی اے سی ایک آئینی فورم ہے اور اسکے ساتھ مذاق کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کریں گے ، سپیشل سیکرٹری صحت نے اپنے ماتحت ادارے کی جانب سے غفلت پر فورم سے معذرت کی، کمیٹی نے محکمہ خزانہ کو ہدایت کی کہ ورکنگ پیپرز میں کاپی پیسٹ سے کام لینے کی بجائے ضروری تکنیکی رائے دی جائے تاکہ پی اے سی اس کی روشنی میں فیصلہ کرسکے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نےلیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں سال 2015 تا 2017 میں شعبہ کارڈیالوجی میں پیجنگ آپریٹر اور فناس کیشئر کی جانب سے رقم میں خوردبرد کرکے خزانے کو 15لاکھ روپے کا نقصان پہنچایا ، پی اے سی نے ہسپتال ہذا کو ہدایت جاری کی کہ اب تک کی گئی انکوائریوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا اورنہ ہی ملزمان سے رقم وصول کی گئی، کمیٹی نے 30دنوں کے اندر انکوائری کرکے ملزمان سے وصولی کی جائے ،اسی ہسپتال میں سال 15-2014 میں انتظامی کمزوریوں کی وجہ سے دوائیوں کی ضرورت مند مریضوں کو جاری کرنے کی بجائے صرف کاغذات کی حد تک خانہ پری کی گئی، کمیٹی نے ہسپتال انتظامیہ کو پورے سال کا ریکارڈ چیک کرنے اور انکوائری کروا کرکر ذمہ داران کا تعین کرنے کے احکامات جاری کئے اور ہدایت کی کہ تیس دنوں کے اندر کمیٹی کو رپورٹ پیش کی جائے، کمیٹی نے اسی ہسپتال کے سال 15-2014 کے ہسپتال کے مختلف بلاکس کی تعمیر کے حوالے سے پیرا کا تصفیہ کردیا ، کمیٹی نے سیدو گروپ آف ٹیچنگ ہسپتال سوات میں سال 16-2015 میں بلڈ بنک آفیسر کی غیر موجودگی میں بلڈ بنک کا 25 فیصد شیئر جو کہ1اعشاریہ 65 ملین بنتا تھا اور یہ بلڈ بنک افسر کو ادا ہونا تھا مگر رقم خلاف قانون ایم ایس کو ادا کی گئی، پی اے سی نے محکمہ صحت کو ذمہ داران سے کل رقم 30 دنوں کے اندر وصول کرکے رپورٹ پی اے سی میں جمع کرانے کی ہدایت جاری کی، کمیٹی نے کنگ عبداللہ ہسپتال مانسہرہ کے سال16-2015 میں ہسپتال کے مختلف ذرائع حاصل آمدن کو محکمہ خزانہ کی اجازت کے بغیر پرائیویٹ اکاونٹ میں جمع کرنے کو خلاف قانون قرار دیتے ہوئے معاملہ پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کو ارسال کردیا ۔
پشاور سے مزید