بیرسٹر سلطان محمود کا آزاد کشمیر اسمبلی میں 8 ویں مرتبہ ممبر منتخب ہونے کا اعزاز

November 28, 2019
 

آزاد کشمیر کے انتخابی حلقے ایل اے 3میرپور سے سابق وزیر چوہدری محمد سعید کی سپریم کورٹ سے نااہلی کے باعث خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی اے امیدوار سابق وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار چوہدری صہیب سعید کے 13813ووٹوں کے مقابلے میں 17673 کی واضح برتری سے اس انتخابی معرکے میں کامیابی حاصل کر کے آزاد کشمیر قانون ساز ا سمبلی میں آٹھویں مرتبہ ممبر منتخب ہونے کا منفرد ریکارڈ بھی قائم کر دیا ہے۔

بیرسٹر سلطان محمود نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ الیکشن جیت کر وزارت عظمیٰ میرپور لائیں گے جس سے آنے والے دنوں میں وزارت عظمیٰ کی تبدیلی کے سلسلے میں نئی مہم جوئی شروع ہونے کا امکان ہے زمینی حقائق پر اگر نظر ڈالیں تو پی ٹی آئی کے اندرون آزاد کشمیر پر پہلی نشست جو پی ٹی آئی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جبکہ اس سے قبل مہاجرین کی 12نشستوں میں سے کے پی کے اور لاہور سے منتخب ہوئے تھے تاہم ا ن تین نشستوںکے ساتھ آزاد کشمیر حکومت کی تبدیلی کی خواہش ہی کی جا سکتی ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں پانچ اگست2019ء کوبھارتی حکومت نے دفعہ 370 اور 345 اے کے حوالے سے جو فیصلہ کیا تھا اور اس پر31 اکتوبرکوعملدرآمد بھی کردیاگیاہے کے حوالے سے پاکستان اور آزادکشمیر میں بھرپور احتجاج کیا گیا تھا۔ وزیراعظم پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک تاریخی خطاب کیا تھا۔ آزادکشمیرکی ساری سیاسی قیادت ایک پیج پر آکر بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست کشمیرکے حوالے سے کیے گئے فیصلے کے خلاف میدان میں آگئی تھی۔اس عرصہ میں مختلف مقامات سے کنٹرول لائن عبور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

مگر گزشتہ کچھ دنوں سے اس معاملے پر تقریباً خاموشی اختیارکی جاچکی ہے ۔حکومت پاکستان اپنے اندرونی معاملات کوسلجھانے میں لگی ہوئی ہے کبھی مولانافضل الرحمان کے آزادی مارچ کو کنٹرول کرنے اورکبھی سابق وزیراعظم میاں محمدنوازشریف کوعلاج کے لئے بیرون ملک جانے سے روکنے کے لئے اقدامات اورمنصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔آزادکشمیرکی سیاسی قیادت اورسیاسی جماعتوں نے بھی ماہ نومبرمیں اس حوالے سے تقریباًچپ کاروزہ رکھاہواہے ۔

پانچھ اگست کے بعد آزاد کشمیر میں جوشدت بھارت کے خلاف پیداہوئی تھی اس میں آہستہ آہستہ کمی آرہی ہے ایک عام آدمی یہ سوچنے پرمجبورہے کہ آخروہ کیاوجوہات ہیں کہ اتنے بڑے اہم مسئلہ کوآہستہ آہستہ بھولایاجارہا ہے وزیراعظم آزادکشمیرنے آل پارٹیز کا اجلاس پراعلان کیاتھاکہ وہ جلدخونی لکیرعبورکریں گے اورتمام کوساتھ لے کربیک وقت پورے آزاد کشمیرمیں جہاں جہاں کنٹرول لائن ہے اس کوروندتے ہوئے مقبوضہ کشمیرمیں داخل ہوکراپنی کشمیری مائوں بہنوں بیٹیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف لڑیں گے اور اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹیں گے جب تک کشمیرکوآزاد نہیں کروالیتے اور اقوام متحدہ کومجبورکریں گے کہ وہ ہندوستان کومجبورکرے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ذریعے رائے شماری کے لئے عملدآمد کروائے۔

چارماہ ہونے کوہیں مقبوضہ کشمیرمیں عملی طورپرنظام زندگی معطل ہے ۔بقول راجہ فاروق حیدرکہ مقبوضہ کشمیرکی بیٹیاں صبح سویرے دروازہ کھول کردیکھتی ہیں کہ کیاان کی مددکے لئے پاکستان اورآزادکشمیرسے فوج آئی ہے کہ نہیں اورمایوس ہوکردروازہ بندکرلیتی ہیں۔کشمیریوں پرہونے والے ظلم وستم کوختم کرنے کے لئے زبانی تقاریر،جلسے جلوس اورریلیاں تو آزاد کشمیر اور پاکستان میں منعقدکی گئی ہیں مگرنہ پاکستان کی حکومت اورہی آزاد کشمیرکی حکومت نے اس حوالے سے عملی جدوجہدکرنے کاکوئی اعلان کیا ہے۔

جس سے کشمیرکے دونوں حصوں میں رہنے والے مایوسی کاشکار ہیں۔ عالمی سطح پربھی مسئلہ کشمیرکواجاگرکرنے اور بھارتی حکومت کی جانب سے پانچ اگست کوکیے گئے غیرآئینی اقدام کے خلاف اس طرح کاردعمل سامنے نہیں آیاجس طرح کاہوناچاہیے تھا۔نہ ہی اقوام متحدہ نے اس حوالے سے کوئی نوٹس لیا۔اگریہی صورتحال برقراررہی تواس بات کاغالب امکان ہے کہ عملی طورپرکشمیرکوتقسیم کرنے کی سازش مکمل ہوجائے گی اوراس خدشے کو تقویت ملے گی کہ پاکستان اورہندوستان کی قیادت نے اندرون خانہ عملی طور پر تقسیم کشمیرکے فارمولے پرعملدر آمد شروع کردیاہے۔آزادکشمیرکی موجودہ حکومت جومسلم لیگ ن کی شکل میں قائم ہے اپنی مدت کے ساڑھے تین سال مکمل کرچکی ہے ۔

اس دوران کوئی خاطرخواہ ایسااقدام نہیں کیاگیاجس کویادگارخیال کیا جائے۔ وزیراعظم آزاد کشمیرنے انتخابی مہم کے دوران اور بعداز حکومت سازی واضح اوردوٹوک الفاظ میں اعلان کیاتھاکہ چھ ماہ کے اندر آزادکشمیر میں بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں گے مگر1996سے لے کرآج تک اقتدارمیں آنے والی ہرحکومت نے وعدے کے مطابق بلدیاتی انتخابات نہ کروائے اوراپنی اپنی مدت پوری کرکے چلے گئے اسی طرح سے راجہ فاروق حیدربھی اپناوعدہ پورانہ کرسکے اور غالب امکان یہی ہے کہ وہ بھی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے اپناوعدہ پوراکیے بغیرچلے جائیں گے ۔