نظم ’کوا‘

February 22, 2020

حفیظ جالدھری

آگے پیچھے دائیں بائیں

کائیں کائیں کائیں کائیں

صبح سویرے نور کے تڑکے

منہ دھو دھا کر ننھے لڑکے

بیٹھتے ہیں جب کھانا کھانے

کوے لگتے ہیں منڈلانے

توبہ توبہ ڈھیٹ ہیں کتنے

کوے ہیں یا کالے فتنے

لاکھ ہنکاؤ لاکھ اڑاؤ

منہ سے چیخو ہاتھ ہلاؤ

گھورو گھڑکو یا دھتکارو

کوئی چیز اٹھا کر مارو

کوے باز نہیں آتے ہیں

جاتے ہیں پھر آ جاتے ہیں

ہر دم ہے کھانے کی عادت

شور مچانے کی ہے عادت

بچوں سے بالکل نہیں ڈرتا

ان کی کچھ پروا نہیں کرتا

دیکھا ننھا بھولا بھالا

چھین لیا ہاتھوں سے نوالا

کوئی اشارہ ہو یا آہٹ

تاڑ کے اڑ جاتا ہے جھٹ پٹ

اب کرنے دو کائیں کائیں

ہم کیوں اپنی جان کھپائیں