برطانیہ کی ایک انشورنس کمپنی نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ خصوصاً رواں ماہ اپنی قیمتی اشیا کی حفاظت کو یقینی بنائیں، کیونکہ گزشتہ پانچ برس کے اعداد وشمار کے مطابق جنوری میں سردیوں کی تاریک راتوں میں سونے کے زیورات، جیولری کی دیگر اشیا، قیمتی گھڑیاں اور ہینڈ بیگز چوری ہونے کی وارداتیں 10 فیصد بڑھ جاتی ہیں۔
الیانز یوکے کے مطابق چوری ہونے پر لوگوں کے اوسط کلیم 8 ہزار پاؤنڈ تک کے ہوتے ہیں جبکہ ایک کلیم 82 ہزار پاؤنڈ کا بھی تھا۔
حالیہ مہینوں میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، لوگوں کی اکثریت خاص طور پر ایشیائی افراد سونے کو ایک محفوظ خزانہ تصور کرتے ہیں اور سونے کے زیورات چوروں کے پرکشش ہدف بھی ہوتے ہیں۔
انشورنس کمپنی کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کرسمس پر بھی لوگوں کو قیمتی جیولری تحفے میں ملی ہو اس لیے ضروری ہے کہ قیمتی اشیا کی پیشہ ور افراد سے درست قیمت لگوا کر ان کی رسیدیں اور تصاویر سنبھال کر رکھی جائیں۔
جبکہ اب رمضان بھی زیادہ دور نہیں، اس وقت مسلم گھرانوں کے افراد کے افطار پارٹیز اور پھر تراویح میں جانے کے سبب گھر خالی ہوتے ہیں اور گزشتہ رمضانوں میں دیکھا گیا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں میں سونے کی چوری کی متعدد وارداتیں ہوئی تھیں۔