’ ہیرانند لیپر منگھو پیر‘ اس کا نام تبدیل کر کے "کے۔ایم۔سی جذامی اسپتال رکھ دیا گیا

March 05, 2020

گل حسن کلمتی

کیا لوگ تھے،جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسانی خدمت میں گذار دی،ایسی خدمت جس میں ہرمذہب اور فرقے کے لوگوں کی بلا تفریق خدمت کی،یہ 1890 کی بات ہے جب سادوہیرانند نے اپنے بھائی نول راء سے منگھو پیر کے گرم چشموں کے قریب زمین خریدی۔اس سے پہلے 1888میں دونوں بھائیوں نے سولجر بازار میں"یونین اکیڈمی “قائم کی،بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے "ہیرانند اکیڈمی"رکھا،ان کا تعلق برہمو سماج سے تھا،دونوں بھائیوں نے سماجی کاموں کے علاوہ ادب میں بھی نام پیدا کیا ،ہیرانند اکیڈمی بھی ایک ادبی اور ثقافتی اکیڈمی تھی۔یہ حیدرآباد مکھی شوقیرام آڈوانی کے بیٹے تھے۔نول راء کلرک سے ترقی کرتے ڈپٹی کلکٹر بنے،سماجی کاموں کے لئے "سندھ سبھا"نام تنظیم بنائی۔منگھو پیر کی زمین انہوں نے"سادوہیرانند ٹرسٹ "بنا کر ٹرسٹ کے حوالے کی۔جذامی مریضوں کے لئے کوئی اسپتال نہ تھا تو انہوں نے جذامی اسپتال بنانے کا بیڑا اٹھایا اور کام شروع کیا،اسی دوران 1893 میں دونوں بھائی انتقال کر گئے-

1896میں اسپتال مکمل ہوا،مرکزی عمارت کے سوا دور دورچھ بڑے بڑے وارڈ بھی بنائے گئے،مرکزی عمارت جنگشاہی کے پتھر سے بنائی گئی ۔یہ آج بھی صحیح حالت میں ہے کچھ عرصہ پہلے سٹی حکومت کے دور میں اس کے مرکزی دروازے کے سامنے قبضہ کر کے گھر بنائے گئے پورا راستہ بند کر کے اس پر بھی قبضہ کیا گیا، یہ عمارت اور باقی تمام عمارتیں اس طرع ڈیزائن کی گئی ہیں کہ آگےبھی دروازے اور پیچھے بھی دروازے رکھے گئے ،یہ چاروں طرف سے کھلے اورہوا دار ہیں۔مرکزی عمارت کے ساتھ "موچی خانہ"بھی تھا، اسپر"موچی خانہ" لکھا ہوا ہے۔ جذامی مریضوں کے مخصوص جوتے ہوتے ہیں،ان کی مرمت اور پالش کے لئےیہ بنایا گیا تھا،ایک بات اور جذامی مریضوں کے مخصوص جوتوں کے ایک "شو ورکشاپ"بھی تھا،جہاں سے مریضوں کو مفت جوتے فراہم کئے جاتے تھے ،یہ سب ہیرانند ٹرسٹ کے طرف سے تھا۔اب اس ورکشاپ کو رہائش کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے،اس اسپتال کے بہت سے حصوں پر ملازمین نے قبضہ کر لیا اور کرائے پر چڑھا دیئے ۔اس اسپتال کا ایک بلاک جھانگیر کوٹھاری کے جانب سے بنا کر دیا گیا ہے،جو اب بندہے۔اسپتال کے ساتھ ایک بلڈنگ مختلف سماج سدارک کے جانب بنایا گیا،بورڈ پر سب کے نام دئیے گئے ہیں ،اس خوبصورت عمارت پر اس دور میں 13 ہزار خرچا آیا تھا-

ہیرانند جذامی اسپتال کی الگ دنیا تھی،صوفی سندھ کی جھلک یہاں دیکھنے میں آتی ہے۔ایک بات بتاتا چلوں راما پیر کا قدیمی مندر بھی یہاں پرہے،جب یہ زمین لی گئی تو مندر بھی اس میں آگیا تھا،جب یہ اسپتال بنایا گیا تو یہاں پر مندر مسجد اور ایک گرجا گھر بنایا گیا تھا ،جو اب بھی موجود ہیں۔پرانی پتھر والی مسجد کی جگہ اب نیا جامع مسجد بنایا گیا ہے۔راما پیر کے قدیمی مندر کے ساتھ دو کمرے ہیں جو مندر کا حصہ ہیں اب وہاں ایک ہندو فیملی رہتی ہے،مندر اب بھی موجود ہے۔ ساتھ پتھر کی پرانی خوبصورت عمارت ہے،جس پر 1906 لکھا ہوا ہے،ساتھ ایک نیم کا پرانا درخت ہے۔اسپتال ایک ملازم نے اس ایک طرف قبضہ کرکے نرسری بنائی ہوئی ہے۔اس کےعلاوہ ایک اور مندرمھادیو بھی ہے، جس کی اب بابو لال دیکھ بحال کر رہا ہے ۔ بابری مسجد کے واقعے کے بعد پرانے پتھر کے مندر کو مسمار کرکے پتھر اٹھا کر لے گئے۔

یہاں پر پتھر کا بناہوا ایک بھنڈارا بھی ہے جو اب خستہ حالت میںہے،جس میں مریضوں کے مفت کھانا دیا جاتا تھا،اس بھنڈارا کے سامنے دو بڑے پتھر کے چھپرے/چوکنڈی بنےہوئے تھے،مریض ان کے نیچے بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے ۔ان خوبصورت چھپروں کو مسمار کرکے پتھر اٹھا کر لئے گئے۔یہ سب کچھ سرکار سرپرستی میںہوتا رہا۔کیونکہ اس ٹرسٹ کے اور اس دھرتی وارثوں کوبٹوارہ کےبعد یہ دیس چھوڑنا پڑا۔

یہ پورا علاقہ نیم اور پیپل کے درختوں سے بھرا پڑا تھا،درختوں کو کاٹ کربیچ دیاگیا ،کچھ ابھی باقی ہیں۔ان کا قتل عام بھی بہت جلد ہوگا-

1960 میں اس آباد دنیا کو کراچی میونسپلٹی کے حوالے کیا گیا اس کے بعد اس کی بربادی شروع ہوئی جو آج تک جاری ہے۔ایک پتھر کا بنا ہوا درمشالا بھی اس اسپتال ساتھ تھا۔اس اسپتال کو بنے ایک سؤ 21 سال ہو گئےہیں آج تک یہ صدقہ جاری ہے۔کراچی میونسپلٹی کے قبضے کے بعد اس نام تبدیل کر کے "کے۔ایم۔سی جذامی اسپتال منگھو پیر "رکھا گیا۔یہ تاریخ کے ساتھ ظلم ہے۔ضرورت اس بات کی ہے،اس پر تمام قبضے ختم کئے جائیں،اس کو قومی ورثہ قرار دے کر محفوظ کیا جائے ،اس کا پرانا نام دوبارہ بحال کیا جائے ۔یہ سب ہم سب کی تاریخ ہے،آئیں اس کو تاریک ہونے بچائیں۔