کل اور آج

June 13, 2021

ظفر گورکھ پوری

دادا حیات تھے جب

مٹی کا ایک گھر تھا

چوروں کا کوئی کھٹکا

نہ ڈاکوؤں کا ڈر تھا

کھاتے تھے روکھی سوکھی

سوتے تھے نیند گہری

شامیں ہری بھری تھیں

آباد تھی دوپہری

سنتوش تھا دلوں کو

ماتھوں پہ بل نہیں تھا

دل میں کپٹ نہیں تھی

آنکھوں میں چھل نہیں تھا

تھے لوگ بھولے بھالے

لیکن تھے پیار والے

ابا کا وقت آیا

تعلیم گھر میں آئی

تعلیم اپنے ساتھ

اک انقلاب لائی

’’اونچا‘‘ روایتوں سے

اٹھنے کا دھیان آیا

مٹی کا گھر ہٹا تو

پکا مکان آیا

دفتر کی نوکری تھی

تنخواہ کا تھا سہارا

مالک پہ تھا بھروسہ

ہوجاتا تھا گزارا

پیسہ اگرچہ کم تھا

پھر بھی نہ کوئی غم تھا

اب ہے مرا زمانہ

ہر بات ہے نرالی

گھر تو بھرا پڑا ہے

پر زندگی ہے خالی

اک بھاگ دوڑ ہر دم

جیون کا حال ایسا

اپنی خیر نہیں ہے

مایا کا جال ایسا

پیسہ ہے، مرتبہ ہے

جاہ و وقار بھی ہے

نوکر ہیں اور چاکر

بنگلہ ہے ، کار بھی ہے

زر پاس ہے، زمیں ہے

لیکن سکون نہیں ہے