مشہور فیشن ڈیزائنر ماریہ بی نے خواجہ سرا سماجی رہنما پر تنقید کیوں کی؟

August 18, 2022

پاکستانی فیشن ڈیزائنر ماریہ بی خواجہ سرا سماجی رہنما مہرب معیز اعوان پر تنقید کر کے اس وقت سوشل میڈیا کے سر فہرست ٹرینڈز میں شامل ہو گئیں۔

مہرب معیز اعوان کو لاہور کے نجی اسکول میں منعقدہ ’ٹیڈ ٹاک‘ (ٹیکنالوجی، تفریح ​​اور ڈیزائن سے متعلق بات چیت)میں شرکت سے روکے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے فیصلے کی حمایت کی۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ مہرب معیز اعوان کو لاہور کے نجی اسکول میں منعقدہ ’ٹیڈ ٹاک‘ شو میں بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا، بعدازاں والدین کی شکایت پر اسکول انتظامیہ نے فیصلہ واپس لیتے ہوئے انہیں پروگرام میں شرکت کرنے سے روک دیا۔

بعد ازاں مہرب معیز اعوان نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ لاہور کے نجی اسکول انتظامیہ نے انہیں 20 اگست کو وہاں ہونے والے ’ٹیڈ ٹاک‘ شو میں آنے سے روک دیا۔

ماریہ بی نے اسکول انتظامیہ کے فیصلے کو سراہا اور انسٹاگرام پر بذریعہ اسٹوری اسکول انتظامیہ کا ساتھ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بچے بھی مذکورہ اسکول میں پڑھتے ہیں اور بطور والدین کبھی نہیں چاہوں گی کہ میرے بچے غلط لوگوں کو بطور رہنما دیکھیں یا وہ ان کے سامنے خطاب کریں۔

پاکستانی فیشن ڈیزائنر کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے چند ماہ قبل 5 منٹ کے لیے مہرب معیز اعوان کو انسٹا لائیو سیشن میں سُنا تھا، جس میں ان کی زبان انتہائی معیوب تھی، مہرب معیز اعوان فخریہ انداز میں شراب اور تمباکو نوشی سمیت دیگر ممنوعہ چیزوں کی تشہیر کر رہے تھے۔

فیشن ڈیزائنر نے مزید سوال اُٹھائے کہ کیا اب ایسے لوگ ہمارے بچوں کے رول ماڈل بنیں گے؟ ان کی غیر اخلاقی زبان پریشان کُن تھی۔ مہرب معیز اعوان کی قابلیت کیا ہے؟ ان کے پاس کس طرح کا اعزاز ہے؟ یا کس ادارے نے ان کی خدمات کو سراہا ہے؟ کیا وہ کوئی گولڈ میڈلیسٹ ہیں؟ کوئی لیڈر ہیں؟ کچھ بھی نہیں، ہم والدین بہتر جانتے کہ ہمارے بچوں کے لیے کیا اچھا ہے اور کیا نہیں۔

ماریہ بی نے ایک اور انسٹا اسٹوری میں کہا کہ خواجہ سرا افراد کے لیے بہت احترام ہے مگر مہرب معیز اعوان مخنث کمیونٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔

انہوں نے خود کو مرد ہونے کے باوجود پاکستانی سوشل میڈیا پر خاتون کے طور پر پیش کیا ہے اور ہمارے بچوں کے لیے صنفی مسائل اور فرق کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ پاکستان میں 99 فیصد افراد صحیح معنوں میں ’ٹرانس جینڈر‘ لفظ کی اصطلاح کو نہیں سمجھتے، یہاں تک کہ اس کی قانون ساز بھی اس اصطلاح کو نہیں سمجھتے۔ یہ عام خیال کیا جاتا ہے کہ یہ لفظ مخنث یا خواجہ سرا افراد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مہرب معیز اعوان کون ہیں؟ اور ان کا موقف کیا ہے؟

ڈاکٹر مہرب معیز اعوان خود کو خاتون ٹرانس جینڈر اور پاکستان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے حقوق کی علمبردار کے طور پر متعارف کرواتی ہیں۔

وہ مختلف فلاحی تنظیموں اور اداروں کے ساتھ خواجہ سرا کمیونٹی کے فلاح و بہبود کے منصوبوں پر کام کرنے کے ساتھ سوشل میڈیا پر تشہیری مہم بھی چلاتی دکھائی دیتی ہیں۔

اس کے علاوہ مخنث افراد سمیت مختلف متنازع جنسی رجحانات رکھنے والے افراد کے حقوق کے لیے بھی آواز بلند کرتی ہیں۔

مہرب معیز اعوان نے بھی ٹوئٹر اور انسٹاگرام کا سہارا لیتے ہوئے بتایا کہ انہیں اسکول انتطامیہ نے بتایا کہ بچوں کے والدین نہیں چاہتے کہ مخنث افراد ان کے بچوں کے سامنے آ کر خطاب کریں، اس لیے انہیں شو میں آنے سے روکا گیا ہے۔

انہوں نے لاہور کے نجی اسکول انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایسا کرنے پر’ٹیڈ ٹاک‘ شو میں بطور مہمان شرکت کرنے والے دیگر افراد سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان سے اظہار یکجہتی کے طور پر شو کا بائیکاٹ کریں۔

عوام کا ردعمل

نجی اسکول کے اس فیصلے پر شوبز شخصیات بھی اپنا اپنا ردعمل دے رہے ہیں جبکہ عوام بھی اس معاملے میں اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ دوسری جانب ماریہ بی کا نام پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر بھی ساتویں نمبر پر ہے۔

مہرب معیز اعوان کی پوسٹ پر کئی لوگوں نے تبصرے کرتے ہوئے لکھا کہ وہ درست معنوں میں مخنث شخص نہیں ہیں، بعض افراد کا کہنا ہے کہ مہرب معیز اعوان ملک عریانیت و فحاشت پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والے شخص ہیں جن کی اصل شناخت کچھ اور ہے۔