Advertisement

فاطمہ بھٹو نے شاہ رخ خان کی تعریف کیوں کی؟

October 09, 2019
 

سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو نے اپنی نئی کتاب میں بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کو ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے پر سراہا ہے۔

گلوبل رپورٹ کولمبیا کے مطابق فاطمہ بھٹو کی کتاب مشرق میں تیزی سے مغرب کے ثقافتی رجحانات کی طرف تبدیل ہونے پر مبنی ہے۔

فاطمہ بھٹو کی نئی کتاب کا عنوان ’نیو کنگز آف دی ورلڈ ، دی رائس اینڈ رائس آف ایسٹرن پاپ کلچر‘ ہے۔

انہوں نے اپنی کتاب میںان چیزوں کا تذکرہ کیا ہے جو گزشتہ برسوں میں مغربی ثقافت کے منافی کردار ادا کرتی نظر آئی ہیں۔


انہوں نے شاہ رخ خان، ترکی کے مشہور تاریخ پر مبنی ڈرامے اور جنوبی کوریا کے منفرد میوزک کو جدید ثقافت کی دوڑ میں اپنی ثقافت کی اساس قرار دیا ہے ۔

فاطمہ بھٹو نے اپنی کتاب میں اُن افراد کی کاوشوں کو سراہا ہے جنہوں نے اپنی ثقافت کے فروغ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مغربی ثقافت سے منہ موڑا ۔

مصنفہ فاطمہ بھٹو نے شاہ رخ خان کی فلموں ، انٹرویوز کا جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ شاہ رخ خان اپنی ثقافت کی ترویج کی وجہ سے ہی ایک مشہور فلمی اسٹار ہیں۔

انہوں نے ترکی کے سب سے بڑے ٹی وی شو جس کو اردو زبان میں بھی ’میرا سلطان ‘ کے نام سے جیو کہانی پر ڈب کر کے نشر کیا گیا ۔ا س ڈرامے کو 43 ممالک میں 200 ملین افراد نے دیکھا۔ اس کا بھی ذکر کیا اور ترکی کے اس مشہور زمانہ ڈرامے کو مغرب ثقافت کی دوڑ میں ایک منفرد نمونہ قرار دیا۔


فاطمہ بھٹو نے بھی یہ دیکھنے کے لیے جنوبی کوریا کا سفر کیا کہ کے-پاپ کا ’گنگنم اسٹائل‘ یوٹیوب پر سب سے زیادہ دیکھا جانے والا گانا کیسے بنا ؟

فاطمہ بھٹو شاعرہ اور ادیبہ ہیں اور وہ پاکستان ، امریکا اور برطانیہ کے مختلف اخباروں میں کالم بھی لکھتی ہیں۔

1997ء میں پندرہ برس کی عمر میں فاطمہ بھٹو کا پہلا شعری مجموعہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان سے شائع ہوا تھا۔


مکمل خبر پڑھیں