چھوٹو گھونگا

بچوں کا جنگ
January 11, 2020

حلیمہ فردوس

سمندر کے کنارے منی مچھلی، پیٹو کیکڑ ا اور چھوٹو گھونگارہتے تھے۔ ان تینوں میں گہری دوستی تھی۔ ان کے درمیان اکثر نوک جھونک ہوتی اور ایک دوسرے کی ٹانگ بھی کھینچتے تھے۔ لیکن کوئی کسی بات کا برا نہیں مانتا تھا۔ گھونگا تھا تو چھوٹا سا لیکن باتیں بڑے مزے مزے کی کرتا تھا۔ ایک شام ریتیلے ساحل پر ہلکی ہلکی موجوں میں تینوں لوٹیں لگاتے ہوئے خوشگوار موڈ میں باتیں کر رہے تھے۔ منی مچھلی نے اتراتے ہوئے کہا ’’دوستو! اللہ نے مجھے کس قدر چمکیلا لباس عطا کیا ہے میں اپنے آپ پر جس قدر بھی ناز کروں کم ہے۔ کاش تمہیں بھی ایسی کوئی نعمت ملی ہوتی‘‘۔ پیٹو کیکڑے سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی۔ اس نے منی مچھلی کا منہ توڑ جواب دیا’۔’بی بی اپنے حسن پر اس قدر نہ اتراؤ، تم کیا تمہاری اوقات کیا؟ اگر میں چاہوں تو تمہیں ایک سکینڈ میں اپنے پیٹ میں اتار سکتا ہوں‘‘۔

بات بگڑتی دیکھ کر گھونگے نے مداخلت کی’’میرے بڑے بھائی! اس قدر ظلم نہ کرنا۔ آپ نہیں جانتے منی کی عقل پیٹ میں ہے وہ بے وقوفی کی باتیں کرتی رہتی ہے۔ آپ کے سامنے ہماری کیا بساط۔ ہماری نادانیوں کو نظر انداز کرنا آپ جیسے عقلمندوں کا فرض ہے‘‘۔ گھونگے کی باتیں سن کر کیکڑے نے رعب دار لہجے میں کہا’’گھونگے میاں! تم اپنے چھوٹے منہ بڑی بڑی باتیں نہ کرو، یہ منہ اور مسور کی دال‘‘۔ بھلا گھونگا کہاں خاموش رہنے والا تھا۔

اسے شرارت سوجھی۔ کیکڑے کے تیور دیکھ کر بڑی نرمی سے پوچھنے لگا’’بھائی جان! اگر آپ برا نہ مانیں تو میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کتے کی ٹیڑھی دم کے بارے میں تو میں کچھ نہیں جانتا البتہ آپ کی بے تکی چال کے بارے میں جاننے کے لئے بے تاب ہوں‘‘۔ کیکڑے کی خاموشی پر وہ خود ہی بولنے لگا ’’میرا خیال ہے کہ یہ چال ضرور آپ کے پردادا، سٹردادا کے کرموں کا پھل ہوگی۔ ہو نہ ہو خدا نے آپ کے آبا و اجداد کو کسی غلطی کی سزادی ہوگی۔‘‘

چھوٹو کی باتیں سن کر کیکڑا لال پیلا ہوگیا۔’’سزا کیسی؟ تیرارائی بھر دماغ اس کے سوا اور کیا سوچ سکتا ہے؟میں تم جیسوں کی طرح ناک کی سیدھ میں نہیں چلتا‘‘۔ اس پر گھونگے کا زور دار قہقہہ بلند ہوا اور وہ گویا ہوا۔ ’’ناک ہوگی تو اس کی سیدھ میں چلیں گے نا۔ آپ حضرات تو منہ سے سانس لیتے ہیں‘‘ گھونگے کے منہ کھولنے سے پہلے کیکڑا کڑے لہجے میں کہنے لگا ’’ہاں ہم منہ سے سانس لیتے ہیں۔ اس میں برائی کیا ہے۔

