• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت نے 74 برسوں سے کشمیریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا ہوا ہے، ظہیر اے جنجوعہ

بیلجیم، لکسمبرگ اور یورپین یونین کے لیے سفیر پاکستان ظہیر اے جنجوعہ نے کہا ہے کہ آج کے دن 74 سال قبل بھارتی سیکیورٹی فورسز جموں و کشمیر کی سرزمین پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرنے اور کشمیریوں کو محکوم بنانے کے لیے سری نگر میں اتری تھیں، اس کے بعد سے، بھارتی حکومت نے اپنے غیر انسانی کریک ڈاؤن، فوجی محاصرے سے کشمیریوں کو انکے بنیادی انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔

5 اگست 2019ء کو بھارتی حکومت نے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور پاک بھارت دوطرفہ معاہدوں کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔

900,000 سے زیادہ ہندوستانی سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے ساتھ، مقبوضہ جموں و کشمیر کو دنیا کے سب سے زیادہ ملٹیرائزڈ زون اور سب سے بڑی اوپن ایئر جیل میں تبدیل کر دیا گیا، کرفیو، انٹرنیٹ اور میڈیا بلیک آؤٹ کے نفاذ سے 80 لاکھ بے گناہ کشمیریوں کے شہری حقوق اور بنیادی آزادیوں کو سلب کر دیا گیا ہے۔ 

بھارت نے متنازعہ علاقے کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے لیے نئے ڈومیسائل قوانین سمیت دیگر اقدامات بھی متعارف کرائے ہیں، یہ قانون سازی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کی مثال نہیں ملتی، یہ ماورائے عدالت قتل، عصمت دری، تشدد، من مانی گرفتاریاں، پیلٹ گن کے اندھا دھند استعمال اور اجتماعی سزاؤں کو ریاستی پالیسی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، یہ خلاف ورزیاں عالمی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا بھر کی پارلیمانوں کی رپورٹس میں بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔

سفیر پاکستان نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے بھارت کی بلا روک ٹوک خلاف ورزیوں کو وسیع پیمانے پر دستاویزی شکل دی ہے اور جون 2018ء اور جولائی 2019ء میں جاری کردہ دو الگ الگ رپورٹوں میں ایک آزاد کمیشن آف انکوائری کی سفارش کی ہے، انٹرنیشنل ہیومن رائٹس واچ نے اپنی 2021ء کی رپورٹ میں بھی ان مظالم کی نشاندہی کی ہے۔

بدقسمتی سے ہندوستان بین الاقوامی میڈیا، انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور خصوصی مینڈیٹ ہولڈرز کی رسائی سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔

جولائی 2021ء میں یوروپی پارلیمنٹ کے نائب صدر ڈاکٹر فابیو ماسیمو کاسٹالڈو نے یورپی پارلیمنٹ کے 15 ارکان کے مشترکہ دستخطوں سے یورپی کمیشن کے صدر اور اعلیٰ نمائندے کو ایک خط بھیجا ہے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں خطرناک انسانی حقوق سے نمٹنے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، نائب صدر کاسٹالڈو نے جون 2020ء میں بھی یورپی پارلیمنٹ کے 14 ممبران کا مشترکہ دستخط شدہ ایک ایسا ہی خط لکھا تھا۔

ستمبر 2019ء میں یورپی پارلیمنٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر کھلی بحث کی، ایم ای پیز کی بڑی تعداد نے بھارتی اقدامات اور انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی مذمت کی اور بھارت سے فوجی محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی سربراہ، ایم ای پی ماریا ایرینا نے بھی بھارتی وزیر داخلہ کو ایک خط لکھا تھا جس میں گزشتہ سال بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ فوری طور پر ماورائے عدالت قتل بند کرے، فوجی محاصرہ ختم کرے، 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو واپس لے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تعمیل کرے، بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی حقوق کی تنظیموں، مبصرین اور بین الاقوامی میڈیا کو مقبوضہ علاقے تک رسائی کی اجازت دے۔

سفیر پاکستان ظہیر اے جنجوعہ نے بیرون ملک خصوصی طور پر بیلجیم اور لکسمبرگ میں رہنے والے پاکستانیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا میں آپ سب سے درخواست کرتا ہوں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے معصوم کشمیریوں کی آواز بنیں اور ایک مضبوط بین الاقوامی ردعمل کا اظہار کریں۔

خاص رپورٹ سے مزید