• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نور مقدم کی سالگرہ پر بہن کی دلخراش پوسٹ

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رواں برس ماہِ جولائی میں بےدردی سے قتل کی جانے والی نور مقدم کی 28 ویں سالگرہ پر بہن سارہ مقدم نے ایک دلخراش پوسٹ شیئر کی ہے۔

سارہ مقدم نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں ’ہیپی برتھ ڈے نور‘ کا ایک کیک شیئر کیا اور ساتھ ایک تفصیلی نوٹ بھی لکھا۔

سارہ مقدم نے اپنی پوسٹ میں بہن کو سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا کہ میں نے کئی بار بیٹھ کر آپ کے لیے ایک خصوصی نوٹ لکھنے کا سوچا لیکن اسے عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی۔

سارہ نے لکھا کہ میں کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آپ کو سالگرہ کی مبارکباد دینے کے بجائے میں کوئی نوٹ تحریر کروں گی۔


انہوں نے کہا کہ کاش میں اس مرتبہ بھی آپ کو اپنی روایت کے مطابق آدھی رات کو اچانک برتھ ڈے وِش کر کے حیران کرتی اور گلے لگا کر آپ کو بتاتی کہ میں آپ سے کتنی محبت کرتی ہوں۔

سارہ مقدم نے لکھا کہ مجھے افسوس ہے کہ ہم اس مرتبہ ایک ساتھ کیک نہیں کاٹ سکتے لیکن میں یہاں سے ہر لمحے آپ کی مغفرت کیلئے دعاگو ہوں۔

انہوں نے لکھا کہ مجھے یقین نہیں ہوتا  کہ ہم ایک دوسرے سے جنوری 2020 سے ملاقات نہیں کرسکے اور ہمیں اس برس بھی ملاقات کا موقع نہیں مل سکا۔

سارہ مقدم نے لکھا کہ آپ کے دنیا بدل دینے کی خواہش آج رنگ لا رہی ہے، آپ یقیناً ایک بہتر مقام سے دیکھتی ہوں گی کہ کتنے لوگ آپ کو انصاف دلانے کیلئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے نور کی بہن ہونے پر فخریہ انداز میں لکھا کہ آپ کے جانے کے بعد میں نے خود سے وعدہ کیا کہ میں بھی آپ کی طرح ایک بامعنی زندگی گزاروں ، جانوروں سے پیار کروں، آپ کی طرح بچوں سے شفقت سے پیش آؤں۔

آخر میں انہوں نے لکھا کہ آپ ہمیشہ میری چھوٹی بہن، ننھا فرشتہ اور ایک بہترین دوست رہیں گی، اور ہاں یاد رہے کہ بہترین دوست اُن ستاروں کی مانند ہوتے ہیں جو بھلے چمکتے دمکتے دکھائی نہ دیں لیکن ہمیں یقین ہوتا ہے کہ وہ اپنی جگہ موجود ہیں۔

واضح رہے کہ 20 جولائی کو تھانہ کوہسار کی حدود ایف سیون فور میں 27 سالہ لڑکی نور مقدم کو تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا تھا۔

نور مقدم کے قتل کامقدمہ والد کی مدعیت میں تھانہ کوہسار میں درج ہے، مقتولہ کی ابتدائی موصولہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ 27سالہ نور مقدم کی موت دماغ کو آکسیجن نہ ملنے سے ہوئی جس کے بعد سر کو سفاکانہ طریقےسےدھڑ سے تیز دھارآلہ سےکاٹاگیا،جسم پر تشدد کے نشانات بھی موجود تھے۔

دوسری جانب نور مقدم قتل کیس کا مقدمہ تاحال سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید