امریکا، طالبان مذاکرات

March 02, 2019
 

لگتا ہے اب افغانستان سے امریکی افواج کے مکمل انخلاء کا وقت قریب آ رہا ہے کیونکہ پچیس فروری کو طالبان کے ایک بہت سینئر رہنما ملا عبدالغنی برادر قطر کے دارالحکومت، دوحا پہنچے ہیں جہان ان کے امریکی حکام سے مذاکرات ہوئے ہیں۔

ملا برادر جنہیں ملا برادر اخوند بھی کہا جاتا ہے، اس وقت پچاس سال کے ہیں اور پچھلے پچیس سال سے طالبان کے ساتھ ہیں۔ وہ اس گروہ میں شامل تھے جس نے سب سے پہلے1990ء کے عشرے کے وسط میں طالبان کی بنیاد رکھی تھی۔ اس گروہ نے1996ء میں پاکستان کی مدد سے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضہ کر لیا تھا۔افغانستان پر طالبان کی پانچ سالہ حکومت میں پاکستان کے علاوہ صرف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات وہ دو ممالک تھے جنہوں نے نہ صرف طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا بلکہ طالبان کے سفارت خانے اپنے ممالک میں کھلوائے اور انہیں مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ تسلیم کیا تھا اور ان کے اہلکاروں کو مکمل آزادی کے ساتھ آمدورفت اور رہنے سہنے کی تمام سہولتیں مہیا کی تھیں۔

ملا برادر افغانستان کے صوبے اروزگان سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان کی سرحد سے متصل قندھار صوبے سے ملا ہوا ہے۔ یہ علاقہ قبائلی اور افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے پسماندہ ترین صوبوں میں شمار ہوتا ہے۔ پہلے اروزگان صوبے میں پشتون اور ہزارہ قبائل کی مشترکہ آبادی تھی مگر2001ء میں افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم ہونے کے بعد اروزگان کو نئی حکومت نے دو حصوں میں تقسیم کر کے دائی کنڈی کا نیا صوبہ بنا دیا تھا ۔

پوپل زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا برادر، درانی پشتون ہیں اور 1980ء کے عشرے میں جب وہ نوجوان تھے، سوویت افواج کے خلاف لڑنے والے مجاہدین میں شامل ہو گئے، جنہیں جنرل ضیاء الحق کی مکمل حمایت اور امداد حاصل تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ملا برادر، ملا عمر کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے جنہوں نے سوویت افواج کے1989ء میں افغانستان سے انخلاء کے بعد قندھار میں ایک بڑا مدرسہ تشکیل دے دیا تھا جہاں وہ نئے رنگروٹ بھرتی کرتے تھے۔

جب1996ء میں طالبان نے کابل پر اپنا قبضہ مکمل کر لیا تو ملا برادر کو ہرات اور نیم روز صوبوں کا گورنر مقرر کیا گیا اور پھر وہ مغربی افغانستان میں طالبان کے کور کمانڈر بن گئے ، ساتھ ہی طالبان کی وزارت دفاع میں بھی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ جب ستمبر2001ء کے بعد امریکی افواج نے افغانستان پر حملہ کیا تو انہیں شمالی اتحاد کی معاونت حاصل تھی جو زیادہ تر غیر پشتونوں پر مشتمل تھی۔ ملا برادر نے امریکا اور شمالی اتحاد کے مشترکہ حملوں کا بھرپور مقابلہ کیا مگر کابل کا دفاع نہ کر سکے ۔کہا جاتا ہے کہ ملا عمر کو کابل سے موٹر سائیکل پر بٹھا کر نکالنے والوں میں ملا برادر شامل تھے۔جب دسمبر2001ء میں بون (جرمنی) میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت حامد کرزئی کو اتحادی افواج نے پہلے عبوری رہنما اور پھر افغانستان کا صدر مقرر کیا تو ملا برادر نے نئی افغان حکومت کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی تھیں۔ یہی ملا برادر ہیں جن کے بارے میں امریکا الزام لگاتا رہا ہے کہ وہ کوئٹہ میں افغان شوریٰ کی رہنمائی کرتے رہے ہیں اور تقریباً دس سال بعد2010ء میں پاکستانی اداروں نے ملا برادر کو حراست میں لیا تھا۔بعض ذرائع کے مطابق فروری2010ء میں ملا برادر کو امریکی اور پاکستانی مشترکہ کارروائی میں کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 2012ء تک ان کے بارے میں مزید کوئی خبر نہیں آئی پھر ابتدائی امن مذاکرات کی حوصلہ افزائی کے لئے جن طالبان قیدیوں کی رہائی کی بات کی گئی ان میں ملا برادر شامل تھے۔ اگلے پانچ سال ملا برادر کے بارے میں مختلف اور متضاد خبریں آتی رہیں، کچھ میں بتایا گیا کہ وہ خفیہ مذاکرات میں شامل ہیں، کچھ میں کہا گیا کہ وہ بدستور زیرحراست ہیں اور پاکستانی حکام کی تحویل میں ہیں۔بالاخر چار ماہ قبل خبر آئی کہ پاکستانی حکام نے اکتوبر2018ء میں ملا برادر کے ساتھ دیگر طالبان رہنمائوں یعنی ملا عبدالصمد ثانی، ملا محمد رسول کو بھی رہا کر دیا ہے اور پھر خبر آئی کہ ملا برادر نے کراچی میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنا شروع کر دیا ہے۔ ملا برادر کی اس رہائی میں امریکا کے افغانستان کے لئے خصوصی ایلچی زلمی خلیل زاد نے اہم کردار ادا کیا جو ان مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

