کراچی( ثاقب صغیر )شہر میں سال 2025 کے دوران بھی جرائم کے واقعات جاری رہے ، سال کے آخر میں شہر میں بھتہ خوری کے واقعات میں اضافہ ہوا۔پولیس نے ایک خودکش طالبہ کو پکڑ کر بی ایل اے کی سازش کو ناکام بناتے ہوئے شہر کو بڑی تباہی سے بچا لیا۔حکام کے مطابق وہ آن لائن ریڈیکلائزیشن کے بعد بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کے ساتھ رابطے میں تھی اور حملہ کرنے والی تھی۔ ڈیفنس میں نوجوان مصطفٰی عامر قتل کیس نے قومی توجہ حاصل کی، واقعہ میں ملوث ملزم ارمغان اس وقت جیل میں ہے۔اداکارہ و ماڈل حمیرا اصغر کی لاش ڈیفنس میں ان کے فلیٹ سے ملی جس نے ملکی توجہ حاصل کی۔اب تک کی تفتیش میں حمیرا اصغر کی موت کو طبعی قرار دیا گیا ہے۔سال 2025 کا ایک بڑا واقعہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر سے 216 قیدیوں کا فرار ہونا تھا۔پولیس کی حراست میں شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئیں جبکہ لاک اپ سے قیدی فرار بھی ہوئے۔قیوم آباد میں معصوم بچیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کا بڑا اسکینڈل سامنے آیا ،درندہ صفت ملزم کے موبائل فون اور یو ایس بی ڈرائیو سے بچیوں کی 200 سے زائد ویڈیوز ملیں جبکہ اس کے علاوہ بھی بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ڈیفنس میں گھریلو ماسی گرفتار ہوئی جو کروڑوں روپے کی مالکن نکلی۔پاکستان سے چلنے والے عالمی سائبر کرائم نیٹ ورک کے 5کارندے گرفتار ہوئے۔ نارتھ کراچی سے چار ماہ کے بچے صارم کی تشدد زدہ لاش ملی جس کے ملزمان تاحال گرفتار نہ ہو سکے۔سال 2025 میں بھی متعدد پولیس اہلکار جرائم میں ملوث پائے گئے۔ڈیفنس میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے چھاپہ مار کر 15غیر ملکیوں سمیت 34 ملزمان کو گرفتار کیا۔پولیس کی جانب سے شہر میں ٹریفک چالان کے لیے ای ٹکٹنگ نظام کو فعال کیا گیا۔شہر میں سال 2025 کے دوران ڈکیتی مزاحمت پر 90 شہری جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اسٹریٹ کرائم کے واقعات بھی جاری رہے۔شہر میں اسٹریٹ کرائم کے 60 ہزار سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے۔شہری گھروں کے دہلیز سمیت گلیوں ،چوکوں اور چوراہوں پر لٹتے رہے۔گاڑیوں اور موٹر سائیکل چھیننے کے واقعات بھی نہ تھم سکے۔فائرنگ کے مختلف واقعات میں 419 افرادجاں بحق ہوئے جن میں 362مرد، 34 خواتین، 15 بچے اور 8 بچیاں شامل ہیں۔فائرنگ کے مختلف واقعات میں زخمی ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 1659 ہے جن میں 1383مرد، 160 خواتین ، 83 بچے اور 33 بچیاں شامل ہیں۔شہر میں گٹر اور نالوں میں گر کر بچوں سمیت 28 افراد جاں بحق ہوئے۔ ذہنی دباؤ،معاشن پریشانیوں ،گریلو جھگڑوں اور غربت سے تنگ آ کر 123 افراد نے خودکشی کی جن میں 107 مرد اور 16خواتین شامل ہیں۔غیرت کے نام پر خواتین سمیت متعدد افراد کو قتل کیا گیا۔سال 2025 میں مخدوش عمارتوں کے گرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا جس میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ لیاری کے علاقے بغدادی میں ایک رہائشی عمارت گرنے سے 27 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔صدر میں پٹاخوں کی فیکٹری میں دھماکے کے باعث ملبے تلے دب کر اور جھلس کر 5 افراد جاں بحق اور 31 زخمی ہوئے۔شہر میں 2025 کے دوران ٹریفک حادثات میں 857 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 670 مرد،89 خواتین 74 بچے اور 24 بچیاں شامل ہیں۔ ان ٹریفک حادثات میں زخمیوں کی تعداد 12ہزار 188 رہی جس میں 9550 مرد،1904 خواتین، 563 بچے اور 171 بچیاں شامل ہیں۔240 کے قریب شہری ہیوی ٹریفک کی ٹکر سے جاں بحق ہوئے۔شہریوں نے متعدد ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک گاڑیوں کو آگ لگا دی۔شہریوں نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے 15 ڈاکووں کو تشدد کر کے ہلاک اور 35 کو زخمی کیا۔ 23 افراد کی تشدد زدہ جبکہ 5 کی بوری بند لاشیں ملیں۔چھریوں کے وار سے 46 افراد قتل ہوئے ۔شہر میں گیس لیکج اور سلنڈر پھٹنے کے واقعات میں 11 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے۔چھت سے گر کر 76، چھت گرنے سے 19، ٹرین کی ٹکر سے 51، پانی میں ڈوب 85 جبکہ جھلس کر 21 افراد جاں بحق اور 133 زخمی ہوئے۔کرنٹ لگنے کے واقعات میں 133 افراد جاں بحق ہوئے ۔شہر کے مختلف علاقوں سے طبعی طور پر وفات پانے والے263 افراد کی میتوں کو بھی اسپتال منتقل کیاگیا جبکہ مختلف مقامات سے 35نوزائیدہ بچوں کی لاشیں بھی ملیں۔ منشیات کے استعمال میں زیادتی کے باعث 395 مرد اور 5خواتین کی لاشیں بھی شہر کے مختلف علاقوں سے اٹھائی گئیں جن میں سے زیادہ تر لاوارث تھیں۔