ٹیکس دہندگان کے آئی ٹی سسٹمز کو ایف بی آر کے سسٹم سے منسلک کرنے کا فیصلہ

June 14, 2024

ایف بی آر ـــ فائل فوٹو

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال سے ٹیکس دہندگان کے آئی ٹی سسٹمز کو ایف بی آر کے سسٹم سے منسلک کر دیا جائے گا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں فنانس بل 2024 کے حوالے سے بجٹ تجاویز اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا۔

چیئرمین ایف بی آر امجد زبیر ٹوانہ نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ دی۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ یہ ڈیجیٹلایزیشن نظام کے تحت کیا جائے گا، ٹیکس دہندہ کےسسٹم کو ایف بی آر سے منسلک کرنے کے لیے لائسنس انٹگریٹرز ہوں گے، پچھلے نظام میں اوپن سوفٹ ویئر کا نظام اختیار کیا گیا تھا، اب ایف بی آر کا اپنا سسٹم ہو گا۔

اُنہوں نے بتایا کہ نئے نظام سے رئیل ٹائم میں کسی بھی جگہ خرید و فروخت کو دیکھا جا سکے گا،اب دو نمبری پر سزا بھی بڑھا رہے ہیں، پہلے ریسٹورنٹ کو 5 لاکھ روپے جرمانہ ہوتا تھا، اب ایسے ریسٹورنٹ کو ایک ہفتے کے لیے سیل بھی کریں گے۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اگر 1 دن میں 3 اور ہفتے میں 5 ان وائس مل جائیں جن میں پی او ایس سسٹم کو بائی پاس کیا گیا تو ایسی دکان کو سیل کریں گے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ ایسی دکانوں کو 5 لاکھ روپے سسٹم جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔

اس حوالے سےسینیٹر سلیم مانڈوی والا کا کہنا ہے کہ آج کل کہاجاتا ہے کہ کارڈ مشین خراب ہےتو پیسے اس اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر دیں اور وہ اکاؤنٹ ان کے کسی ملازم کا ہوتا ہے۔

شیری رحمٰن نے کہا کہ بڑے ریٹیلرز کو کارڈز کے ذریعے وصولی کو یقینی بنانے کے لیے قانون بنایا جائے، دکانوں پر 30 ہزار روپے سے زیادہ کی ادائیگی بذریعہ کارڈز کرنے کو لازمی کیا جائے اور دکانوں پر لنک ڈاؤن ہونے پر ان پر جرمانہ عائد کیا جائے۔