کراچی کے قدیم درخت اور ان پر بسیرا کرنے والے پرندے کہاں گئے؟

March 21, 2021

عبدالغفور کھتری

بس کچھ دیر بعد رات کے آخری پہر کی کوکھ سے ایک نیا دِن جنم لینے کو ہے اور اس کا اعلان اُفق پر پُھوٹنے والی کرنیں کر دیں گی، لیکن اس سے قبل یہ اعلان درختوں کی پناہ گاہوں میں جاگ اُٹھنے والے معصوم پرندے کر چکے ہوتے ہیں۔ ان کی میٹھی بولیوں کے سُر چاروں طرف بکھر جاتے ہیں۔ یہ خوش نصیبی ہے انسانوں کی کہ دِن کے آغاز کی طرح اس کے اختتام پر بھی یہ اَلاپ اسے سُننے کو ملتے ہیں۔

خوش اَدا، خوش نوا یہ طیّور دِن بھررِزق کی مشقت کے بعد جب سرِ شام اپنے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹنے لگتے ہیں، کبھی تنہا، کبھی ڈار کی صورت تو ایک بار پھر یہ شجر ان کی بولیوں سے گونجنے لگتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ایک رِدھم کی صورت برآمد ہونے والی آواز وہ کسی ساز کی ہو، ریل گاڑی کی طویل سفر میں گاڑی کے پہیوں اور پٹری کے باہم ٹکرائو سے پیدا ہو، بُلندی سے گرتے جھرنے کی ہو، پرندوں کی میٹھی بولیاں ہوں، یا کچھ اور آواز کا یہ رِدھم اُسے وقتی استغراق کے عالم میں لے جاتا ہے۔

پرندوں کی ایسی ہی میٹھی بولیوں کے رُوح پرور سازوں کا رِدھم اگر جسے بلاناغہ میسر ہو تو وہ خوش نصیب ہی کہلائے گا۔کراچی کے باسی کبھی ایسے ہی خوش نصیب تھے، جن کے لئے یہ آوازیں معمول کا حصّہ تھیں۔پھر یہ میٹھی بولیاں کیا ہوئیں، یہ سُر کیوں بکھر گئے، سُر بکھیرنے والے قدرت کے یہ سازندے کہاں چلے گئے؟انسان ہو یا چرند پرند، اپنے ٹھکانوں سے کوئی اپنی مرضی و منشاء سے ہجرت نہیں کرتا۔ رِزق کے وسیلوں کی سلامتی اور سر چُھپانے کا ٹھکانہ لیکن افسوس کہ میٹھے بول گانے والے کراچی کے معصوم باسیوں سے یہ دونوں ضرورتیں چھین لی گئیں، تو وہ یہاں سے کوچ کرنے لگے۔

1839ء میں انگریزوں کی یہاں آمد تک کراچی میں پختہ سڑکوں کا تناسب کم تھا۔ انہوں نے اُونچی نیچی پگڈنڈیوں کو پختہ سڑک کی شکل دیتے وقت ان کے دونوں اطراف درخت لگائے۔ انہوں نے کراچی کی آب و ہوا سے میل کھاتے درخت سڑکوں کے دونوں طرف بوئے۔ ان میں نیم، برگد، بادام، بیری اور پیپل قابل ذکر ہیں۔ دراصل لیاری اور ملیر ندی کے آس پاس میٹھے پانی کی بآسانی دستیابی کی بدولت کھیت و باغات بڑی تعداد میں موجود تھے۔ لیاری ندی کے کنارے ان باغات کی نشانیاں تو کل تک موجود تھیں۔

اُنّیس سو ساٹھ اور پینسٹھ تک لارنس روڈ (نشتر روڈ) پر چڑیا گھر سے آگے بائیں ہاتھ پر ندی کنارے یہ باغات تین ہٹی سے آگے تک پھیلے ہوئے موجود تھے جو اب نہیں رہے۔ سائے اور ہریالی کے پیش نظر یہ درخت بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ)، لارنس روڈ (نشتر روڈ)، فریئر روڈ (شاہراہ لیاقت) کے علاوہ صدر، گارڈن، سولجر بازار، گرومندر، لیاری، اولڈ سٹی، جمشید روڈ، تین ہٹی، اولڈ کلفٹن اور اطراف کے علاقوں میں بھی لگائے گئے تھے۔

