اعلیٰ حضرت، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ...

October 25, 2019
 

یاسر عالم

اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان فاضلِ بریلویؒ وہ عظیم شخصیت ہیں،جنہوں نے عقائدِ جمہورِ اُمت اور طریقۂ سلف کی حفاظت وبقا کے لیے بے مثال کردار ادا کیا ۔ آپ کی پیدائش10شوال 1272ھ مطابق 14جون 1856ء کو بریلی میں ہوئی،پانچ سال کی عمر میں قرآنِ مجید ناظرہ مکمل کیااور 1869ء میں علوم ِ دینی وعقلی کی تکمیل کرکے منصبِ افتاء پر فائز ہوئے ۔1877ء میں شاہ آلِ رسول مارہروی سے سلسلۂ قادریہ میں بیعت ہوئے ۔آپ نے بعض علوم میں ذاتی مطالعہ،غور وفکر سے کمال حاصل کیا،خصوصاً ریاضی اور علمِ فلکیات میں ۔1878ء میں پہلا حج اپنے والد نقی علی خان مرحوم کے ہمراہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعدد علوم وفنون میں حیرت انگیز مہارت عطافرمائی تھی۔مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وائس چانسلر ڈاکٹر سر ضیاء الدین ریاضی کا ایک لا ینحل مسئلہ لے کر حاضر ہوئے،جسے آپ نے حل کیا تو وہ بے اختیار پکار اُٹھے : ’’یہ ہستی صحیح معنیٰ میں نوبل پرائز کی مستحق ہے ‘‘۔

فقہ میں اُنہیں کمال حاصل تھا۔حکیم عبدالحئی ندوی ’’ نزہۃ الخواطر ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ فقہ حنفی اور اُس کی جزئیات پر انہیں وہ عبور حاصل تھا جو شاید ہی کسی دوسرے کو حاصل ہوا۔ اس حقیقت پرفتاویٰ رضویہ شاہد ہے،ڈاکٹر اقبال واشگاف لفظوں میں ان کی فقاہت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں ۔امام احمد رضا ؒ نے قرآن وحدیث کا بہت ہی وسیع اورعمیق مطالعہ کیاتھا،سورۃ الضحیٰ کی تفسیر لکھنے لگے تو 600صفحات سے تجاوز کرگئی، قرآن مجید کا ترجمہ لکھا،جسے بلامبالغہ ان کا علمی شاہ کار قراردیا جاسکتا ہے۔

مُحدّثِ بریلویؒ فردِ واحد کا نام نہیں،یہ عشقِ رسالت ﷺ کی ایک تحریک کا نام ہے ،دلوں کے اندر عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے روشن قندیل کا نام ہے۔علوم وفنون کا یہ خورشیدِ تاباں ہشت پہلو ہیرے کی مانند ہے ،جس کے علمی ورثے کی نورانی کرنیں ایک عَالم کو مُنوّر کررہی ہیں۔آپ کی فکر ونظر اور قرطاس وقلم کا مرکز ہمیشہ قرآنِ مجید اور سیدِ عالم ﷺ کی ذاتِ کریم رہی،مولانا ترجمانِ علم وحکمت اور داعیٔ حق وصداقت واتحاد بین المسلمین کے علم بردار تھے ۔آپ شیریں بیانی سے بچھڑے لوگوں کو قریب کرتے رہے ۔زورِتقریر سے بے دینوں کا منہ بند کرتے رہے ۔آپ نے گلشنِ عظمت مصطفیٰ ﷺ کو ہرابھرا بنایا،گمراہوں کو راہِ حق دکھانے میں بے پناہ محنت کی،ہزاروں بہکے ہوئے لوگوں کو درِبار نبی ﷺ پر لاکھڑا کیا۔آپ دشمنانِ خدا اوردشمنانِ رسول اللہ ﷺ پر بجلی بن کر گرتے رہے ۔آپ نے اللہ عز وجل کی وحدانیت اور سرکار دوعالم ﷺ کی عظمت وحُرمت کا ڈنکا دنیا میں بجایا ۔

آپ نے دینِ مبین کی راہ میں آندھیوں سے تیز اٹھنے والے فتنوں اورسیلاب کی طرح بڑھنے والی گمراہیوں کے سامنے دیوارآہن کا کام کیا،آپ اس پُرآشوب دور میں میدانِ عمل میں کود پڑے ،جب ہزاروں بیدرد اسلام کے ہرے بھرے چمن کو اجاڑ دینے کی کوششوں میں مصروف تھے ،وہ مسلمانوں کا متاعِ ایمان لوٹنے پر تُلے ہوئے تھے ۔جب مرزا قادیانی انگریزوں کی ناپاک سازش کے عین مطابق پہلے امام مہدی اور پھر مسیح موعود اورپھر اپنے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرکے سیکڑوں مسلمانوں کو گمراہ کررہا تھا،ساری کارروائیاں اسلامی تبلیغ کے نام پر انجام دے رہا تھا،تو اس فتنے کا سدِ باب کرنے میں آپ نے اہم کردار ادا کیا ۔

