میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں تو مجھے شاہراہوں پر لکھا ہوا یہ بینر کثرت سے ملتا ہے کہ ”پرانے ونڈو AC “خراب یا صحیح حالت میں اچھے ریٹ پر فروخت کرنے کے لئے فوری رابطہ کریں، بلکہ اخبارات میں بھی اب یہ اشتہار شائع ہوتا نظر آتا ہے۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ پرانے اور خراب ونڈو ”اے سی“ کے خریدار ان کا کیا کرتے ہیں یا وہ ان میں سے کونسے پرزے نکال کر کس فائدے کا کاروبار کرتے ہیں لیکن تقریباً ایک سال قبل میں بھی اس اشتہار سے متاثر ہوا تھا اور ہماراایک پرانا گھر ہے جس میں تین ونڈو” اے سی “لگے ہوئے تھے اور گھر بند ہونے کی وجہ سے تقریباً ناکارہ ہوچکے تھے، بلکہ ان کے ارد گرد نہ جانے پرندوں نے اپنے گھونسلے بھی بنالیے تھے۔ مجھے کچھ خاص رقم کی ضرورت بھی نہیں تھی لیکن اسکے باوجود نہجانے کیوں میرے دل میں پرانے ونڈو اے سی کے اشتہار نے یہ خواہش پیدا کردی کہ میں ان ناکارہ اور پرانے تین ایئرکنڈیشنڈز کو بیچ دوں ،میں نے بینر پر لکھے ہوئے فون نمبر پر کال کی اور انہیں ایڈریس سمجھایا ۔ طے شدہ وقت پر میں بھی پرانے خالی مکان پر پہنچ گیا۔ اے سی کے دو خریداروں نے معائنہ کرنے کے بعد مجھے اپنی آفر بتائی جوکہ میری سوچ سے کافی زیادہ تھی، لیکن میں نے پھر بھی بارگین کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہاکہ یہ تو بہت کم ہیں ۔ انہوں نے بغیر کسی حیل وحجت کے فوراً اپنی آفر بڑھا دی اور میں اے سی بیچنے پر راضی ہوگیا۔ انہوں نے دوبارہ وقت طے کیا اور گاڑی سمیت آئے مجھے رقم دی اور اے سی اتار کر لے گئے۔کچھ عرصہ بعد مجھے مکان کے حوالے سے ایک فیصلہ کرنے کے لئے دوبارہ پرانے گھر جانے کا اتفاق ہوا تو مجھے مکان کی حالت دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا کہ یہ ہمارا والا ہی مکان ہے، تمام واش رومز کے نلکے، ٹونٹیاں، فلش سسٹمز پائپ، فکس ہیٹرز سب غائب تھے، کارپٹ یا تو بری طرح ادھڑ چکے تھے یا ان پر بلیوں نے اپنی حشر سامانیاں کر رکھی تھیں، مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوچکا تھا کہ میں نے پرانے”اے سیز“ کے اچھے ریٹس سن کر یہ نہیں سوچا تھا کہ جن ونڈو” اے سیز “کو میں نکال کر بیچ رہا ہوں انکے سوراخ خالی ہوجائیں گے جو چوروں اور جانوروں کا راستہ بن جائیں گے جس کی مدد سے وہ میرے گھر کا ستیاناس کردیں گے چور گھر کی ٹائلیں تک اکھاڑ کر لے جائیں گے۔ہمارے حکمرانوں سے بھی یہی غلطی ہوئی ہے ، انہوں نے تھوڑے تھوڑے اور معمولی مفادات کی خاطر ملک کے تمام ونڈو” اے سی“بیچ دیئے ہیں ،چاہے وہ غیرملکی طاقتوں کو بیچے ہیں یا قرضے دینے والی عالمی تنظیموں کے ہاتھوں رہن رکھوائے ہیں ، بلکہ ہمارے حکمرانوں نے تو بارگین کرنے کی بھی کوشش نہیں کی بلکہ جس نے جو ریٹ دیا، اس پر کورنش بجالاتے ہوئے سرتسلیم خم کرلیااور اپنے گھر کے تمام دروازے لوگوں کے لئے کھول دیئے ہیں جن دروازوں کے راستے ہمارے گھر میں گھس کر ہر قسم کی چوری، ہر قسم کی واردات اور ہر قسم کی گندگی پھیلائی جارہی ہے اور اسکا نقصان اس گھر کے وارثوں کو ہو رہا ہے جو اپنی جان و مال کی صورت اس نقصان کو برداشت کر رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس گھر میں کچھ بھی ہمارا نہیں ہے، سب کچھ دوسروں کے کنٹرول میں چلاگیا ہے وہ جب چاہتے ہیں ہمارے گھر میں دہشت پھیلا کر چلے جاتے ہیں جب چاہتے ہیں سازش کی تعفن شدہ گندگی پھیلا کر چلے جاتے ہیں اور ہم نے اتنی تعداد میں اپنے ونڈو ” اے سی“ بیچ ڈالے ہیں کہ ہمیں سمجھ ہی نہیں آرہی کہ اس سے پیدا ہونے والا کون کون سا سوراخ بند کریں ، لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ہم بھی ونڈو ” اے سی“ سے پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کی کوشش ہی نہیں کر رہے ، ہمیں تو اپنی لڑائیوں سے ہی فرصت نہیں ہے اور نہ ہی ہماری ترجیحات میں شامل ہے ، صرف ایک بیان داغ کر یا اسکی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈال کر سمجھتے ہیں کہ بس میرا یہی فرض تھا۔