قبائلی اضلاع کے پولیس نظام میں زبردست پیش رفت

November 03, 2019
 

قبائلی اضلاع کے خیبر پختون خوا میں انضمام کے بعد، تمام محکموں کے دائرۂ اختیار کی ان علاقوں تک توسیع کا آغاز کردیا گیا ہے۔ اِس ضمن میں پولیس نظام کے نفاذ کے لیے بھی تیزی سے پیش رفت جاری ہے۔ خیبر پختون خوا پولیس کے سربراہ، ڈاکٹر محمّد نعیم خان دھیمے لہجے اور مفاہمانہ مزاج کے حامل افسر ہیں، پھر یہ کہ اُن کی’’ عوام دوست افسر‘‘ کے طور پر بھی مضبوط شناخت ہے۔ قبائلی عمائدین، لیویز اور خاصّہ دار فورسز کے اہل کاروں کو نئے پولیس نظام کے حوالے سے کئی تحفّظات تھے، مگر جب اُن کے آئی جی کے ساتھ اجلاس ہوئے، تو تمام شکوے، شکایات ایک ایک کرکے ختم ہوگئے۔

اس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ آئی جی، ڈاکٹر محمّد نعیم نے اُن پر اپنی بات زبردستی تھوپنے کی بجائے مکالمے کو اہمیت دی،نیز، اس دوران مقامی افراد کی جانب سے سامنے آنے والی تجاویز پر کُھلے دِل و دماغ سے غور کیا گیا۔ ضم شدہ اضلاع میں پولیسنگ کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے اُٹھائے گئے اقدامات و اصلاحات کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

سروس اسٹرکچر سے متعلق درپیش مسائل: لیویز اور خاصّہ دار فورس کے اہل کاروں کو پولیس میں ضم کرتے وقت سنیارٹی، مراعات، سروس اسٹرکچرز سمیت کئی مشکلات درپیش تھیں۔لہٰذا، سینٹرل پولیس آفس، پشاور میں اس حوالے سے کئی نشستیں ہوئیں اور بالآخر باہمی مشاورت سے تمام مسائل حل کر لیے گئے۔ ان پیچیدہ معاملات کے حل میں ایڈیشنل آئی جی، اسپیشل برانچ اور ڈی آئی جی، انسدادِ دہشت گردی کی کاوشیں خاص طور پر قابلِ تحسین ہیں۔

چوں کہ ڈاکٹر محمّد نعیم خان نے افسران کو نئے نظام پر عمل درآمد کرتے وقت انتہائی بُردباری اور صبر و تحمّل سے کام لینے، قبائلی مشران اور عوام کو اعتماد میں لے کر ہی آگے بڑھنے کی ہدایت کی ہے، اس لیے ہر قدم پر’’ دِل جیتنے کی پالیسی‘‘ کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ ان اضلاع میں نئے پولیس نظام پر عمل درآمد میں اگرچہ کچھ وقت تو لگے گا، لیکن یہ طے ہے کہ عوام کے تعاون سے حکومتی پالیسیز پر ہرصُورت عمل ہوگا۔

ڈی پی اوز کی تعیّناتی: نئے ضم شدہ اضلاع میں ڈی پی اوز کی تعیّناتی بھی ایک بڑا چیلنج تھا۔ ان اضلاع کی اہمیت اور درپیش چیلنجز کے پیشِ نظر پولیس کے پاس دو آپشنز تھے۔ ایک تو یہ کہ وہاں’’ بہترین میں سے بہترین‘‘ افسران بہ طور ڈی پی اوز تعیّنات کیے جائیں یا پھر علاقے کے لحاظ سے موزوں افسران تلاش کیے جائیں۔سو، آئی جی نے علاقے کی اہمیت اور حسّاسیت کے مطابق موزوں افسران کی تقرّری کو ترجیح دی۔ علاوہ ازیں، ان افسران کو مقامی افراد سے رابطے بڑھانے اور فیصلہ سازی کے عمل میں اُنھیں شریک کرنے کی ہدایت کی گئی۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ قبائلی مشران اور عوام، افسران کے ساتھ بھرپور تعاون کررہے ہیں۔ وہاں ایک نئے اور مضبوط نظام کی داغ بیل ڈالی جاری ہے۔ نئے اضلاع میں مجموعی طور پر186 پولیس افسران کو خدمات سپُرد کی گئی ہیں۔ باجوڑ میں 29 ، مہمند میں 19، خیبر میں 14 ، کُرم میں 12، اورکزئی میں 9، شمالی وزیرستان میں 24، جنوبی وزیرستان میں30 ، سابقہ ایف آر پشاور میں 15، ایف آر کوہاٹ میں 14، ایف آر بنّوں میں 7 ، ایف آر لکی میں 10، ایف آر ڈی آئی خان میں 02 اور ایف آر ٹانک میں ایک افسر تعیّنات کیا گیا ہے۔

ٹریفک نظام: نئے اضلاع میں ٹریفک معاملات بہتر بنانے کے لیے ٹریفک اہل کاروں نے خدمات سرانجام دینی شروع کردی ہیں۔ مقامی افراد کی سہولت کے لیے اُنھیں وہیں پر ڈرائیونگ لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔ باجوڑ، کُرم اور جنوبی وزیرستان میں ڈرائیونگ لائسنسز کے اجراء کو مقامی افراد کی جانب سے کافی پذیرائی ملی۔ سب سے اہم بات یہ کہ شمالی وزیرستان میں خواتین پولیس اہل کاروں کی تعیّناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ حکومت اور سیکوریٹی فورسز کے عوامی رنگ میں ڈھلنے سے مقامی افراد کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

