• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ٹی 20 ولڈ کپ: کپتان بابر اعظم جیت کیلئے پرعزم

اب سے پانچ سال پہلے25مارچ2016کو بھارتی پنجاب کے شہر موہالی میں شاہد خان آفریدی آسٹریلیا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ میں14رنز پر اسٹمپڈ آوٹ ہوئے اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کوآسٹریلیا کے ہاتھوں21رنز سے شکست ہوئی۔اس ہار کے بعد موہالی کے ڈریسنگ روم میں اداسی تھی، شاہد آفریدی کی آنکھیں نم تھیں۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم ٹورنامنٹ کے پہلے راونڈ سے آگے نہ بڑ ھ سکی ملک میں ٹیم کی کارکردگی پر شدید تنقید ہورہی تھی۔ یہ میچ شاہد آفریدی کا پاکستان کے لئے آخری انٹر نیشنل میچ تھا۔اب جبکہ شاہد آفریدی پاکستانی کرکٹ سسٹم میں کھلاڑی کی حیثیت سے موجود نہیں ہیں ان کے ہونے والے داماد شاہین شاہ آفریدی ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں۔پانچ سال پہلے والی ٹیم کے شعیب ملک اور سرفراز احمد کو حیران کن طور پر آخری وقت میں پاکستان ٹیم میں جگہ ملی ہے۔

عماد وسیم بھی پاکستانی ٹیم میں شامل ہیں۔پاکستانی کرکٹ ٹیم مشن ورلڈ کپ کے لئے دبئی پہنچ گئی ہے۔ بابر اعظم پاکستان کی قیادت کررہے ہیں۔ایسا لگ رہا تھا کہ شعیب ملک کا انٹر نیشنل کیئریئر ختم ہوگیا ہے پھر اچانک شعیب ملک کو صہیب مقصود کی جگہ ٹیم میں شامل کرلیا گیا۔ ممنکہ طورپر شعیب ملک اور محمد حفیظ پاکستان کے لئے اپنا آخری ورلڈ کپ کھیل رہے ہیں۔ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں 11 ہزار رنز مکمل کرنے والے شعیب ملک نے اسکواڈ میں واپسی شائد خود ان کے لئے بھی حیران کن ہے، صہیب مقصود کمر کی تکلیف کے باعث قومی ٹی ٹونٹی ٹیم سے باہر ہوگئے ہیں۔ 

ان کا ایم آر آئی ا سکین 6 اکتوبر کو کر ایا گیا تھا۔ کپتان بابر اعظم کہتے ہیں کہ پاکستان ورلڈ کپ جیت سکتا ہے۔ ماضی میں کیا ہوا اسے یاد نہیں رکھنا چاہتےآگے بڑھنا چاہتے ہیں ۔ماضی میں جو ہوا اس کا نہیں ،مستقبل کا سوچ رہے ہیں۔ ہمارا پہلا میچ ہی بڑا اہم ہے اس میں اچھا کرنے کی کوشش کریں گے بھارت کے خلاف فتح سے ابتدا میں مومنٹم حاصل کرنے کی کوشش کریں گے، اس سے اگلے معرکوں کیلیے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

بڑے ایونٹ میں آپ کا یقین بہت اہم ہوتا ہے ہمارا یقین اور اعتماد بہت ہے، میں محمد رضوان کے ساتھ اننگز کا آغاز کروں گا۔بھارت کے خلاف پہلے میچ کامیابی حاصل کر کے اپنے مومنٹم کو برقرار رکھیں گےسنیئر کھلاڑیوں کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے شعیب ملک بہت تجربہ کار ہیں سنیئر کھلاڑیوں کا نئے نوجوان کھلاڑیوں کو بہت فائدہ ہوتا ہے ہم چیمپئیز ٹرافی اور ورلڈ کپ میں ایک ساتھ تھے سب ساتھ ساتھ کھیلے ہیں کوشش ہو گی کہ ٹیم کو فائدہ ہوگا۔بابر اعظم کا شمار اس وقت دنیا کے بہترین بیٹسمینوں میں ہوتا ہے۔

پاکستانی ٹیم کا متحدہ عرب امارات میں اس فارمیٹ کا ریکارڈ شاندار ہے اس لئے پاکستان ٹورنامنٹ میں ایسا کرسکتی ہے جس کی کسی کو توقع نہیں ہے۔بھارت اور نیوزی لینڈ میں سے ایک میچ جیت کر پاکستان کا مشکل سفر آسان بن سکتا ہے۔بابر اعظم خوش ہیں کہ ٹیم میں شعیب ملک،حفیظ اور سرفراز احمد جیسے تجربہ کار کھلاڑی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمد رضوان اور میرا نام بار بار آ رہا ہے کوشش ہوگی کہ ذمےداری سے کھیلیں اور توقعات پر پورا اتریں کوشش ہے کہ میں اور رضوان ہی اوپننگ کریں باقی ہم دبئی میں بھی جا کر اندازہ لگائیں گے کہ کیا کرنا ہے پریکٹس میچ کی بیٹنگ پر اندازہ نہ لگائیں کہ کون فارم میں ہے کون نہیں بولرزآؤٹ اسٹینڈنگ ہیں اٹیکنگ بولنگ کرتے ہیں مجھے ان پر بہت یقین ہے میچز جتائیں گے۔میتھیو ہیڈن اور ورنن فلینڈر کا بہت تجربہ ہے ان سے سیکھنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

