لانگ مارچ نہیں استعفے

November 28, 2022

تحریک انصاف کے قائد سابق وزیر اعظم عمران خان نے رواں سال اپریل میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد مفروضہ امریکی سازش کے بیانیے کی بنیاد پر بقول خود حقیقی آزادی کی جس تحریک کا آغازکیا تھاوہ اپنے سیاسی مخالفین اور عسکری قیادت کو اس مبینہ سازش میں شرکت کے الزامات سے نوازنے، نئے آرمی چیف کے تقرر میںاپنی خواہشات کی تکمیل کی کوششوں میں ناکامی اور پھر جلد انتخاب کی تاریخ لینے کی خاطر وفاقی دارالحکومت کی جانب لانگ مارچ اور ملک بھر سے لاکھوں افراد کا سمندر لاکر مطالبے کی منظوری تک وہاں دھرنا دینے کے مسلسل بلندبانگ اعلانات کے بعد ہفتے کی شام راولپنڈی میں کارکنوں اور عوام کے ایک اجتماع سے خطاب میں لانگ مارچ کے خاتمے کے ساتھ کے پی اور پنجاب سمیت ملک کی تمام اسمبلیوں سے تحریک انصاف کے ارکان کے مستعفی ہوجانے کے اعلان پر منتج ہوئی ہے ۔ اپنے خطاب میں انہوں نے موجودہ نظام کا حصہ نہ رہنے اور تمام اسمبلیوں سے نکلنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگراسلام آباد گئے تو ملک کا نقصان ہوگا، ہم اپنے ملک میں تباہی مچانے کے بجائے کرپٹ نظام سے باہر نکلیں گے، ہم اس کرپٹ سسٹم کا حصہ نہیں بنیں گے۔ تاہم فوری استعفوں یا اس کی کوئی تاریخ دینے کے بجائے ان کا کہنا تھا کہ حتمی تاریخ کا اعلان مشاورت سے ہوگا۔اپنے ساڑھے تین سالہ دور حکومت میں نتیجہ خیز احتساب نہ ہوپانے کی ذمے داری عمران خان نے عسکری قیادت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ’’میں چور پکڑتا، اسٹیبلشمنٹ ڈیل کرلیتی، نیب والے کہتے کہ کیس تیار ہے لیکن حکم نہیں آرہا‘‘۔تین سال تک اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی اور ایک پیج پر ہونے کے دعووں کے بعد عمران خان کا یہ مؤقف حیران کن ہے۔وہ حالیہ دنوں میں اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ حکومت میری تھی مگر اختیار کسی اور کے پاس تھا۔ تاہم اگر واقعی ایسا تھا تو یہ سوال کیا جانا حق بجانب ہے کہ ایسی بے اختیار حکومت سے انہوں نے آخری لمحے تک چمٹے رہنے کی ہر ممکن کوشش کیوں کی۔لانگ مارچ منسوخ کرنے کا یہ جواز یقینا لائق خیرمقدم ہے کہ ’’اسلام آباد گئے تو ملک کا نقصان ہوگا‘‘ جبکہ یہ بات تو پہلے ہی واضح تھی ، لیکن کہا جاسکتا ہے کہ درست قدم جب بھی اٹھالیا جائے بہترہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عمران خان کے تازہ اعلان کے ملک کی سیاسی صورت حال پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔اس ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ نہ تو اسمبلیوں سے فوری استعفے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے نہ اس کی کوئی تاریخ دی گئی ہے بلکہ معاملہ مشاورت پر چھوڑا گیاہے چنانچہ بیشتر سیاسی مبصرین اس اعلان کو جلد انتخابات کی تاریخ کیلئے مؤثر لانگ مارچ اور دھرنے میں ناکامی نظر آنے کی وجہ سے فیس سیونگ اور اپنے کارکنوں اور مداحوں کو مطمئن کرنے کی ایک تدبیر قرار دے رہے ہیں ورنہ فوری انتخابات کے لیے پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں توڑی جاسکتی تھیں جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے ۔ اس اقدام کو بھی لیکن وزرائے اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ پچھلے دنوں عمران خان اور تحریک انصاف کے دیگر رہنما تسلسل سے کہتے رہے ہیں کہ انتخابات آج ہوں یا ایک سال بعد جیتنا ہم ہی کو ہے۔ اس بیان کی وجہ سے یہ تاثر عام ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت موجودہ حکومت کی مدت کی تکمیل تک انتخابات کا انتظار کرنے کو ذہنی طور پر تیار ہوگئی ہے اور اپنے حامیوں کو بھی اس پر تیار کررہی ہے۔لہٰذا ملک کے مفاد کا تقاضا ہے کہ تحریک انصاف احتجاجی سیاست کے بجائے اب اپنی پوری توجہ سابقہ تجربات کی روشنی میں قابل عمل منشور اور انتخابات کی تیاری پر صرف کرے تاکہ برسراقتدار آنے کی صورت میں پچھلی غلطیوں سے بچتے ہوئے قومی ترقی و استحکام کیلئے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے۔