اکتوبر2016ء میں ملا محمد عمر کی موت کی خبر کی تصدیق کے بعد ملا برادر طالبان کے سب سے بڑے رہنما رہ گئے ہیں۔ یاد رہے کہ ملا محمد رسول افغانستان میں افغان اسلامی امارات کی ہائی کونسل کے رہنما ہیں جنہوں نے طالبان کے ایک اور رہنما ملا ہیبت اللہ اخوند زادہ کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اب ملا برادر کی آٹھ سال پاکستانی تحویل سے رہائی کے بعد قطر آمد نے مذاکرات کی راہ ہموار کی ہے اور ملا برادر اب قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ہیں۔ ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں بتایا گیا ہے کہ غیرملکی افواج2020ء کے اواخر تک مکمل طور پر افغانستان سے نکل جائے گی۔ افغان طالبان کو بلیک لسٹ سے نکال لیا جائے گا اور ان پر لگی سفری پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ جب کہ طالبان کی طرف سے وعدہ کیا جائے گا کہ وہ افغانستان میں القاعدہ اور داعش یا ’’اسلامی ریاست‘‘ جیسی دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں نہیں دیں گے۔ یاد رہے کہ2014ء میں اس وقت امریکا کے صدر بارک اوباما نے افواج کا بڑے پیمانے پر انخلاء کر لیا تھا جس کے بعد افغانستان میں طالبان کا اثرورسوخ خاصا بڑھ گیا اور بڑے علاقے افغان طالبان کے قابو میں آ گئے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ طالبان کابل کی موجودہ حکومت سے بات کرنا چاہتے ہیں، نہ ہی اس کی کوئی قانونی حیثیت تسلیم کرتے ہیں۔ اس پر ان کا کہنا ہے کہ افغان حکومت ایک کٹھ پتلی سے زیادہ درجہ نہیں رکھتی اس لئے اس سے بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔اس کے جواب میں افغانستان کے صدر اشرف غنی نے دعوت دی ہے کہ طالبان آئیں اور افغانستان کے جس شہر میں چاہیں دفتر کھولیں، تاہم طالبان اس پیشکش کو خاطر میں نہیں لا رہے اور وہ صرف امریکا سے براہ راست بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات بالکل ایسی ہی ہے جیسے مقبوضہ کشمیر میں جب انتخابات کے نتیجے میں کوئی حکومت قائم ہوتی ہے تو کشمیر میں حریت پسند اسے ایک کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہیں کیونکہ عوام کی، کشمیر میں انتخابات میں شمولیت بہت کم ہوتی ہے۔

افغانستان میں بھی گزشتہ پندرہ بیس سال میں جو حکومتیں قائم ہوئی ہیں ان میں عوام کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے، اس لئے انتخابات میں ووٹ ڈالنے عوام نہیں جاتے ، کیونکہ وہاں بھی مقبوضہ کشمیر کی طرح حکومت مخالف گروہوں کے حملوں کا خطرہ ہوتا ہے۔

طالبان کے ایک اور رہنما شیر محمد عباس ستنک زئی کا کہنا ہے کہ طالبان افغانستان پر قوت سے قبضہ کرنا نہیں چاہتے جیسا کہ1996ء میں کیا گیا تھا کیونکہ اب وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح پورے افغانستان میں امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔

اب ملا برادر کے قطر میں ہونے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مذاکرات میں پیشرفت کا امکان ہے لیکن قوی امکان اس بات کا موجود ہے کہ افغانستان سے بیرونی افواج کے نکلنے کے بعد یہ خطہ ایک بار پھر خونریزی کا شکار ہو جائے گا، کیونکہ افغانستان میں پشتون اور غیر پشتون کی تفریق بڑی واضح ہے اور عین ممکن ہے کہ پشتون علاقوں پر طالبان کا کنٹرول مستحکم ہونے کے بعد شمالی افغانستان عملی طور پر ایک خودمختار خطے کی صورت اختیار کر لے جیسا کہ امریکی حملے کے بعد عراق میں ہوا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کو پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ کسی طرح کی خونریزی اور عدم استحکام اگر افغانستان میں ہو تو اس کے اثرات پاکستان پر پڑنے لازمی ہیں جیسا کہ گزشتہ چالیس سال میں ہوتا رہا ہے۔