اُنّیس سو پچھتّر، اَسّی کے بعد نہ جانے کیوں یہ بہاریں رُوٹھنے لگیں۔ رفتہ رفتہ آنگن میں چڑیوں کی چہچہاہٹ، آسمان پر طوطوں کے اُڑتے غول کی ٹَیں ٹَیں اور کسی درخت پر کوئل کی کوک نے چُپ سادھ لی۔صبح اور شام طیّور کی رُوح پرور بولیوں کی لَے خاموش ہونے لگی۔ اِس سنّاٹے کا کسی نے نوٹس نہ لیا۔

1970,80کے قریب کراچی میں بلڈرز اپنے کام کا آغازکیاان کی نظریں درخت کے آس پاس کی اضافی زمین پر خصوصی طور پر مرکوز تھیں، کیوں کہ وسط کی اس زمین پر قبضہ چھڑوانے کا اضافی درد سر نہ تھا۔بس کلہاڑے کے تین چار وار کی مار تھی، اور یوںتقریباً ایک صدی تک عمارت کے مکینوں کی دو تین نسلوں کی رفاقت نبھاتے، ان کے سرد و گرم سے آشنا یہ گھنے اور ہرے بھرے درخت زمین پر ہوتے، ساتھ ہی اس کی نرم آغوش میں بنے پرندوں کے آشیانے بھی تنکا تنکا بن کر زمین پر بکھر جاتے۔

ایسے ہی حملے سولجر بازار اور جمشید روڈ کے علاقوں میں قیام پاکستان سے قبل تعمیر شدہ بنگلوں پر بھی ہوئے۔ ان بڑے بنگلوں میں کم از کم دو یا تین ہرے بھرے درخت ضرور موجود ہوتےتھے۔ جنہیں کاٹ کر اس اضافی زمین پر بھی تعمیرات کھڑی کر دی گئیں۔ یوں ہریالی کے نظارے ہوا ہوئے، اور ساتھ ہی پرندوں کی عارضی بستیاں بھی مٹ گئیں۔

2009ء میں ’’کونوکارپس‘‘ نامی بدیسی جھاڑی نما درخت شہر میں لگائے گئے تو رہی سہی کسر ان درختوں نے پوری کر دی۔ انہوں نے زمین میں موجود پانی کے تناسب کو بتدریج نقصان پہنچایا، اور ان کے آس پاس پہلے سے موجود درخت اور پودے مُرجھانے لگے۔ پرندوں نے کونوکارپس کو اس کی ناگوار بُو کے باعث اسے مسترد کر دیا۔ نیز جب ان کی پولن فضا میں بکھرتی ہے تو شہریوں میں سانس اور الرجی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

کبھی کبھار درجہ حرارت کے معمول سے بڑھ جانے پر وہاں موجود شجر و پودے اسے مناسب حد تک کنٹرول میں رکھتے ہیں، مگر ماہرین موسمیات کے مطابق دو سال قبل کراچی میں ’’ہیٹ ویو‘‘ نامی شدید گرمی کی لہر میں کونوکارپس نے نہ صرف اس حدّت کو روکنے میں اپنا کچھ کردار ادا کیا، بلکہ شہر کی آب و ہوا سے مناسبت نہ رکھنے کی بناء پر اس نے منفی کردار ادا کیا۔

حاصل کلام یہ کہ زَر کی چکاچوند نے ہماری آنکھوں کو خیرہ کر دیا، اور ہم نے دولت کے عوض ٹھنڈک اور آکسیجن کے اس قدرتی منبع کو بیچ دیا ،جس کا نتیجہ ہم تو بھگت ہی رہے ہیں اور ہماری آئندہ نسلوں کو شاید اس سے کچھ زیادہ مشکلات کا سامنا ہو۔ ہم نے کراچی کی روایتی ٹھنڈی ہوا کو قصّۂ پارینہ بنا دیا۔

معروف سیاستدان، صحافی اور ادیب پیر علی محمد راشدی نے اپنی یادداشتوں میں کراچی کی ٹھنڈی ہوا کے بارے میں کہا کہ’’پوری دُنیا گھوم کر دیکھ لی، ایسی صاف، خوشبودار اور میٹھی ہوا سے پھر کہیں سابقہ نہ پڑا۔‘‘ ان کی یہ کہی بات بھی قصۂ پارینہ ہوگئی۔