• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لندن میں فلسطین کا سفارت خانہ: شناخت اور خودمختاری کی علامت

برطانیہ میں فلسطین کے سفیر حسام زملوط۔فوٹو: فائل
برطانیہ میں فلسطین کے سفیر حسام زملوط۔فوٹو: فائل

برطانیہ میں فلسطین کے سفیر حسام زملوط نے لندن میں فلسطین کے سفارت خانے کے افتتاح کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ثبوت ہے کہ ہماری شناخت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘

مغربی لندن کے علاقے ہیمرسمتھ میں مشن کی اپ گریڈیشن، جس نے اسے مکمل سفارت خانے کا درجہ دیا، فلسطینی ریاست کے لیے سمت میں ایک اہم تبدیلی کی نمائندگی کرتی ہے اور ایک ایسی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے جو فلسطینیوں کے خودمختار ریاست کے ناقابلِ تنسیخ حق کو تسلیم کرتی ہے۔’’یہ صرف نام کی تبدیلی نہیں ہے،‘‘ 

زملوط نے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ’’غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے (بشمول مشرقی یروشلم)، پناہ گزین کیمپوں اور دنیا بھر میں پھیلی ہوئی فلسطینی برادری کی کئی نسلوں کے لیے یہ سفارت خانہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری شناخت کو رد نہیں کیا جا سکتا، ہماری موجودگی مٹائی نہیں جا سکتی اور ہماری زندگیوں کی قدر کم نہیں کی جا سکتی۔‘‘

سفارت خانے کی اپ گریڈیشن اس فیصلے کے بعد ہوئی کہ برطانوی حکومت نے ستمبر 2025 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا، تاکہ خطے میں ’’دو ریاستی حل کی قابلِ عمل حیثیت‘‘ برقرار رکھی جا سکے۔ اس سے قبل یہ عمارت برطانیہ میں فلسطینی مشن کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔

22 ستمبر 2025 کو پرچم کشائی کی تقریب میں ارکانِ پارلیمان، سفیروں اور عوام کے چند سو افراد نے شرکت کی۔ تاہم گزشتہ ماہ نقاب پوش افراد نے اسرائیلی اور برطانوی جھنڈے لے کر عمارت کو نقصان پہنچایا، جس کے بعد زملوط نے سفارت خانے کے لیے ’’جامع تحفظ‘‘ کا مطالبہ کیا۔

زملوط نے غزہ میں فلسطینیوں کی مشکلات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ وہاں زندگی ’’جہنم جیسی‘‘ ہے۔ وزارت صحت کے مطابق اکتوبر کے بعد جنگ بندی کے بعد سے 422 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں اور علاقے کا بیشتر حصہ تباہ ہو چکا ہے، جبکہ دو لاکھ سے زائد لوگ زیادہ تر عارضی یا نقصان شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید