• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک زمانہ تھا کہ منٹو اور عصمت چغتائی اردو کے سب سے زیادہ معروف اور بہت معتوب افسانہ نگار تھے۔ معروف دونوں اب بھی ہیں، منٹو زیادہ، عصمت کچھ کم۔ ممکن ہے کہ ان کا درجۂ معتوبی اب بھی بعض حلقوں میں قائم ہو، ویسے اب اس کی اب کوئی وجہ باقی نہیں ہے۔ جن کرداروں، موضوعات اور بیانیہ کی وجہ سے یہ دونوں لکھنے والے عتاب میں آئے، وہ سب کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ 

منٹو اور عصمت کی جو باتیں ایک دور میں اتش فشاں سمجھی گئی تھیں، آج وہ گیلے پٹاخے جیسی ہو گئی ہیں۔ سچ پوچھیے تو آج وہ سب باتیں اتنی سادہ بلکہ معصومانہ معلوم ہوتی ہیں کہ آدمی ان پر بس مسکرا کر رہ جائے۔ تو کیا اس کا مطلب ہے کہ اب یہ دونوں ادیب ہمارے افسانے کی تاریخ کا ایک حوالہ ہیں اور بس۔ ہمارے عہد کی ادبی، فکری اور انسانی صورتِ حال سے اب اُن کا زندہ رشتہ باقی نہیں۔

اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت صرف اس لیے نہیں ہے کہ آج منٹو اور عصمت کی ادبی حیثیت یا سماجی ریلی وینس پر غور کیا جائے، بلکہ اس لیے بھی کہ ہم یہ دیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ گزشتہ پون صدی میں ہمارے تہذیبی، اخلاقی اور سماجی سفر کی نوعیت کیا رہی ہے، اور اس کے ساتھ یہ بھی کہ آج ہمارے یہاں جو انسانی رویے پائے جاتے ہیں، اُن کی تشکیل میں کن کن عناصر کا کیا کیا کردار رہا ہے۔

منٹوآج بھی اردو کے زندہ ادب کا ناگزیر حصہ ہے، تاہم اس وقت وہ ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہے۔ آج ہم بات کر رہے ہیں عصمت چغتائی کی بابت۔ جن مسائل اور احوال پر عصمت کے فن کی بنیاد تھی، معاصر انسانی شعور اور زندگی کے تجربے میں اُن کی اب کوئی جگہ باقی نہیں۔ ادب و فن کی دنیا تو رہی ایک طرف، آج تو وہ باتیں بچوں کی توجہ بھی حاصل نہیں کرسکتیں جو کبھی عصمت کی فن کارانہ شناخت کا حوالہ اور عصری اخلاقیات کے لیے بڑے سوالیہ نشان کا درجہ رکھتی تھیں۔ 

چھہ سات دہائیوں کے اس عرصے میں وقت کے پل کے نیچے سے جو پانی بہہ نکلا ہے، وہ بہت کچھ اپنے ساتھ بہا کر لے گیا ہے۔ تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود ہمارے ادب خصوصاً افسانے میں عصمت کی اہمیت ختم نہیں ہوئی ہے۔ اس کے برعکس عصمت کے فکر و فن کی دنیا میں اب بھی کئی چیزیں ایسی ہیں جن کی اہمیت اپنی جگہ مسلّمہ ہے، ادب و نقد ہی کے لیے نہیں، انسانی شعور و احساس کے لیے بھی۔

عصمت چغتائی اردو کے اُن ادیبوں میں ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہیں جنھوں نے انسانی شعور کو کریدنے اور اس کی تہوں کو الٹ کر دیکھنے کی کوشش کی۔ اُن کی تحریروں نے ہنگامے تو بے شک بہت کھڑے کیے، لیکن نہ تو ان کے موضوعات ہنگامی نوعیت کے تھے اور نہ ہی ان کا تخلیقی رویہ ہنگامی تھا۔ ماننا پڑتا ہے کہ بڑے فن کار کا شعور اس حقیقت سے بخوبی بہرہ مند ہوتا ہے کہ انسانی احساس میں تغیر پیدا کرنے والی چیزیں کب اور کس طرح اترتی ہیں، اور کتنی گہری اترتی ہیں کہ ان کے اثرات دیرپا ہوں۔ 

عصمت چغتائی کی بدنامِ زمانہ یعنی بہت معروف نگارشات میں ’’لحاف‘‘ اور ’’ٹیڑھی لکیر‘‘ شامل ہیں، تاہم آج ہم دیکھتے ہیں کہ ان موضوعات کی کوئی خاص وقعت باقی نہیں۔ آج جب ان فن پاروں کو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ عصمت چغتائی نے اُن کے ذریعے انسانی کردار کو جس طرح آئینہ کیا ہے، اُس کی آب آج بھی اسی طرح قائم ہے۔ 

اس کا سبب یہ ہے کہ موضوع، مسئلہ یا سوال تو وقت کے ساتھ بدل جاتا ہے یا اُس کو دیکھنے اور سوچنے کے زاویے تبدیل ہوجاتے ہیں لیکن اس کی چھوٹ جس طرح انسانی احساس پر پڑتی ہے اور جس انداز سے وہ کسی فن پارے کے کردار کے عمل میں ظاہر ہوتا ہے، وہ شے اپنی معنوی تہ داری کی بدولت اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ زمانے کے بدلتے ہوئے دائرے میں یہی شے فن کار کی ریلی وینس کا اظہار کرتی ہے اور اس کے فن کی قدر کا تعین بھی۔

’’چوتھی کا جوڑا‘‘ ہو یا ’’دو ہاتھ‘‘ یا پھر ’’گیندا‘‘ ان افسانوں میں پیش کیے گئے کردار آج کے معاشرے میں بے شک دکھائی نہیں دیں گے، اور افسانہ نگار نے ان کرداروں اور ان کے احوال کو جس انداز سے پیش کیا، معاصر زندگی میں اس کی صورتیں بھی نہیں پائی جاتیں۔ تاہم ’’چوتھی کا جوڑا‘‘ کا روایتی گھرانا اپنی ایک صورت میں آج بھی اس معاشرے میں آپ کو نظر آجائے گا۔ اس گھرانے کا احوال بدلا ہے اور مسائل بھی اور ہوگئے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس دور میں استحصال کے ہتھکنڈے بدل گئے ہیں۔ 

بہت کچھ تبدیل ہوگیا ہے، لیکن نہیں ہوئی تو اس گھرانے کی تقدیر پون صدی میں بھی تبدیل نہیں ہوئی۔ اس کے افراد اب بھی ابتلا کے مرحلے سے گزرتے ہیں۔ عصمت چغتائی کا افسانہ ہمیں اپنے معاشرے کے سفید پوش، پس ماندہ، عزت دار اور روایتی گھرانے کے افراد کی زندگی کو اس رُخ سے دکھانے کی کوشش کرتا ہے، اور اس سوال کی الجھن سے دو چار کرتا ہے کہ یہ کس چیز کی قیمت ہے جو سماج کا یہ طبقہ چکاتا ہے۔

’’دو ہاتھ‘‘ کے کردار بھی آج کچھ سے کچھ ہوگئے ہیں۔ سو، اب دیکھنے اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہماری آج کی دنیا میں یہ کردار کیا کر رہے ہیں اور زندگی کے کس رویے کے نمائندے ہیں؟ حیاتِ انسانی کا عصری منظرنامہ ہمیں سوچنے کے لیے عجیب سوال پیش کر رہا ہے۔ گزشتہ زمانے میں حرام حلال اور جائز ناجائز، اولاد کا فرق جس طبقے میں ختم ہو جاتا تھا، وہ معاشی ابتری سے دوچار ہوا کرتا تھا۔ 

نئی دنیا میں معاشی ضرورتوں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو عصرِ حاضر میں اس فرق سے دھیان ہٹا دیتا ہے۔ عصمت چغتائی نے لام پر جانے والے شخص، اس کی بیوی اور ماں کو جن رویوں کا نمائندہ بنایا ہے، وہ رویے آج صرف پسے ہوئے طبقے کے افراد میں نہیں ہیں، بلکہ دوسرے طبقات کے افراد میں بھی سرائیت کر چکے ہیں۔ افسانے کا یہی نکتہ توجہ طلب ہے۔

’’گیندا‘‘ کی معصوم لڑکی جنسی ہراس اور استحصال کی جس صورتِ حال سے دوچار ہے، وہ وقت کے تغیر کے ساتھ آج انسانی سماج میں کتنی ہی دوسری شکلیں اختیار کر چکی ہے، یہی نہیں بلکہ ان بدلتی صورتوں کے نمونے اب ہمیں معاشرے کے ان طبقات میں بھی نظر آتے ہیں، جن میں کبھی اس کا تصور بھی محال تھا۔ عصمت چغتائی نے کہانی تو بے شک گیندا اور اس رئیس گھرانے کے افراد کی لکھی ہے جہاں ایک گھنائونا کھیل چل رہا ہے، لیکن اُن کی تخلیقی کاوش کا دائرہ ان کرداروں تک محدود نہیں ہے، بلکہ ان کے ذریعے ہمیں انسانی فطرت کے اس رجحان کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے جو گدھ سے بدتر فطرت کا اظہار کرتے ہیں۔ 

اس لیے کہ گدھ مردہ جسموں کی بوٹیاں نوچتا ہے اور انسانی قالب میں گھومتے یہ گدھ اور بھیڑیا فطرت لوگ زندہ انسانوں کو کھسوٹتے اور اُن کا خون چوستے ہیں۔ اپنے جیسے جیتے جاگتے انسان ان کی نزدیک کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ اُن کی روح کو کچل ڈالنا اور اُن کے جسموں کو بھنبھوڑنا ان کے لیے ایک ایسا معمول ہے، جس کی کہیں اور کوئی پرسش نہیں۔

عصمت چغتائی کے کردار گزرے ہوئے زمانے کے ہیں اور محاورہ بند زبان بھی، بے شک عہدِ گزشتہ کی یادگار ہے، لیکن انھوں نے اپنے افسانوں میں انسانی مسائل کو جس طرح دیکھا ہے، وہ وقت کی گرد میں معدوم ہونے والا فن نہیں ہے۔ وقت کی سرحدوں کو اُلانگتے ہوئے وہ ہمارے عہد کی انسانی صورتِ حال سے اپنی تطبیق کرتا ہے اور ہمارے لیے زندگی کے توجہ طلب مسائل میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ 

اس کا مطلب یہ ہے کہ زمانے کی تبدیلی نے ان کرداروں کی ظاہری صورت میں ردو بدل کیا ہے، لیکن انسانی فطرت کے جن تاریک گوشوں کو عصمت چغتائی نے جھانک کر دیکھا اور اپنے فن کا حصہ بنایا تھا، وہ آج بھی نہ صرف موجود اور غور طلب ہیں، بلکہ ان کی شدت اور تناسب میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمارے عہد اور سماج سے عصمت کی ریلی وینس کی یہی وہ جہت ہے جو اُن کے فن کو آج بھی قابلِ مطالعہ ٹھہراتی ہے۔

عصمت چغتائی کے فن کا ایک اور پہلو بھی بہت اہم اور توجہ کا مستحق ہے، وہ ہے انسانی فطرت کی تفہیم۔ ہر بڑا فن کار اپنے فن میں اس امر کا لحاظ رکھتا ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کے لیے عقدہ کشا ہو۔ چناں چہ عصمت چغتائی کے یہاں بھی ہمیں انسانی فطرت کی باریک گرہوں کو کھولنے اور ان کے اندر دور تک جھانکنے کی ایک خاص کاوش نظر آتی ہے۔عصمت چغتائی نے یہ کام بالالتزام کیا ہے۔ 

اس لیے ان کے افسانے کا کردار، موضوعات، مسائل اور احوال تغیرِ وقت کے باوصف اپنے اندر کچھ نہ کچھ آج بھی ایسا رکھتے ہیں جو دست برد زمانہ سے محفوظ ہے اور ہمیں اپنی عصری زندگی اور سماجی تناظر میں ان کو نئے سرے سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔ اکیس ویں صدی کی تیسری دہائی میں عصمت چغتائی کی اہمیت و معنویت کا یہی جواز ہے اور اُن کی فن کارانہ بقا کا ثبوت بھی۔