محمد رسول اللہ ﷺ دعائے خلیل ؑ، نویدِ مسیحا ؑ

October 19, 2021

مولانا حافظ عبد الرحمان سلفی

انسان ابتدائے آفریشن سے ہی کسی نہ کسی طور پر ہدایت ربانی کا محتاج رہا ہے۔ خطا و نسیان کی فطری کمزوری کے پیش نظر اللہ رب العالمین نے انسانیت کی رہنمائی کے لیے اپنے انبیاء و رسل مبعوث فرمائے۔ جنہوں نے مختلف اقوام و ملل ممالک و علاقوں میں آ کر مریضان شرک و ضلالت کو توحید ربانی کے چشمہ صافی سے سیراب کرا کر حیات جاودانی سے ہمکنار کرانے کی سعی وجہد کی۔

تاہم ہر نبی و رسول کی دعوت محدود اثرات کی حامل تھی۔ اس پر ستم یہ کہ اکثر لوگوں نے نہ صرف اپنے انبیاء کی تکذیب کی، بلکہ انہیں ناحق قتل تک کر ڈالا۔ اسی طرح صدیوں کا سفر جاری تھاکہ انبیاء کی تعلیمات مسخ کردی گئیں اور سرزمین عرب بالخصوص شرک و بت پرستی کا گڑھ بن گئی ‘اور اللہ کے بندے اپنے معبود حقیقی کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے تراشیدہ اصنام کی پوجا پاٹ میں مصروف ہو گئے اور بیت اللہ جسے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ اور ان کے فرزند ارجمند سیدنا اسماعیل ذبیح اللہ علیہم السلام نے خالص اللہ کی عبادت کے لئے تعمیرکیا تھا 360معبودان باطلہ کی آماج گاہ بن چکا تھا۔

غرض یہ کہ ہر طرف کفر و شرک کی آندھیاں چل رہی تھیں ۔کہیں ستاروں کی پوجاہو رہی تھی تو کہیں آتش پرستی سے قلو ب و اذہان بھسم کئے جارہے تھے ۔ گویا انسانیت تباہی کے دہانے پر کھڑی تھی کہ اللہ کی رحمت کو جوش آیا اور مکہ مکرمہ کی اسی سرزمین سے کہ جہاں اللہ کا گھر اس کے خلیل ؑ نے تعمیرکیا تھا اور دعا کی تھی کہ ترجمہ! اے ہمارے رب ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیج جو ان کے سامنے تیری آیتیںپڑھے انہیں کتاب و حکمت سکھائے اور انہیں پاک کرے۔ بے شک تو غلبہ والا اورحکمت والا ہے۔ (سورۃ البقرہ )

اسی طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے بھی بشارت دی۔ترجمہ! اور جب مریمؑ کے بیٹے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ اے میری قوم ،بنی اسرائیل میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں، اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی بھی تصدیق کرنے والاہوں اور اپنے بعد آنے والے ایک رسول کی خوشخبری سنانے والا ہوں‘ جن کا نام احمد ہے‘ پر جب وہ ان کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو یہ کہنے لگے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔(سورۃ الصف)

اسی طرح دیگر انبیائے کرام ؑنے بھی بشارتیںدی تھیں کہ ایک رسول رحمت آنے والے ہیں تووہ ابر رحمت قریش کے سردار عبدالمطلب کے گھر عبداللہ کی بیوہ آمنہ کے بطن سے ہویدا ہوا اور اس کی (نبی مکرم ﷺ) پیدائش پر رب کائنات نے یہ معجزہ دکھایا کہ نور کی تجلیات و عرفان سے شام کے محلات روشن ہو گئے اور بیت اللہ میں رکھے گئے بت سرنگوں ہوگئے اور آتش کدئہ ایران جو صدیوں سے روشن چلا آ رہاتھا، بجھ گیا اور پوری کائنا ت ارضی کویہ پیغام ربانی دیا گیا کہ اب وہ ہستی کائنات میں تشریف لا چکی جوہر قسم کی شرک و ضلالت کو اپنے پائے استحقار تلے روندنے والی ہے۔ عبدالمطلب کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ نہ تھا۔

وہ اپنے حسین و جمیل پوتے کو گود میں لئے بیت اللہ میں آئے اورولادت کا اعلان عام کیا۔ لوگوں نے جب پوچھا کہ بچے کانام کیا رکھا ہے تو عبدالمطلب نے برجستہ کہا محمد ﷺ۔ سب لوگ حیران ہو گئے کہ یہ نام عرب میں مانوس نہیں تھا۔ عبدالمطلب نے کہا کہ اس نام کے معنی بہت زیادہ تعریف کئے گئے ہیں۔ یہ نام اللہ ہی نے رکھوایا کہ تاقیامت جب تک اللہ کانام بلند ہو گا۔ اس کے محبوب ﷺکا نام بھی بلند ہوتا رہے گا۔