پولیس اسٹیشنز کا قیام: ضم شدہ اضلاع اور ایف آر ایریاز میں25 پولیس اسٹیشنز اور 63پولیس پوسٹس قائم کی جا چُکی ہیں۔ ضلع مہمند میں 3 پولیس اسٹیشنز اور 6 پولیس پوسٹس، باجوڑ میں2 پولیس اسٹیشنز اور 7 پولیس پوسٹس، خیبر میں 3 پولیس اسٹیشنز اور 8پولیس پوسٹس، کُرم میں 3پولیس اسٹیشنز اور 6پولیس پوسٹس، اورکزئی میں 2پولیس اسٹیشنز اور 4پولیس پوسٹس، شمالی وزیرستان میں 3پولیس اسٹیشنز اور 10پولیس پوسٹس، جنوبی وزیرستان میں 3پولیس اسٹیشنز اور 13پولیس پوسٹس، سابقہ ایف آر پشاور، ایف آر کوہاٹ، ایف آر بنّوں اور ایف آر لکی مروَت میں ایک ایک پولیس اسٹیشن اور ایک ایک پولیس پوسٹ، ایف آر ڈی آئی خان میں ایک پولیس اسٹیشن اور 3پولیس پوسٹس جب کہ ایف آر ٹانک میں ایک پولیس اسٹیشن اور 2پولیس پوسٹس بنائی گئی ہیں۔ ایف آئی آرز کے اندراج کا سلسلہ شروع ہو چُکا ہے اور اب تک ان پولیس اسٹیشنز میں 190 ایف آئی آرز درج بھی ہو چُکی ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے پولیس اسٹیشن، وانا میں 12، درازندہ میں01 ، جنڈولہ میں3 ،ضلع شمالی وزیرستان کے پولیس اسٹیشن، میران شاہ میں 3، ضلع کُرم کے پولیس اسٹیشن، اپرکُرم پارہ چنار میں 24، سینٹرل کُرم میں 13،ضلع اورکزئی کے پولیس اسٹیشن، درّہ آدم خیل میں 10، غلجو میں 4 اور کلایا میں18 ،ضلع خیبر کے پولیس اسٹیشن، باڑہ میں 21اور جمرود میں 23، ضلع مہمند کے پولیس اسٹیشن لوئر مہمند میں 13 اور بیزئی میں 2 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔

اہل کاروں کی تربیت: اسی طرح ضم شدہ اضلاع میں پولیس جوانوں کے لیے تربیتی پروگرامز کا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ ضلع باجوڑ میں ایک ہزار جوانوں کو پُرتشدّد ہجوم سے نمٹنے کی تربیت دی گئی۔اس کے علاوہ، پولیس اسکول آف ایکسپلوزیو ہینڈلنگ میں 98جوانوں اور پولیس اسکول آف انویسٹی گیشن میں 63جوانوں کو مختلف کورسز کروائے گئے۔ ضلع خیبر کے پولیس اہل کاروں نے بھی ٹریفک قوانین سمیت کئی تربیتی پروگرامز میں شرکت کی۔ اہل کاروں کے لیے بارودی مواد ناکارہ بنانے، تفتیشی اُمور میں بہتری، خلافِ قانون مجمعے کو پُرامن طریقے سے ہینڈل کرنے، دہشت گردوں کے خلاف کام یاب حکمتِ عملی، کمانڈو تربیت، دہشت گردوں کے خلاف اطلاعات اکٹھی کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادے کے ساتھ دیگر بنیادی تربیت کے پروگرامز بھی وضع کیے جارہے ہیں۔

صوبے کی تاریخ میں پہلی بار نئے ضم شدہ اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات نہایت پُرامن طریقے سے ہوئے۔ اس کے ساتھ، نئے اضلاع میں تنازعات کے حل کی کاؤنسلز کے قیام کے لیے ابتدائی کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ اُمید ہے، وہاں بھی’’ ڈی آر سی‘‘ اپنی کام یابی کے جھنڈے گاڑنے میں پیش پیش ہوگی۔ دیکھا جائے تو تنازعات کے حل کا یہ طریقہ قبائلی رسم ورواج میں پہلے سے موجود ہے، اس لیے اسے سب سے زیادہ پذیرائی ملنے کی توقّع ہے۔

آئی جی پولیس، ڈاکٹر محمّد نعیم خان کا واضح عزم ہے کہ پولیس فورس میں لیویز اور خاصہ دار کے انضمام کا عمل بہت جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت سے وہ مطمئین ہیں۔ نئے انتظام میں تن خواہ، سروس اسٹرکچر اور دیگر جائز حقوق ومراعات کی فراہمی کا عمل افہام وتفہیم اور قوانین کے مطابق پایۂ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ آئی جی پی نے واضح کیا ہے کہ وہ تمام اہل کاروں کے حقوق کے امین ہیں اور کسی کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی۔خیبر پختون خوا شان دار روایات کا امین ہے۔

ہماری تہذیب و ثقافت، روایات، اقدار، رہن سہن، غمی و خوشی منانے کے طریقے یک ساں ہیں، تو پھر ہمیں کیوں ایک دوسرے سے الگ رکھا جا رہا تھا؟چلیے،’’ دیر آید، درست آید‘‘ کے مِصداق اب ہم قانونی طور پر بھی ایک دوسرے سے جُڑ گئے ہیں۔تو اب ہمیں مل جُل کر پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لیے اغیار کے ہتھکنڈوں اور پھیلائی گئی نفرتوں کو ناکام بنانا ہے۔