اعلیٰ حضرتؒ نے مُلحد ،فاسق اور نام نہاد صوفیوں کے خلاف بھی اپنا فریضہ انجام دیا۔آپ نے اپنی کتاب’’ مقال العرفاء‘‘ میں قرآن وحدیث اور اقوالِ علماء سے ثابت کیا کہ شریعت اصل ہے اور طریقت اس کی فرع ،شریعت منبع ہے اور طریقت اس سے نکلا ہوا ایک دریا ،طریقت کی جدائی شریعت سے محال ودشوار ہے ،شریعت ہی طریقت کا دارومدار ہے اور شریعت ہی اصل معیار ہے۔ طریقت میں جوکچھ منکشف ہوتا ہے،شریعتِ مطہرہ ہی کی اتباع کا صدقہ ہے،جس حقیقت کو شریعت رَد فرمائے ،وہ حقیقت نہیں ،بے دینی اور زندقہ ہے ۔

اعلیٰ حضرتؒ کا اہم کارنامہ’’ فتاویٰ رضویہ ‘‘ہے ،جسے پاک وہند اور دیگر ممالک کے علمانے ’’ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام‘‘اور ایک عظیم فقہی شاہ کار قراردیا ہے۔علامہ عبدالرؤف سابق شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ(یوپی) لکھتے ہیں:’’فتاویٰ رضویہ (قدیم )بارہ جلدوں میں ہے،جس کی ہر جلد تقریباًہزار صفحات پر مشتمل ہے،جس میں فقہ اسلامی کے ہزارہا مسائل پر ایسی تحقیق بیان ہوئی ہے ،جو اپنی مثال آپ ہے ۔آپ کے بیش تر فتاویٰ کثیرالتعداد آیات ِ قرآنی،احادیثِ کریمہ اور روایتِ اصول وفروع کی شہادتوں سے گراں بار ہوئے ہیں ‘‘۔ اس وقت موجودہ’’ فتاویٰ رضویہ‘‘ تخریج کے ساتھ33جلدوں پر مشتمل ہے،جو ایک بڑا علمی ذخیرہ ہے۔تحقیقاتِ علمی میںامام احمد رضاؒکا بلند ترین مقام تو اہلِ علم کے نزدیک مُسلّم ہی ہے ،اس کے ساتھ ساتھ وہ شعروادب میں قادرالکلام اساتذہ کی صف میں شامل تھے ،جامعہ الازہر مصر کے ڈاکٹر محی الدین الوائی نے اس امر پر حیرت کا اظہارکیاہے کہ علمی موشگافیاں کرنے والا مُحقق،نازک خیال ادیب شاعر بھی ہوسکتا ہے،البتہ انہوں نے اصنافِ سُخن میں سے حمدِ باری تعالیٰ،نعت اور منقبت کو منتخب کیا اور قصیدۂ معراجیہ اور مقبولیتِ عامہ حاصل کرنے والا سلام ’’مصطفیٰؐ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام‘‘جیسے ادب پارے پیش کیے ۔فلسفۂ جدید (سائنس )اور فلسفۂ قدیم کے نظریات پر ’’الکلمۃ الملہمہ ‘‘ اور ’’فوزِ مبین‘‘ میں سخت تنقید کی ۔ان کا نظریہ یہ تھا کہ سائنس کو اسلامی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ سائنس کو اسلام کے تابع کیاجائے، ناکہ اسلام کو سائنس کے سانچے میں ڈھال دیا جائے ۔اعلیٰ حضرتؒکی جملہ تصانیف کی بنیاد اسلام اور داعی اسلام سیدالانام ﷺ سے گہری وابستگی پر ہے ۔اسلامیانِ پاک وہند کے دلوں میں رسول اللہ ﷺ کی محبت وعقیدت تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ بسانے میں انہوں نے نہایت اہم کردار ادا کیا ۔1919ء اور 1920ء میں تحریکِ خلافت اور تحریکِ ترکِ موالات شروع ہوئی ،پہلی تحریک کا مقصد ’’سلطنتِ عثمانیہ ‘‘ ترکی کی حفاظت اور امدادتھا ،جب کہ دوسری تحریک کا مقصد ہندوستان کی آزادی کے لیے بائیکاٹ کے ذریعے حکومت ِبرطانیہ پر دباؤڈالنا بتایا گیا ۔قریب تھا کہ مسلمان اپنا ملی تشخص کھو کر ہندو مت میں مدغم ہوجائیں اس ماحول میں امام احمد رضاؒ نے ’’الحجۃ الموتمنہ‘‘ اور ’’ انفس الفکر‘‘ جیسے رسائل لکھ کر سازشوں کو ناکام بنایا اور دلائل سے ثابت کیا کہ ہندو نہ تو مسلمانوں کا خیرخواہ ہے اور نہ ہی وہ مسلمانوں کا امام بن سکتا ہے ،نیز یہ کہ ہندو الگ اور مسلمان الگ قوم ہے ۔

ایک طرف پاک وہند کے درجنوں ادارے امام احمد رضاؒ کی تصانیف اور ان کی دینی وملی خدمات پر لکھی جانے والی کتابوں کی اشاعت میں مصروف ہیں،تو دوسری طرف پٹنہ ،جبل پور،علی گڑھ،کراچی ،پنجاب کی یونیورسٹیوں میںامام احمد رضا ؒ کی مختلف پہلوؤں پر خدمات کے حوالے سے تحقیقی کام ہوچکا ہے اور ہورہا ہے۔اسی طرح افریقہ ،یورپ ،لندن اورامریکہ کی یونیورسٹیوں اور اداروں میں بھی کام ہورہا ہے ۔اس طرح آپ کی عبقری شخصیت کا تعارف بین الاقوامی سطح پر ہورہا ہے ۔اعلیٰ حضرتؒ کا وصال 25صفر1340ھ مطابق 28اکتوبر1921ء کو ہوا۔