اذانوں میں جہاں ’’اشھدان لاالٰہ الااللہ‘‘ کہاجاتاہے ،اسی سے متصل ’’اشھدانّ محمد رسول اللہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے ،بلکہ اللہ رب العالین نے ارشاد فرمایا :’’وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْن‘‘ترجمہ! ( اے نبی ﷺ) ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ (سورۃ الانبیاء)یعنی جہاں جہاں تک میں رب العالمین ہوں ،وہاں وہاں تک میرا پیارا رحمۃ للعالمین ہے۔نبی مکرم ﷺکی پیدائش کی بشارت عالم ارواح میں تمام انبیاء سے عہد لینے کی صورت میں بھی واضح کردی گئی ہے۔۔

سیدنا آدم علیہ السلام سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک تمام نبیوں سے روز اول ہی اللہ تعالیٰ نے یہ قول و قرار اوروعدہ لے لیا تھا کہ اگر میں اپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کو تمہارے زمانے میں بھیجوں تو تم پر فرض ہوگا کہ تم ان پر ایمان لائو اور ان کی مدد کرو اگر تم اس کا اقرار کرتے ہو تو تمہیں نبی اور رسول بنا کر بھیجیں گے اور کتا ب و حکمت بھی عطا کریں گے ‘ تو تمام انبیاء و رسل نے اس کا اقرار کیا اور جب وہ انبیاء دنیا میں مبعوث ہوئے توانہوں نے اپنی اپنی امتوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ اگر تم محمدﷺ کا زمانہ پائو تو ان پر ایمان لانا اور ان کی نصرت کرنا۔ گویا تمام انبیاءؑ نے رسالت محمدی ﷺ کا اقرار کیا اور ان کا امتی ہونے کی خواہش ظاہر کی۔

نبی کریم ﷺ ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اورسیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ آپ کے اندر اللہ تعالیٰ نے تمام اوصاف حمیدہ اتمام و اکمال کے ساتھ پیدا فرما دیئے تھے‘ آپﷺ محمد ہیں ‘محمود ہیں ‘احمد ہیں ‘بشیر و نذیر ، سید الخلق ‘امام الانبیاء ‘ سید المرسلین ‘ شفیع المذنبین‘ رحمۃللعالمین بھی ہیں۔ آپ صادق و مصدوق اور امین بھی ہیں۔طیب و طاہر ‘ حامی و حاشر و عاقب ‘ مدثر و مزمل بھی ہیں۔ آپ کی عظمت و رفعت پوری کائنات میں افضل و اعلیٰ ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا: وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک‘‘ترجمہ!اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ (سورۃ الانشراح) چونکہ آپ ﷺخاتم النبیین بن کر آئے ،لہٰذا آپﷺ کی ذات بابرکات میں جمیع اوصاف و کمال مجتمع کر دیئے گئے تھے۔

سرورِ کائناتﷺ نے انسانی تاریخ کی سب سے مثالی ریاست قائم کر کے دکھا دی جو رہتی دنیا تک کے لئے مینارۂ نور ہے۔ غلاموں ‘ یتیموں‘بیوائوں اور مسکینوں ‘مہمانوں حتیٰ کہ جان کے دشمنوں کے ساتھ بھی صلہ رحمی ‘ عفو و در گزر اور روا داری جیسے اوصاف حمیدہ کے ذریعے برتاؤ کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں، بلکہ ایسا حسن سلوک وہی کر سکتاہے جس میں اللہ نے صبر و استقامت اور رحمت و شفقت کوٹ کوٹ کر بھردی ہو ۔

رحمۃ للعالمین ﷺ نے جہاں کائنات میں توحید ربانی کا علم بند کیا اور بیت اللہ کو معبودان باطلہ سے پاک کر کے قیامت تک کے لئے خالص اللہ کی عبادت کے لئے خاص کر دیا ۔ وہیں اپنی سیرت مبارکہ کے ایسے مقدس و پاکیزہ گہرہائے نقوش چھوڑے جو پوری انسانیت کے لئے منبع رشد و ہدایت اور دنیاوی و اخروی فوز و فلاح کے ضامن ہیں۔

ماہ ربیع الاول کی ان ساعتوں میں کہ جب آپ ﷺ کی ولادت ہوئی۔ ہمیں عہد کرنا چاہیے کہ اپنی پوری زندگی کو خالص قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالیں گے اور اپنے اخلاق و کردار ‘ عقائد و اعمال کی درستی کا اہتمام کرتے ہوئے اسلام کے آفاقی نظریہ حیات پر عمل پیرا رہ کر دنیا و آخرت کی کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہم کنار ہونے کی بھرپور سعی و جہد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح معنوں میں قرآن و حدیث پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطافرمائے۔ (آمین یا رب العالمین )