• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
روزآشنائی … تنویرزمان خان، لندن
کیا پاکستان میں پھر سے کوئی حکومت مخالف تحریک شروع ہو چکی ہے۔ پی ڈی ایم نے تو 20 اکتوبر سے تحریک کا اعلان کیا تھا جو کہ تین روز قبل سے شروع ہے۔ حکومت اور اس کے زیراثر ایجنسیوں نے اس تحریک کو روکنے اور ناکام کرنے کے اقدامات اور احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ یہ تحریک اور اس کے اعلانات کے بعد ہونے والے مظاہرے اسلام آباد تک نہ پہنچیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اچانک چند روزہ نوٹس پر اپوزیشن نے کیسے تحریک کا اعلان کردیا۔ خواہ اپوزیشن کا نعرہ مہنگائی ہے لیکن اصل سبب اور محرک تو اسٹیبلشمنٹ اور عمران سرکار کا ایک صفحے سے اکھڑنا ہے۔ عمران خان کے 2011ء کے لاہور کے جلسے کے بعد سے لیکر اب تک وہ اسٹیبلشمنٹ کی آنکھوں کا تارہ رہے، حتیٰ کہ زور آوروں نے زمین آسمان کے کلابے ملاتے ہوئے آنکھوں کے تارے کو وزیراعظم تک بنوا دیا۔ اسٹیبلشمنٹ اس طرح کے وزیراعظم یا لیڈروں کو سپورٹ کیوں کرتی ہے، اس پر ذرا آگے چل کے بات کرتے ہیں لیکن دراصل پاکستان کے سیاسی اور معاشی میدان میں اسٹیبلشمنٹ کا عمل دخل اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ اب انہیں کوئی سیاسی میدان میں کلیدی کردار ادا کرنے سے نہیں روک سکتا نہ ہی وہ خود کسی سیاسی عمل میں غیر جانبدار اور عمل میں سے باہر رہ سکتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ آزادی کے بعد اس ملک کو چلانے اور اس کی سمت متعین کرنے اور بھاگ دوڑ پر اپنا کنٹرول رکھنا انہی کا حق ہے۔ دراصل آزادی سے پہلے ہندوستان پر جو نوآبادیاتی کنٹرول تھا وہ بھی بنیادی طور پر عسکری ہی تھا، اب آزادی کے بعد بھی وہی عسکری مزاج جاری ہے، جسے جھٹلایا تو نہیں جا سکتا۔ یہ تمہید اس لئے باندھی تاکہ ہم عمران سرکار کا آنے والے دنوں میں کیا ہوگا، اس کا تجزیہ کر سکیں کیونکہ ان امور کا وزیراعظم عمران خان کو بخوبی پتہ بھی ہے لیکن وقت کے ساتھ ان کے ایسے بیانات بھی آنے لگ گئے کہ جرنیلوں کی کیا جرأت ہے کہ وہ منتخب وزیراعظم کو چھو بھی سکیں۔ اس سادگی پر حیرانگی بھی ہوتی ہے کہ عمران خان پاکستان کی تاریخ کو بالکل نہیں سمجھتے۔ کیا انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کا انجام نہیں دیکھا۔ 1999ء میں وزیراعظم نواز شریف پر کیا بیتی؟ کیا وہ سب بھول گئے۔ کیا انہوں نے اسی طرح کے سلوک بنگلہ دیش کے وزیراعظم کے نہیں دیکھے۔ جو اسٹیبلشمنٹ سیاسی اتحاد بنوا سکتی ہے، تڑوا سکتی ہے، سیاسی پارٹیاں بنوا سکتی ہے، ختم کروا سکتی ہے (آئی جے آئی اور الطاف حسین کی ایم کیو ایم اس کی واضح مثالیں ہیں) اس وقت اگر خود عمران خان کے پاس اسٹیبلشمنٹ کے دیئے ہوئے ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) جیسے اتحادی نہ ہوں تو عمران حکومت بنا ہی نہیں سکتے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ کسی مضبوط پارٹی کی آج تک سپورٹ کیوں نہیں کرتی بلکہ اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی پارٹیاں اور افراد کو بھی ایک حد سے آگے ساتھ نہیں چلاتی۔ اس کی وجہ ان کا ہاتھوں سے نکلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ آج بھی انہیں پتہ ہے کہ عمران خان سیاسی اعتبار سے تنہا فرد ہے، انہیں پتہ ہے کہ جیسے ہی انہوں نے ہاتھ اٹھایا، سب تتر بتر ہو جائیں گے۔ عمران خان نے جس وژن کے بغیر گزشتہ تین برسوں میں ملک کو چلایا، اس کا ثبوت ملک میں بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سیاسی مسائل ہیں۔ لوگوں سے سچ چھپایا گیا جو کہا تھا سب جھوٹ نکلا۔ سارا بیانیہ یوٹرنز کی بھینٹ چڑھ گیا جو جو بیان اقتدار میں آنے سے پہلے دیئے تھے، بڑھک اور بلف کو خوب استعمال کیا گیا، جس کا نتیجہ آج ملک کے تیزی سے بڑھتے ہوئے معاشی اور سماجی مسائل ہیں۔ انہی مسائل کو لے کر آج اپوزیشن سڑکوں پر نکلنے کو کہہ رہی ہے۔ ایسے میں اگر جائزہ لیا جائے تو سارے حکمران پاکستان کی تاریخ میں اپوزیشن کو ناپسند ہی کرتے آئے ہیں اور اپنی اپنی بساط کے مطابق اپوزیشن کے خاتمے کی طرف کوشاں رہے ہیں۔ ایوب خان نے فاطمہ جناح کو غدار اور ملک دشمن قرار دیا۔ بھٹو صاحب نے دلائی کیمپ اور ایف ایس ایف کے ذریعے اپنے دور اقتدار میں اپوزیشن کو سر نہیں اٹھانے دیا۔ جنرل ضیاء کے تو کیا کہنے ہیں، ان کا سارا دور قلعوں، کوڑوں، سزائے موت، لمبی جیلوں اور اپنے سیاسی مخالفین کو غائب کرنے میں صرف ہوا۔ اس کے بعد آنے والے ادوار میں عمران خان تک مخالفین کے ساتھ قتل و غارت اور گمشدگی کے واقعات ہوتے رہے، جس میں سیاسی پارٹیاں کم اور ایجنسیوں کا زیادہ کردار رہا۔ اب عمران خان کے دور میں اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو آگے لگا کے سیاستدانوں پر نہ ثابت ہوسکنے والے بے شمار مقدمات بنائے اور میڈیا میں سیاستدانوں کی خوب کردار کشی کی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں طاقت ور سیاسی لیڈر شپ کا شدید قحط برپا ہوگیا جو کہ تاحال جاری ہے۔ اس وقت حقیقی اور عوام دوست لیڈر شپ بالکل ناپید ہے، اب ملک میں روشن خیال قیادت منظر سے لاپتہ ہے، اب سیاست صرف مذہبی اور زیادہ انتہاپسند یا کم انتہا پسندوں میں تقسیم ہو کے رہ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ خود کو سیاست سے لاتعلق سمجھتے ہیں، ایسی صورت میں پی ڈی ایم نتیجہ خیز تحریک چلا پائے گی یا نہیں، بدقسمتی سے اس کا انحصار بھی عوام پر کم اور اسٹیبلشمنٹ پر زیادہ ہے۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ عمران سرکار سے تو مایوس ہے لیکن اگر ان کی آپشن موجودہ اپوزیشن میں سے کوئی بن گیا اور معاملات طے پاگئے تو اگلے چند ماہ میں نتیجہ نکلنے کے امکانات موجود ہیں اور دوبارہ انتخابات کا انعقاد ممکن ہے لیکن آنے والے مہینے افغانستان کے حوالے سے بھی اتنے ہی اہم ہیں، اس لئے یہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ (خاک بدہن) یہ سفر تو اب اندھیروں کی جانب ہی ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ گھپ اندھیرا آنے والا ہے یا ذرا کم سیاہی ہوگی۔
یورپ سے سے مزید