Advertisement

سیکیورٹی سسٹم کی اقسام

October 13, 2019
 

اکثر خبریں سننے کو ملتی ہیں کہ چور یا ڈاکو نقب زنی کرکے گھر میںداخل ہوئے اور سامان لوٹ کر فرار ہوگئے، لیکن بہت سے گھروںمیںسی سی ٹی وی کیمرے لگے ہونے کی وجہ سے ان کی شناخت ہوجاتی ہے، جس سے وہ پکڑے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے ٹی وی چینلز پر بھی بارہا خبریں سنی ہوں گی کہ فلاںچینل نے سب سے پہلے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرلی ۔

چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں سے محفوظ رہنے کیلئے اگر ہم گھر تعمیر کرتے وقت حفاظتی اقدامات کے پیشِ نظر سیکیورٹی سسٹم کی تنصیب کروالیں تو اس سے مستقبل میںہونے والے بڑے نقصانات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

اگر آپ گھر کی تعمیر یا تزئین و آرائش پر لاکھوں روپے خرچ کررہے ہیں تو سیکیورٹی سسٹم نصب کروانے میں بھی کوئی قباحت نہیںہونی چاہئے۔ سب سے بڑھ کر یہ سسٹم آپ اپنے قیمتی سامان سمیت اپنے پیاروں کی قیمتی جانیں بچانے کیلئے لگواتے ہیں۔

سیکیورٹی سسٹم کی مختلف اقسام اورفنکشن ہوتے ہیں۔ آپ اپنے گھر کیلئے اسی وقت ایک بہترین سسٹم منتخب کرسکتےہیںجب آپ ان کے بارے میںمعلومات رکھتے ہوں۔ آئیںان کی اقسام کے بارے میںجانتے ہیں۔

نگرانی والاسیکیورٹی سسٹم

بازاروں میں دستیاب سسٹمز میں مانیٹرڈ سیکیورٹی سسٹم الارم اس وقت سب سے مقبول ہے۔ بنیادی طور پر یہ سسٹم کسی بھی کال سینٹر، سیکیورٹی ٹیم یا ایمرجنسی اداروںکو اطلاع دینے کے لیے ہوتا ہے، جو گھر میں چور کے داخل ہونے، آگ لگنے یا دیگر ہنگامی حالات کے وقت الرٹ کرنےکے لیےآن ہوجاتا ہے۔ اس سسٹم کی دو اقسام موجود ہیں، ایک کمپنی مانیٹرڈ سسٹم اور دوسرا سیلف یعنی ذاتی مانیٹر ڈ سسٹم۔

سیلف مانیٹرڈ سسٹم

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ یہ ایسا سسٹم ہے، جسے آپ خود مانیٹر اور کنٹرول کرتے ہیں۔ اس سسٹم میںموشن سینسرز، ڈور سینسرز اور سیکیورٹی کیمرے شامل ہوتے ہیں، ساتھ ہی اس میں الارم بھی لگے ہوتے ہیں،جو وقت پڑنے پر بج اُٹھتے ہیں۔ سیلف مانیٹرنگ سسٹم آپ کے موبائل ایپ سے بھی منسلک ہوتے ہیں، آپ دور ہو کر بھی اپنے موبائل فون کے ذریعے نگرانی کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس سسٹم کو آپ سیکیورٹی اداروںکی مدد لینے کے لیے بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

مانیٹر نہ کرنے والا سیکیورٹی سسٹم

اس قسم کا سیکیورٹی سسٹم دراصل آپ کی املاک کی رکھوالی کے لیے ہوتاہے اور جیسے ہی کوئی آپ کی املاک میںداخل ہونے یا اسے نقصان پہچانے کی کوشش کرتاہے تو اتنا تیز الارم بجتاہے کہ گھسنے والے کے کان بہرے ہونے لگتے ہیںاور اسے فرار ہونے میںہی عافیت محسوس ہوتی ہے۔ اس سسٹم میںموشن سینسرز، کنٹرول پینل، گلاس بریک سینسرز، سائرن، ڈور اور ونڈو سینسرز اور اسموک ڈیٹیکٹر شامل ہوتے ہیں۔ کچھ سسٹم موبائل فون سے بھی منسلک ہو جاتے ہیں تاکہ آپ دور ہو کر بھی اپنی املاک کی نگرانی کرسکیں ۔

کمپنی مانیٹرڈ سسٹم

کمپنی مانیٹرڈ سیکیورٹی سسٹم کو پیشہ ور ادارے یا افراد کنٹرول کرتے ہیں۔ ان سسٹمز میں ڈور سینسرز، موشن ڈیٹیکٹرز، کیمرے، گلاس بریک سینسرز، لائوڈ سائرن اور خاموش الارم شامل ہوتے ہیں۔ اگرچہ ہر سسٹم کے الگ الگ فنکشن ہوتے ہیں مگر زیادہ تر کمپنی مانیٹرڈ سیکیورٹی سسٹم اپنے متعلقہ کانٹیکٹ سینٹرز سے منسلک ہوتے ہیں اور جیسے ہی کوئی آپ کے گھر میں داخل ہوتا ہے ، کمپنی میںموجود الار م بج اٹھتاہے۔ مزید برآں، تصدیق کے لیے آپ کو فون کال بھی موصول ہوتی ہے تاکہ پتہ چلایا جاسکے کہ مبادا کہیں الارم غلطی سے تو نہیں بج اٹھا۔ تاہم حقیقی صورتحال میں الارم بجنے پر سیکیورٹی ادارہ یا کمپنی اپنے کارندے فوری طور پر بھیجتی ہے تاکہ اصل معاملے کا پتہ چلایا جاسکے یا معلوم کریں کہ آپ نے تصدیق کے لیے کیا جانے والا فون کیوںنہیںاٹھایا۔

وائرڈ ہوم سیکیورٹی سسٹم

اس میںایک الارم پینل تاروں پر مشتمل ہوم سیکیورٹی سسٹم سے منسلک ہوتا ہے، جس میں کم وولٹیج کی وائرنگ ہوتی ہے۔ گھر کے تمام داخلی راستوں کی تاریںموشن ڈیٹیکٹرز، کی پیڈز اور دیگر سیکیورٹی ڈیوائسز کے ساتھ مرکزی کنٹرول پینل کے طرف چلی جاتی ہیں۔ تاروںپر مشتمل یہ وائرڈ ہوم سیکیورٹی سسٹم، وائرلیس کے مقابلے میں زیادہ بھروسہ مند ہوتاہے ، کیونکہ اس کا مرکزی پینل ہر ڈیوائس کے ریئل ٹائم اسٹیٹس کو ظاہر کرتاہے ۔

وائرلیس سیکیورٹی الارم سسٹم

یہ بھی وائرڈ یعنی تاروںوالے سسٹم کی طرح ہی ہوتاہے، تاہم وائرلیس سیکیورٹی الارم سسٹم میں ڈیٹیکٹرز، سینسرز، کیمرے، الارم اور مرکزی کنٹرول پینل شامل ہوتا ہے۔

سی سی ٹی وی کیمرا

آج کے دورمیںسی سی ٹی وی کیمروں کی بہت مانگ ہے۔ اکیسویںصدی کی سب سے کارآمد ٹیکنالوجی اب آپ کی دسترس میںبھی ہے۔ چوروں یا ڈکیتوں کو جب یہ کیمرے نظر آتے ہیںتو وہ گھر کے قریب بھی نہیںپھٹکتے۔ اس کے علاوہ بچوں کے کمرے میںان پرنظر رکھنے یا ملازمین کے رویّوںکو جاننے کے لیے بھی سی سی ٹی وی کیمرے بہت کام آتے ہیں۔یہ آپ کے موبائل سے بھی منسلک ہوتے ہیں اور آپ گھر کے باہر یا آفس میںموجود رہ کر بھی گھر کے حالات سے باخبر رہ سکتے ہیں۔


مکمل خبر پڑھیں