تو کیوں پنجے جھاڑ کر میرے پیچھے پڑا ہے۔ دیکھ ذرا خدا نے میرے چمٹے نما پنجوں میں وہ طاقت دی ہے، اگر چاہوں تو تیری ہڈی پسلی ایک کردوں‘‘۔ کیکڑے کے تیوردیکھ کر گھونگے نے خاموش رہنے میں بھلائی سمجھی۔ ہنستے ہنستے ریت پر لڑھکتے ہوئے کہنے لگا ’’بھائی میاں واقعی قدرت کی کاریگری ہے۔ اس نے ہر ایک کو کسی نہ کسی خوبی سے نوازا ہے۔

منی مچھلی دونوں کی باتوں سے بور ہو رہی تھی۔ اسے کل کے پروگرام کی فکر تھی۔ اس نے مداخلت کی’’دوستو! اب بحث بہت ہوچکی۔ بتاؤ کل سیر پر کب چلنا ہے؟‘‘۔ ’’ہاں ہاں چلیں گے۔ تم پریشان نہ ہونا۔ ہمارے درمیان نوک جھونک تو ہوتی رہتی ہے۔ اس کے بغیر دوستی کیسی؟ تو سنو سورج ماما کے جگانے پر ہم سیر کے لیے نکل پڑیں گے‘‘۔ کیکڑے نے جواب دیا۔ صبح آنکھ کھلتے ہی تینوں خوشی خوشی سیر کے لیے روانہ ہوئے۔

گھومتے گھومتے کب وہ اپنے علاقہ سے بہت دور نکل آئے اس کا انہیں پتہ ہی نہیں چلا۔ منی مچھلی نے اعلان کیا ’’دوستو! گھبرانے کی بات نہیں، ہم جہاں ہیں وہی ہمارا ٹھکانا ہے۔ ہم اللہ کی آزاد مخلوق ہیں‘‘ چھوٹو گھونگا منہ بسورتے ہوئے کہنے لگا’’منی مچھلی آپ کی بات تو صحیح ہے پر مجھے ممی کی یاد آرہی ہے۔ ہم بہن بھائی ایک قطار میں سویا کرتے تھے۔

اب میں یہاں اکیلے کیسے سوپاؤں گا‘‘ منی مچھلی نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا ’’تم باتیں تو بڑی بڑی کرتے ہو، دیکھا! اب تمہاری ہوا نکل گئی ہے‘‘۔ منی کی باتوں سے ناراض ہوتے ہوئے چھوٹو کہنے لگا۔ آپ میرا مذاق اڑا رہی ہیں۔ ٓآ پ سے دوستی ختم‘‘ منی مچھلی کو چھوٹو گھونگے پر ترس آگیا، وہ اسے منانےلگی ’’بات بات پر روٹھنا اچھی بات نہیں میرے دوست۔ ڈرنے کی کیا بات ہے۔ میں ہوں نا۔ سب سے بڑھ کر ہمارے بڑے بھائی جناب پیٹو کیکڑے بھی تو ہیں‘‘ آنکھیں گھماتے ہوئے کیکڑے نے جواب دیا ’’ہم مست مولا ٹھہرے، دوچار کیڑوں سے اپنا پیٹ بھر لیا ہے۔

اچھی سی جگہ ڈھونڈ کر زمین دوز محل میں آرام سے سوجائیں گے۔ چھوٹو چاہو تو تم میرے ساتھ اسی محل میں آرام کرسکتے ہو‘‘۔ چھوٹو گھونگا کچھ دیر سوچتا رہا۔ آخر کرے تو کیا کرے۔ اس کے پاس پیٹو کیکڑے کی بات ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ منی مچھلی اسے سمجھانے لگی ’’یہ اچھی تجویز ہے۔ جاؤ چھوٹو کیکڑے کے محل میں چین کی نیند سوجاؤ‘‘ یہ کہہ کر منی مچھلی پانی میں چھلانگ لگائی اور غائب ہوگئی۔ اس اندھیرے تنگ محل میں کیکڑے میاں خراٹے بھرتے رہے اور چھوٹو نیند کے لیے ترستا رہا۔