ورلڈکپ کےلئے سنجیدگی سے تیاری کی ہے میچز پر فوکس کیا ہے آگے بھی پریکٹس میچز ملیں گے، مجھے امید ہے کہ ہم مکمل تیار ہو کر میدان میں اتریں گے۔بابر اعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارت کی کنڈیشنز کا ہمیں علم ہے لیکن پھر بھی ہمیں بہتر سے بہتر کرکٹ کھیلنا ہوگی ، کنڈیشنز پر منحصر ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو دو اسپنرز کو بھی کھلا سکتے ہیں۔ ہم متحدہ عرب امارات میں کرکٹ کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، جہاں ضرورت محسوس ہوئی اضافی اسپنرز بھی کھلائیں گے، بھارت کے خلاف میچ میں صرف دباؤ کو اپنے ذہن سے نکالنا ہے۔ دورحاضر میں بیشتر ٹیمیں مثبت کرکٹ کھیلنے کی کوشش کرتی ہیں اور ہماری ٹیم کو بھی ضرورت ہے کہ وہ اسی پہلو کا خیال رکھتے ہوئے کھیلے تو اس کیلئے کامیابی کا حصول مشکل نہیں ہوگا۔ 

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ متحدہ عرب امارات میں کھیلا جائے گا۔ ایونٹ میں پاکستان اپنا پہلا میچ 24 اکتوبر کو بھارت کے خلاف کھیلے گا۔ اس سے قبل پاکستان 18 اور 20 اکتوبر کو بالترتیب ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقاکے خلاف دو وارم اپ میچز کھیلے گا۔شعیب ملک نے 2007 میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں پاکستان کی قیادت کی تھی۔ 

وہ 2009 کے ورلڈکپ کی فاتح قومی کرکٹ ٹیم کے اسکواڈ کا بھی حصہ تھے۔ انھوں نے 2012، 2014 اور 2016 کے ٹی ٹونٹی ورلڈکپ میں بھی پاکستان کی نمائندگی کی تھی، 1999 میں اپنے انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کرنے والے شعیب ملک ٹیسٹ اور ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے چکے ہیں۔

قومی سلیکشن کمیٹی نے ٹیم میں تین تبدیلیاں کی تھیں۔ بیٹسمین فخر زمان، حیدر علی اور وکٹ کیپر سرفراز احمد کو ٹیم میں شامل کر لیا گیا جبکہ خوشدل شاہ، اعظم خان اور فاسٹ بولر محمد حسنین پہلے سے اعلان کردہ ٹیم سے باہر ہو گئے ۔

چیف سلیکٹر محمد وسیم نے انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم کا اعلان کیا تھا تو اس وقت نوجوان بیٹسمین اعظم خان کی سلیکشن پر تنقید ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ پی ایس ایل کے 10 میچوں میں صرف 174 رنز بنانے کے باوجود انہیں کس بنیاد پر ٹیم میں شامل کیا گیا ۔ 

پاکستان سپر لیگ 6 میں سب سے زیادہ 20 وکٹیں لینے والے فاسٹ بولر شاہنواز ڈاھانی کو محدود اوورز کی سیریز کے لیے منتخب نہ کیے جانے پر بھی سخت حیرانی ظاہر کی گئی تھی۔فخر زمان ورلڈ کپ کے لیے اعلان کردہ ریزرو کھلاڑیوں میں شامل تھے۔ ان کی ٹیم میں حتمی شمولیت کے بعد ان کی جگہ خوشدل شاہ ریزرو کھلاڑیوں میں شامل کیے گئے ہیں۔ ریزرو کھلاڑیوں میں ان کے علاوہ شاہنواز دھانی اور عثمان قادر شامل ہیں۔ڈراپ کیے جانے والے اعظم خان نے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے آٹھ میچوں میں صرف 123 رنز بنائے ہیں جن میں کوئی نصف سنچری شامل نہیں ۔

خوشدل شاہ سدرن پنجاب کی طرف سے کھیلتے ہوئے آٹھ میچوں میں صرف ایک نصف سنچری کی مدد سے 173 رنز بنانے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔ فاسٹ بولر محمد حسنین قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں صرف چھ وکٹیں لے پائے ۔نوجوان حیدر علی اعلان کردہ پندرہ رکنی سکواڈ کا حصہ نہیں تھے لیکن نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ میں ناردرن کی طرف سے عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے وہ آٹھ میچوں میں تین نصف سنچریوں کی مدد سے 280 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے۔شاہد آفریدی کہتے ہیں کہ پاکستان کو تر نوالہ سمجھنے والے حماقت کریں گے۔

روی بوپارا اور لانس کلوسنر بھی پاکستان کو ٹاپ فور میں دیکھ رہے ہیں۔پاکستانی ٹیم یقینی طور پر بابر اعظم اور محمد رضوان کی بیٹنگ اور شاہین شاہ آفریدی کی بیٹنگ پر انحصار کرے گی۔بولنگ کوچ ورنن فیلنڈر اور بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھیو ہیڈن اس ٹیم میں نئی روح پھونک سکتے ہیں۔ شائقین ورلڈ کپ میں پاکستان ٹیم سے اچھی کارکردگی کے لئے پھر پر امید ہیں۔ مشن ورلڈ کپ ، مشن ایمپوسیبل بھی ہوسکتا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی 15 رکنی ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ بابراعظم (کپتان)، شاداب خان (نائب کپتان)، آصف علی، حیدر علی، فخر زمان، حارث رؤف، حسن علی، عماد وسیم، محمد حفیظ، محمد نواز، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، محمد وسیم جونیئر، سرفراز احمد، شاہین شاہ آفریدی اور شعیب ملک، ٹیم کے ریزرو کھلاڑیوں میں شاہنواز ڈاھانی، عثمان قادر اور خوشدل شاہ شامل ہیں۔

اسپورٹس سے مزید
کھیل سے مزید