| |
Home Page
ہفتہ 28 صفر المظفر 1439ھ 18 نومبر 2017ء
حا مد میر
September 14, 2017 | 12:00 am
روہنگیا کون ہیں؟

Rohangia Kon Hain

ترکی کی خاتون اول ایمان اردوان کے آنسوئوں نے کروڑوں لوگوں کو رلادیا۔ وہ پچھلے دنوں روہنگیا مسلمانوں کی خبر گیری کیلئے بنگلہ دیش پہنچی تھیں جہاں ساڑھے چھ لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین ہیں۔ ایمان اردوان نے روہنگیا مہاجرین کے ایک کیمپ میں مظلوم عورتوں کی سسکیاں سنیں تو اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکیں اور زاروقطار رونے لگیں۔ انہوں نے مجبور روہنگیا عورتوں کو گلے سے لگایا، انہیں دلاسا دیا اور یقین دلایا کہ ترکی انہیں اکیلا نہیں چھوڑے گا۔ ایمان اردوان کے دورہ بنگلہ دیش کے بعد ترکی نے بنگلہ دیش کی حکومت سے اپیل کی کہ روہنگیا مسلمانوں کیلئے اپنا بارڈر کھول دے ان کے قیام و طعام کا تمام خرچ ترکی برداشت کرے گا۔ پاکستان میںبھی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت کے واقعات پر خاص تشویش پائی جاتی ہے اور کئی شہروں میں روہنگیا مسلمانوں کے حق میں مظاہرے ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا اور بعض سیاستدانوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان میں میانمار کے سفیر کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد روہنگیا مسلمانوں کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اپنے مظلوم بہن بھائیوں تک کیسے پہنچا جائے؟ اکثر سیاستدان اور صحافی یہ بھی نہیں جانتے کہ روہنگیا کون ہیں؟ روہنگیا مسلمانوں کا پس منظر سمجھے بغیر یہ پتہ نہیں چلے گا کہ میانمار کی حکومت ان پر ظلم کیوں کررہی ہے؟ میانمار کا پرانا نام برما ہے۔ یہاں چین جانے والے عرب تاجروں نے اسلام متعارف کرایا تھا۔ اورنگ زیب عالمگیر کے زمانے میں شاہ شجاع بنگال کا نگران تھا۔ اس نے اپنے بھائی کے خلاف بغاوت کی جوناکام ہوگئی۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد وہ چٹاگانگ کے راستے سے برما کے علاقے اراکان میں روپوش ہوگیا۔ چٹاگانگ سے اراکان جانے والی ایک سڑک کو آج بھی شجاع روڈ کہا جاتا ہے۔ اراکان کے حکمران ساندہ ٹھودھاما نے شاہ شجاع سے وعدہ کیا کہ وہ اسے مکہ مکرمہ جانے کیلئے بحری جہاز فراہم کرے گا لیکن اس نے اپنا وعدہ توڑ دیا اور شاہ شجاع کو لوٹ لیا۔ بعدازاں اورنگ زیب عالمگیر نے اپنی فوج بھیج کر چٹاگانگ پر قبضہ کر لیا جو اراکان کا حصہ تھا یوں چٹاگانگ کے راستے سے مغلوں اور بنگالیوں کی اراکان میں آمدورفت شروع ہوگئی۔
1857ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے خلاف بغاوت کی ناکامی کے بعد آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو رنگون میں نظر بند کیا گیا۔ برطانوی حکومت نے برما کو برٹش انڈیا کا حصہ بنا دیا اور بڑی تعداد میں انڈینز کو برما میں لا کر بسایا گیا جنہیں برٹش انڈینز کہا جاتا تھا۔ 1937ء میں برما کو برٹش انڈیا سے علیحدہ کردیا گیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے برما پر قبضہ کر لیا تو مقامی بدھسٹوں نے جاپان کا ساتھ دیا۔ برطانوی فوج نے اراکان کے مسلمانوں کو اسلحہ فراہم کیا اور انہوں نے جاپانی فوج کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔ برطانوی حکومت نے اراکان کے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ان کے علاقے کو ایک آزاد ریاست کے طور پر قبول کرلیا جائے گا لیکن درحقیقت ان مسلمانوں کو جاپانی فوج کا راستہ روکنے کیلئے استعمال کیا جارہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم ختم ہوئی تو اراکان کے مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم لیگ سے رابطہ قائم کیا اور شمالی اراکان مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے تحریک پاکستان میں حصہ لینا شروع کردیا۔ 1947ء میں اراکان مسلم لیگ کا ایک وفد قائداعظم محمد علی جناح کو ملا اور درخواست کی کہ اراکان کو پاکستان میں شامل کرایا جائے کیونکہ اراکان اور چٹاگانگ کے لوگوں کی زبان اور رہن سہن میں زیادہ فرق نہیں لیکن قائداعظم نے ان کے ساتھ کوئی جھوٹا وعدہ نہ کیا۔ 1948ء میں برما کو بھی آزادی مل گئی۔ اراکان میں مسلمانوں کے ایک گروپ نے اپنی آزادی کیلئے جہاد کا اعلان کردیا جس کے باعث پاکستان اور برما میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔ برما کی حکومت نے الزام لگایا کہ اراکان کے باغی مسلمانوں نے چٹاگانگ میں اپنے تربیتی مراکز قائم کررکھے ہیں۔ یہ مزاحمت کئی سال تک جاری رہی اور 1962ء میں برما میں فوجی حکومت قائم ہونے کے بعد ختم ہوئی۔ 1971ء میں بنگلہ دیش قائم ہونے کے بعد روہنگیا مسلمانوں کا پاکستان سے ر ابطہ کٹ گیا۔ 1982ء میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ برما کی حکومت نے ان کی شہریت منسوخ کردی، سرکاری نوکریوں سے بھی نکال دیا اور تعلیمی اداروں کے دروازے بھی ان پر بند کردیئے۔ روہنگیا مسلمانوں نے برما سے بھاگنا شروع کردیا۔ تقریباً دو لاکھ روہنگیا مسلمان پاکستان آگئے۔ کراچی کی اراکان کالونی اور برما کالونی میں یہی روہنگیا مسلمان آباد ہیں۔ بہت سے روہنگیا سعودی عرب چلے گئے۔ 2012ء اور 2016ء میں برما کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں پر مزید سختی شروع کی تو یہ ہجرت کر کے بنگلہ دیش، بھارت، ملائشیا اور تھائی لینڈ جانے لگے۔ اس دوران اراکان روہنگیا سالویشن آرمی نے برما کی سکیورٹی فورسز پر حملے شروع کردیئے۔ اس تنظیم کا سربراہ عطاء اللہ ہے جس کے بارے میں برما کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ کراچی میں پیدا ہوا اور سعودی عرب میں پرورش پائی۔ عطاء اللہ کی سرگرمیوں کے باعث برما کی حکومت کو روہنگیا مسلمانوں پر مزید سختی کرنے کا جواز مل گیا۔ کچھ دن پہلے عطاء اللہ نے سیز فائر کا اعلان کردیا۔
روہنگیا مسلمانوں کی کل تعداد 15لاکھ سے زائد نہیں۔ ان کی بڑی اکثریت مہاجر بن چکی ہے اوردنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف امداد طلب نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان میں یہ تاثر ہے کہ برما پر چین کے ذریعہ دبائو ڈالا جاسکتا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ برما اور چین کی سرحد پر کاچن کے علاقے میں کاچن علیحدگی پسندوں کی ایک تنظیم بھی موجود ہے جو برما سے آزادی چاہتی ہے۔ اس تنظیم کی قیادت مسیحی ہے اور یہ تاثر موجود ہے کہ اس تنظیم کو کچھ مغربی طاقتیں سپورٹ کرتی ہیں۔ پاکستان کو روہنگیا مسلمانوں کی مدد ضرور کرنی چاہئے اور ترکی کی طرح بنگلہ دیش کا بوجھ بانٹنا چاہئے، برما پر دبائو بھی ڈالنا چاہئے لیکن احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ہمیں غیر شعوری طور پر کسی ایسی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہئے جس کا مقصد ون بیلٹ ون روڈ کے چینی منصوبے کو ناکام بنانا ہو کیونکہ ون بیلٹ ون روڈ میں برما کا اہم کردار ہے۔