اسے گھر کی یاد ستا رہی تھی اور اس قدر تنگ جگہ پر اس کا دم گھٹ رہا تھا وہ رات بھر کروٹیں بدلتا رہا۔ آخر کار اس تاریک سرنگ سے نکل آیا۔ باہر آکر دیکھا تو سورج کی لالی آسمان پر پھیل چکی تھی۔ سمندر کی لہروں پر لال گولے جیسا سورج کا عکس بڑا بھلا دکھائی دے رہا تھا۔ جیسے ہی کیکڑے کی آنکھ کھلی وہ انگڑائی لیتا ہوا باہر آیا۔ تب تک منی مچھلی بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔ دونوں سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ منی مچھلی نے پوچھا ’’بھائی کیکڑے تمہارا دوست چھوٹو کہاں ہے؟‘‘ کیکڑے نے کہا میں بھی اسے ہی تلاش کر رہا ہوں، وہ کہیں نظر نہیں آرہا ہے۔ چلو چل کر آگے دیکھتے ہیں‘‘۔ دونوں اس کی تلاش میں نکل پڑے۔

سورج کی کرنیں سمندر کی سنہری ریت کو چھونے لگی تھیں۔ سمندر کے کنارے بچے کھیلنے میں مگن تھے۔ کوئی ریت کے گھروندے بنانے میں مصروف تھا تو کوئی پانی میں تیرتی مچھلیوں کے رقص سے لطف اندوز ہورہا تھا اور کوئی اپنا جوتا لہروں کے حوالے کر کے اسے واپس حاصل کرنے کا منتظر تھا تو کوئی سیپیاں چن چن کر اپنی جیبیں بھر رہا تھا۔ چھوٹو گھونگا بڑی دلچسپی سے یہ سب کچھ دیکھا رہا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں کوئی شریر بچہ بھاگنے کھیلنے میں اسے کچل نہ دے۔ کچھ دیر بعد وہ وہاں سے نکل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک سڑک پر آگیا۔ وہاں اسے ایک چوہیا دوڑتی ہوئی دکھائی دی۔ اچانک چوہیا کی نظر چھوٹے سے گھونگے پر پڑی۔

اسے دیکھ کر وہ تمسخرانہ انداز میں کہنے لگی ’’گھونگے میاں آداب! یہ کیا۔ تم ہر وقت اپنا گھر اپنی پیٹھ پر اٹھائے کیوں گھومتے ہو؟‘‘ چھوٹو گھونگے نے جواب دیا’’بی آپی، اللہ تعالی نے ہر جاندار کو حفاظت کا سامان عطا کیا ہے۔ وہ اپنے اپنے ڈھنگ سے اپنی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔ ’’کیسی حفاظت؟‘‘ تیوری چڑھائے چوہیا نے سوال کیا۔

گھونگا بولا’’تمہاری بے وقوفی کا جواب نہیں۔ لو سنو۔ ٹڈا ہرے رنگ کی پتیوں میں چھپ کر اور گرگٹ رنگ بدل کر دشمنوں کی نگاہ سے بچا رہتا ہے۔ تمہیں ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ میرا گھر ہی میری حفاظت کا ذریعہ ہے‘‘۔ چوہیا نے کہا ’’میرا مشورہ مانو اسے کسی جگہ چھوڑ دو، تب تم میری طرح تیز بھاگ سکوگے۔ مجھے دیکھو میں اپنا گھر اپنے ساتھ لئے نہیں پھرتی‘‘۔

دونوں کی باتوں کا سلسلہ جاری تھا کہ بلی کو آتا دیکھ کر گھونگے میاں کو شرارت سوجھی۔ ’’بی چوہیا! ذرا ہوشیار رہنا، دیکھو بلی خالہ ادھر تشریف لارہی ہیں۔ وہ تمہیں ضرور ہڑپ لیں گی۔ اگر جان کی سلامتی چاہتی ہو تو یہاں سے بھاگ نکلو‘‘ یہ کہہ کر گھونگا چپکے سے اپنے خول میں سمٹ گیا۔ ادھر چوہیا پھولی سانسوں سمیت دوڑتی ہوئی اپنے بل میں جاپہنچی اور سوچنے لگی کاش خدا نے مجھے حفاظت کا سامان عطا کیا ہوتا تو یوں ڈر ڈر کے جینے کی نوبت نہ آتی۔

ادھر چھوٹو گھونگے نے چوہیا کی بزدلی پر مسکراتے ہوئے سمندر کا رخ کیا۔ تھوڑی دور پر ہی اس کے دوست مل گئے۔ دونوں اس پر برسنے لگے اور چھوٹو گھونگا مرچ مسالہ لگا کر چوہیا کی بزدلی کا قصہ سنا کر لطف لیتا رہا۔