Advertisement

ادارہ امراض قلب میں روزانہ چھ ہزار مریض

September 07, 2019
 

قومی ادارہ برائے امراض قلب کراچی، اس کے نو سیٹیلائٹ سینٹرز اور دس چیسٹ پین یونٹس میں پورے پاکستان سے روزانہ آنے والے مریضوں کی تعداد چھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

مریضوں کو این آئی سی وی ڈی سسٹم کے ذریعے مفت او پی ڈی سروسز اور ادویات کے ساتھ ساتھ دیگر سہولیات بشمول انجیو گرافی، انجیو پلاسٹی، اوپن ہارٹ سرجری، پیس میکر سمیت دیگر ایمپلانٹس بغیر کسی تفریق و معاوضے کے باقاعدگی سے مہیا کی جا رہی ہیں۔

قومی ادارہ برائے امراض قلب کی کراچی سے لے کر حیدرآباد، ٹنڈومحمدخان، مٹھی، نوابشاہ، سہون، لاڑکانہ، خیر پور اور سکھر میں واقع تمام کیتھ لیبز 24 گھنٹے مریضوں کو انجیوگرافی اور انجیو پلاسٹی کی سروسز مہیا کرنے کے لئے آپریشنل ہیں۔

این آئی سی وی ڈی آنے والے 99 فیصد مریض غریب اور غیر مراعات یافتہ طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں صرف صوبہ سندھ میں صحت کی بین الاقوامی معیار کے مطابق سہولیات بغیر کسی معاوضے کے فراہم کی جاتی ہیں۔

ہفتے کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ندیم قمر کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے ملک بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے این آئی سی وی ڈی سسٹم میں روزانہ چھ ہزار سے زائد مریضوں کو صحت کی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، ان سہولیات میں او پی ڈی سروسز سے لے کر انجیوگرافی، انجیوپلاسٹی، بائی پاس سرجری، بچوں کے دل کے امراض کی سرجریز سے لے کر دیگر کئی پیچیدہ پروسیجرز شامل ہیں۔

بین الاقوامی معیار کی یہ سہولیات صرف این آئی سی وی ڈی کراچی اور اس کے دیگر نو سیٹلائٹ سینٹرز میں بلا معاوضہ فراہم کی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے پورے پاکستان سے مریض جنہیں اپنے صوبوں میں یہ سہولیات لاکھوں روپے خرچ کرکے ملتی ہیں سندھ کا رخ کر رہے ہیں اور این آئی سی وی ڈی کی سہولیات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

پروفیسر ندیم قمر نے مزید کہا کہ اینجو گرافی اور انجوپلاسٹی کی سہولیات کراچی کے علاوہ حیدرآباد، ٹنڈومحمدخان، سہون، مٹھی، نواب شاہ، لاڑکانہ، خیرپور اور سکھر میں مہیا کی جارہی ہیں جبکہ بائی پاس اور اوپن ہارٹ سرجری کی سہولیات کراچی کے علاوہ ٹنڈومحمدخان، لاڑکانہ اور سکھر میں باقاعدگی سے فراہم کی جارہی ہیں۔

اس کے علاوہ کراچی سمیت بدین کے قصبے ٹنڈوباگو اور گھوٹکی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب کے درجنوں چیسٹ پین یونٹ دن رات سینے میں درد اور ہارٹ اٹیک کے مریضوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر رہے ہیں۔

پروفیسر ندیم قمر نے مزید کہا کہ ان کا ادارہ جبکہ اگلے ہفتے سے کراچی کے مختلف علاقوں میں چھ مزید چیسٹ پین یونٹ قائم کرنے جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ سندھ کے تمام 29 ضلعی ہیڈ کوارٹر اسپتالوں میں چیسٹ پین یونٹ قائم کرنے بھی جارہے ہیں جو کہ اپنے نزدیکی سیٹیلائٹ سینٹرز سے منسلک ہوں گے جہاں پر دل کے علاج کی تمام مروجہ سہولتیں مہیا کی جا چکی ہیں یہی وجہ ہے کہ نہ صرف بلوچستان اور جنوبی پنجاب بلکہ پاکستان کے کونے کونے سے دل کے مریض این آئی سی وی ڈی سسٹم سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے جوق در جوق سندھ کا رخ کر رہے ہیں اس وقت بھی قومی ادارہ برائے امراض قلب کے تمام اسپتالوں میں پاکستان کے مختلف کونوں سے آئے ہوئے مریض داخل ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں