ضلعی انتظامیہ کی فقیر کلے میں کھلی کچہری ،عوام کی بڑی تعداد میں شرکت

December 01, 2021

پشاور ( وقائع نگار )ضلعی انتظامیہ نے پشاور کے علاقے فقیر کلے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر پشاورکیپٹن (ر) خالد محمود کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) محمد عمران خان،اسسٹنٹ کمشنرعمر اویس کیانی, ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیٹا بیس محمد اصغر خان، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر انور اکبر خان، تحصیلدارذولفقار خان، تحصیلدار واقف خان سمیت ماتحت محکموں کے افسران،ریونیو سٹاف،عوامی نمائندگان، عوام اور علاقہ مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔بی ایچ یوفقیر کلے میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا تھاعوام کی سہولت اور معلومات کے لیے کھلی کچہری سے پہلے علاقے میں اعلانات کر وائے گئے تھے اس موقع پر لوگوں نے افسران کو اپنے مسائل کے بارے میں آگاہ کیا۔کھلی کچہری میں درخواست کی گئی کہ علاقے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ بہت زیادہ ہے اور سوئی گیس کا پریشر بہت کم ہے اس لیے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کیا جائے اور سوئی گیس کا پریشر بڑھایا جائے۔ کھلی کچہر ی میں شکایات کی گئی کہ علاقے میں آئس کے استعمال سے نوجون نسل تبائی کی طرف جا رہی ہے اس لیے آئس مافیا کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور فقیر کلے چوک میں قائم تجاوزات کو فوری ختم کر کے فقیر کلے چوک کو کشادہ کیا جائے اور پجگی روڈپر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے فوری طور پر تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے کیوں کہ ان تجاوزات کی وجہ سے اکثر ٹریفک جام رہتی ہے اور عوام کو سخت تکلیف کا سامنا ہے۔ کھلی کچہری میں درخواست کی گئی کہ فقیر کلے چوک میں ٹریفک زیادہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک اہلکار کی ڈیوٹی لگائی جائے اور علاقے میں نالوں پر تجاوزات کو فوری ہٹایا جائے کیوں کہ ان نالوں پر تجاوزات کی وجہ سے اکثر نکاسی کا پانی سڑکوں پر آ جا تا ہے اور عوام کو تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس موقع پر دیگر افراد نے بھی اپنے اپنے مسائل کے بارے میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) سے کھل کر بات کی جبکہ اکثر نے ان کو تحریری درخواستیں بھی دیں جس پر انھوں نے موقع پر ہدایات جاری کیں۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) نے کہا کہ کھلی کچہری کا مقصد حکومت و انتظامیہ اور عوام کے درمیان فاصلے کو ختم کر نا ہے اور عوامی مسائل کو ان کی دہلیز پر حل کر نا ہے۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریلیف) نے تمام افسران کو شکایات کے حل کی ہدایات جاری کیں اور عوام سے اپیل کی کہ ان کی درخواست اور شکایات پر کاروائی کے بارے میں بعد میں ان کو ضرور آگاہ کریں