• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

احتساب کیلئے اوپن انکوائریز لازمی ہیں: شہزاد اکبر


وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیرِ داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ شوگر انکوائری کمیشن میں کئی انکشافات ہوئے ہیں، ماہرین کے ذریعے انکوائریز کی گئیں، احتساب کے لیے لازم ہے کہ اوپن انکوائریز ہوں۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیرِ داخلہ و احتساب شہزاد اکبر نے کہا کہ انکوائری کے بعد شوگر انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا، جس کی رپورٹ کی روشنی میں کارروائیاں کی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ بعض شوگر ملز نے عدالتوں سے حکمِ امتناع لے رکھا ہے، 89 شوگر ملز میں سے بعض ایسی ہیں جن کے آڈٹ نہیں ہوئے۔

شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ نئی قانون سازی میں سٹے بازی کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے، ایف بی آر نے سٹے بازی کے خلاف بھی کارروائی کی، احتساب سے متعلق وزیرِ اعظم کا وژن واضح ہے، جس کے لیے ضروری ہے کہ تحقیقات شفاف طریقے سے ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے ہیں، پورے ملک میں 2000 سے زائد غیر قانونی پیٹرول پمپس کو بند کیا گیا۔

وزیرِ اعظم کے مشیر نے کہا ہے کہ ماضی میں گنے کے کاشت کاروں کو مناسب معاوضہ نہیں دیا جاتا تھا، شوگر انکوائری کمیشن کے لیے وزیرِ اعظم نے اعلان کیا، انکوائری کمیشن نے انکوائری مکمل کر کے رپورٹ کابینہ کو دی۔

انہوں نے بتایا کہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریکوری بھی کروائی جائے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس سے بچنے کے لیے چینی بلیک میں فروخت کی جاتی ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ابھی کچھ ملز کا آڈٹ مکمل نہیں ہوا، 619 ارب کا ٹیکس ری کور کیا جا رہا ہے، وفاقی کابینہ کے کہنے پر شوگر ملز پر 44 ارب کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سابق صدر آصف علی زرداری نے نیب آرڈیننس کے ذریعے احتساب عدالت سے فائدہ لینے کی کوشش کی۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیرِ داخلہ و احتساب نے بتایا کہ جب سے تحریکِ انصاف کی حکومت آئی ہے، ہم نے ہر ایشو اور اسکینڈل پر انکوائری کروائی، وزیرِ اعظم چاہتے ہیں کہ انکوائریاں اوپن ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال پیٹرولیم اسکینڈل پر انکوائری کروائی گئی، جس میں آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ملوث پائی گئیں، ان کمپنیوں نے غلط اعداد و شمار پیش کیئے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ براڈ شیٹ انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں کچھ لوگوں پر براہِ راست ذمے داری ڈالی گئی۔

انہوں نے بتایا ہے کہ راولپنڈی کے رنگ روڈ میں تبدیلی کر دی گئی ہے، جس کا وزیرِ اعظم عمران خان رواں سال افتتاح کریں گے، رنگ روڈ اسکینڈل میں ذلفی بخاری اور سرور خان کا نام آیا، حالانکہ ان کا اس سے تعلق نہیں تھا۔

شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ٹیکس بڑھانے کا کہہ رہا ہے، حکومت کی پالیسی ہے کہ ٹیکس بیس بڑھائیں۔

انہوں نے مزید کا کہ وزیرِ اعظم عمرا خان نے مہنگی چینی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ مقرر قیمت پر چینی فراہم کریں۔

وزیرِ اعظم عمران خان کے مشیرِ داخلہ و احتساب کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمیں سسٹم کو مل کر بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔

قومی خبریں سے مزید