پختونخوا میں ناقص کارکردگی والے وزراء کو نوٹس دینے کا فیصلہ

September 12, 2019
 

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر کارکردگی کا جائزہ لینے اور اس کی بنیاد پر اہم فیصلوں کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے تمام محکموں اور اداروں کو ایک مراسلہ جاری کرتے ہوئے ان سے رپورٹس طلب کی ہیں، مراسلہ میں کہا گیا کہ گزشتہ ایک سال کی پانچ بڑی کامیابیوں اور آنیوالے سال کیلئے طے کردہ پانچ اہم اور بڑے اہداف پر مبنی مفصل رپورٹ تیار کی جائے جس میں سروسز کی بہتری کے ذریعے عوامی مشکلات میں کمی کیلئے کئے جانے والے اقدامات، سرکاری امور میں شفافیت، ادارہ جاتی استحکام کیلئے ہونے والے اقدامات، اپنے محکموں کے حوالے سے ملک اور صوبہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے والی کسی قانون سازی کی تفصیلات بھی مانگی گئی ہیں، چنانچہ صوبہ کے تمام محکموں اور اداروں نے اپنی اپنی رپورٹیں وزیر اعلیٰ کے پاس جمع کرا دی ہیں، وزیر اعلیٰ محمود خان خود ان رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد ان کو وزیر اعظم کے حوالے کریں گے، صوبائی حکومت آئندہ چند دنوں میں اس حوالے سے ایک تقریب کا بھی انعقاد کرنے جارہی ہے جس میں تحریک انصاف کے چیئرمین وزیر اعظم عمران خان بھی شرکت کریں گے جبکہ بعد ازاں ان رپورٹس پر اسلام آباد میں اہم مشاورت ہوگی جس کی روشنی میں ممکنہ طور پر بعض وزرا ، مشیروں اور معاونین خصوصی کے قلمدان میں تبدیلی کیساتھ غیر متاثر کن کارکردگی کے حامل کابینہ ارکان کی فراغت کے بھی امکانات ہیں، اس حوالے سے مختلف آپشنز بھی زیر غور ہیں جن میں پہلے مرحلہ میں ناقص کارکردگی والے کابینہ ارکان کو نوٹس دینے کی تجویز بھی شامل ہیں تاکہ انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع مل سکے، جہاں تک کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں ردوبدل یا وزرا کی فراغت کا سوال ہے تو یقیناً یہ مرحلہ اتنا آسان بھی نہیں بلکہ ماضی میں بھی کارروائی کی زد میں آنے والے تحریک انصاف کے ایسے ارکان اپنی قیادت اور حکومت کےخلاف بغاوت کرتے رہے ہیں چنانچہ اس مرتبہ بھی کابینہ سے نکالے جانے کی صورت میں متاثرہ ارکان خاموش نہیں رہیں گے، اسی لئے تو وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان یہ درد اپنے سر لینے کی بجائے یہ کام پارٹی چیئرمین کیلئے چھوڑیں گے تاکہ کابینہ میں ممکنہ ردوبدل یا کسی وزیر کی فراغت کا فیصلہ پارٹی چیئرمین خود کریں کیونکہ جب وزیر اعظم عمران خان تحریک انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے کوئی فیصلہ کریں گے تو پھر کسی کیلئے اس سے رو گردانی کرنا آسان نہیں ہو گا ، قبائلی اضلاع میں انتخابات اور نو منتخب ارکان کی حلف برداری کے بعد اب صوبائی کابینہ کی تکمیل کا مرحلہ باقی ہے کیونکہ صوبائی کابینہ میں مزید دو سے تین وزیر اور دو مشیر شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے، نئے وزیروں اور مشیروں کی تقرری سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر بھی محکموں کا بوجھ کم ہو جائیگا کیونکہ اس وقت وزیراعلیٰ محمود خان کے پاس 17محکموں کے قلمدان موجود ہیں جن میں داخلہ، ایکسائز و ٹیکسیشن ، منصوبہ بندی و ترقیات، جنرل ایڈمنسٹریشن، اعلیٰ تعلیم، مذہبی امور، ہاؤسنگ، ٹرانسپورٹ، بین الصوبائی امور، ریلیف، بحالی و آباد کاری اور سڑکیں شاہراہیں اور عمارات شامل ہیں چنانچہ کابینہ میں توسیع کی صورت میں نئے ارکان کو وزیر اعلیٰ کے پاس موجود17 محکموں میں سے قلمدان دئیے جائیں گے جس کیلئے مشاورت جاری ہے تاہم حتمی فیصلہ تحریک انصاف کی قیادت کرے گی، جہاں تک کابینہ میں توسیع کا تعلق ہے تو وزیر اعلیٰ پہلے ہی قبائلی اضلاع سے دو وزرا لینے کا عندیہ دے چکے ہیں جس کیلئے مختلف ناموں پر ابتدائی مشاورت بھی مکمل کی جاچکی ہے تاہم دوسری جانب خیبر پختونخوا اسمبلی میں3ارکان کی حامل بلوچستان عوامی پارٹی تحریک انصاف کیساتھ بلوچستان اور مرکز کے بعد حکومتی اتحاد کو خیبر پختونخوا تک وسعت دینے کیلئے سرگرم ہے، ’’ باپ‘‘ کے پارلیمانی لیڈر بلاول آفریدی کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور وزیر اعلیٰ محمود خان کے مابین اس ضمن میں ابتدائی رابطے ہوئے ہیں، محرم الحرام کے بعد باضابطہ طور پر بات آگے بڑھائی جائے گی کیونکہ تحریک انصاف اور بلوچستان عوامی پارٹی مرکز اور بلوچستان میں اتحادی ہیں، دونوں پارٹیوں کے مابین بہترین ورکنگ ریلیشنز ہیں، اسلئے خیبر پختونخوا میں بھی دونوں جماعتیں اتحادی رہیں گی تاہم خیبرپختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی ’’باپ‘‘ کیساتھ حکومتی اتحاد کے امکانات کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فی الحال صوبائی حکومت کسی پارٹی سے اتحاد نہیں کر رہی ،اسمبلی میں ہماری اپنی اکثریت ہے، ہمیں کسی دوسری پارٹی سے اتحاد کی ضرورت بھی نہیں، ویسے بھی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے سیاسی حالات میں فرق ہے، خیبرپختونخوا میں کسی بھی صوبے سے زیادہ سیاسی استحکام اور اسمبلی میں ہماری اکثریت ہے، قبائلی اضلاع کے حالیہ انتخابات میں ہمارے کافی لوگ منتخب ہو کر آئے ہیں ہم چاہیں گے کہ ہم ان کو اکاموڈیٹ کریں، بلوچستان عوامی پارٹی والے بلوچستان میں ہمارے پارٹنر ہیں وہاں پر ہمارا اتحاد بڑی کامیابی کیساتھ جا رہا ہے اور انشاء اللہ یہ اتحاد وہیں تک ہی محدود رہیگا، ادھر خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتیں 28اگست کواپنی چار سالہ آئینی مدت پوری کر چکی ہیں ، اب الیکشن رولز کے مطابق آئندہ120دنوں میں نئے بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں گے تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں بنیادی ترامیم کے بعد تین ماہ میں انتخابات کا انعقاد ہوتا نظر نہیں آتا۔