Advertisement

موٹروے چیک پوسٹ، میدان جنگ بن گئی

October 20, 2019
 

وفاقی حکومت کی ناقص حکمت عملی کے باعث شہروں کو ملانے والے ہائی ویز پر بھاری گاڑیوں کی طویل قطاروں کی وجہ سے کئی مقامات پر ٹریفک جام کے واقعات عام ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے ہائی ویز پر تعینات عملے اور بھاری گاڑیوں کے ڈرائیور ،کلینر کے درمیان جھگڑوں کی شکایات بھی بڑھتی جارہی ہیں۔ اسی ناقص حکمت عملی کے باعث معمولی جھگڑے نے قتل و غارت گری کا رو پ اختیار کرلیا، جس قومی شاہراہ اور موٹر وے کو ملانے والے لنک روڈ پر کاٹھور کے مقام پر تین افراد کی جان چلی گئی۔

اس واقعہ کی تحقیقات کیا ہونی ہے یا اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کیا کارروائی ہوگی، یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب ملنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی میں اس طرح کے واقعات میں مقتولین کے ورثا صرف احتجاج تک ہی محدود رہے ۔ شہرقائد میں حفاظت اور قانون نافذ کرنے پر مامور اہلکار ہی شہریوں کے قاتل بن گئے۔کاٹھور موڑ کے قریب لنک روڈ پر ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو ٹرالر ڈرائیورزاور کلینر سمیت تین افراد ہلاک و دیگر زخمی ہوگئے۔

تشویش ناک حالت کے باوجودز خمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال نہیں پہنچایا گیا جس کے نتیجے میں تین افراد تڑپ تڑپ کراسی جگہ دم توڑ گئے۔ اس افسوس ناک واقعے کی اطاع ملنے کے بعد پولیس و رینجرز موقع پر پہنچی اور لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار وں کی نہتے ڈرائیوروں پر فائرنگ میں تین افراد کی قتل کے واقعے کے بعد ڈرائیوروں نےسخت احتجاج کرتے ہوئے سڑک کو بلاک کردیا۔ہ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ فائرنگ کرنے والے اہلکاروں کو گرفتار کرنے کے بجائے انہیں موقع سے فرار کروانے میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے اہلکار ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ بدھ کو 3 افراد کی ہلاکت کے خلاف ٹرک ڈرائیورز نے کاٹھور کے قریب لنک روڈ اور انصاری پل کے قریب سپر ہائی وے بند کر دی تھی ،احتجاج کے باعث کراچی حیدرآباد موٹر وے کے دونوں ٹریک پر ٹریفک کی روانی معطل تھی، جس کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔کراچی آنے اور کراچی سے دیگر شہروں کی جانب جانے والے مسافر کئی گھنٹے تک ٹریفک جام میں پھنسے رہے۔ڈی آئی جی عامر فاروقی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے تاہم احتجاج جاری رہا۔، مظاہرین نے روڈ پر کچرا اور دیگر سامان رکھ کر آگ لگا دی ،پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی جس پر مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔دوسری جانب آئی جی سندھ نے فائرنگ سے تین افراد کی موت کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر سے فوری رپورٹ طلب کرلی ۔بعد ازاںمظاہرین سے صوبائی وزیر غلام مرتضی بلوچ نے مذاکرات کئےاور مذاکرات کے بعد ان کی موجودگی میں واقعے کا مقدمہ درج ہونے پر سپر ہائی وے پر 9 گھنٹے سے زائد جاری احتجاجی دھرنا ختم کردیا۔

بعد ازاں میمن گوٹھ تھانے میں ایف ڈبلیو او کے خلاف پولیس نے 3ٹرک ڈرائیوروں کی ہلاکت کامقدمہ الزام نمبر232/19زیر دفعہ 302-324-34کے تحت شیر ایوب خان کی مدعیت میں درج کر لیا ہے،ذرائع کے مطابق مقدمہ درج کر کے اسے سیل کر دیا گیاہے۔مقدمے کے مدعی یونائٹیڈ ٹرالر ایسوسی ایشن کے صدر شیر ایوب خان نے بتایا کہ موٹر وے کاٹھور موڑ لنک روڈ پرمبینہ اوور لوڈنگ کے باعث ٹرالر ز گھنٹوں طویل قطار میں لگنے کے باعث شدید ذہنی اذیت کا شکار رہتے ہیں تاہم لوڈ چیک کرنے میں عملہ کی جانب سےسست روی کا مظاہرہ معمول ہے جس کے سبب ڈرائیور وںکو گھنٹوں اور کبھی کئی دنوں تکنتظار کرنا پڑتا ہے۔

ایسا ہی واقعہ بدھ کو لنک روڈ پر پیش آیا جب پورٹ قاسم سے کنٹینر لوڈ کرکے اندرون ملک جانے والے دوسوسے زائد ٹرکوں کو ایف ڈبلیو او کے اہلکاروں نے مبینہ طور پر اوور لوڈنگ کے نام پر تین دن سے روک رکھا تھا۔انہوں نے الزام عائد کیاکہ طویل عرصے سے ٹرالر ڈرائیورز سے اضافی لوڈ پر 10سے 12ہزار روپے لے کر لوڈنگ گاڑیوں کو موٹر وے پر جانے کی اجازت دی جاتی رہی ہے جس کے لیے اداروں کے ایجنٹ خود ہی رابطہ کرکے رقم وصول کرتے تھے۔

انہوں نے مزیدبتایا کہ جمعرات کو ایف ڈبلیو او حکام سے مذکرات کیے ہیں جس میں ہم نے واضح طور پر اپنا موقف رکھا ہے کہ صرف کراچی سے اندرون ملک جانے والے ٹرکوں پر تو اضافی وزن پر پابندی ہے لیکن پنجاب سے اوور لوڈنگ کی اجازت دے رکھی ہے جوکہ دوہری پالیسی کا ثبوت ہے۔انہوں مزید بتایا کہ فائرنگ میں ملوث اہلکاروں کو پولیس کے حوالے کرنے کی بھی ایف ڈبلیو او حکام نے یقین دہانی کرائی گئی۔ تاہم اگر ہمارے ڈرائیوروں کے قتل میں ملوث اہلکارو ں کو پولیس کے حوالے نہیں کیا گیا توہم دوبارہ موٹروے پر دھرنادیں گے اور مظلوم ڈرائیور وںپر ہونے والے ظلم کا حساب لیں گے۔

اس ضمن میں سیاسی جماعتوں نےڈرائیوروں کےبہیمانہ قتل پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ اس سلسلے میں جماعت اسلامی سندھ کے جنرل سیکرٹری کاشف سعید شیخ نے سپرہائی وے کراچی پرایف ڈبلیو اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ کرکے تین ڈرائیوروں کو قتل اورکئی کو زخمی کرنے والے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کی واقعے کی عدالتی تحقیقات کرکے ملوث ملزمان کو قرارواقعی سزادی جائے۔


مکمل خبر پڑھیں