• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کچھ سال پہلے تک یہ سوچا بھی نہ تھا کہ زمانے کے انداز اس قدر اور اتنی تیزی سے بدل جائیں گے ۔امی بتاتی ہیں کہ ان کے بچپن میں رمضان المبارک میں سب بچوں بڑوں کے پورے سال کے سردی گرمی کے کپڑے حسب استطاعت بن جاتے تھے، جوتا چپل تک لے لی جاتی تھی ۔ اس کے بعد اشد ضرورت کے تحت ہی کپڑے یا جوتے خریدے جاتے تھے ۔ شادی بیاہ کے موقعے پر خواتین کچھ خریداری کرلیتی تھیں ،ورنہ پورا سال اسی میں گذارا جاتا تھا، البتہ ہمارے بچپن میں ایسا نہیں تھا وقتاً فوقتاً موسم کی مناسبت سے کپڑے بنتے تھے لیکن سادگی کا زمانہ تھا اسراف سے بچا جاتا۔ 

امیر اور متوسط طبقے کے لوگ ایک جیسے کپڑے ہی پہنتے تھے ، پھر جاپانی کپڑے کا رواج ہوا ، باڑہ مارکیٹ سے خریداری اسٹیٹس سمبل بن گیا جو لوگ استطاعت رکھتے وہ باڑہ مارکیٹ سے شاپنگ کرتے تھے ۔ ہم بچپن میں جب بھی اپنے صاحب ِحیثیت رشتے داروں سے یہ سنتے کہ ’’ فلاں کپڑا ہم نے باڑے سے خریدا ہے ‘‘ تو ہمیں بھینسوں کے باڑے کا ہی خیال آیا کرتا تھا ،بعد میں پتہ چلا کہ اسمگل شدہ سامان کی فروخت کی مارکیٹ باڑہ مارکیٹ کہلاتی ہے۔سالوں قبل کراچی میں سہراب گوٹھ پر سب سے بڑی باڑہ مارکیٹ تھی ۔

بڑے ہونے کے بعد ہم نے بھی کئی بار باڑہ مارکیٹ سے شاپنگ کی جہاں واقعی معیاری اشیاء سستے داموں مل جاتی تھیں ۔ ہماری شادی کے کچھ عرصے بعد تک باڑہ مارکیٹ کا رواج رہا، پھر سرحدوں پر آسانی سے سامان کی آمد و رفت اور کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ کے بعد سامان ہر جگہ خصوصاً کراچی میں بآسانی دستیاب ہونے لگا اور یوں باڑے آہستہ آہستہ ختم ہوتے چلے گئے اور پھر کچھ ہی عرصے بعد ’’برانڈڈ چیزوں‘‘ کا زور شروع ہوگیا جو اب اپنے عروج پر پہنچ چکا ہے ۔ 

جب ہم بہت چھوٹے تھے اس وقت بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی پر ایک برانڈ کی ساڑھی کا اشتہار آیا کرتا تھا ، پھر تھوڑی سمجھداری کی عمر میں ہم نے متعدد برانڈز کو جانا، خاص طور پر ایک ’’ لان ‘‘کا اشتہار بہت مشہور تھا ، اس کو دیکھ کر ہم بھی وہ لان بہت شوق سے خریدا کرتے تھے ،پھرایک برانڈ کے سلے سلائے کپڑے مشہور ہوئے اور لوگوں میں بہت پسند کئے گئے ۔اس کے بعد کچھ سالوں کا گیپ آیا، جس میں سب ملا جلا چلتا رہا اور جناب پھر آہستہ آہستہ برانڈڈ کےکلچر کا ایسا سیلاب آیا کہ اس میں سادگی وادگی سب تنکے کی طرح بہہ گئی۔ اب تو کپڑے برانڈڈ ، جوتے برانڈڈ ، گھڑی اور چشمے برانڈڈ ، پرفیوم برانڈڈ ، بیڈ شیٹ برانڈڈ ، فرنیچر برانڈڈ یہاں تک کہ کھانے برانڈڈ ، گھی اور تیل برانڈڈ ، مسالے، دودھ اور دہی ، گوشت ، مرغی برانڈڈ اور تو اور بقر عید پر گائے اور بکرے بھی برانڈڈ ہوتے جارہے ہیں ۔ 

غرض یہ کہ یہ برانڈڈ کا زمانہ ہے ۔اب خواتین ایک دوسرے کو یہ نہیں بتاتیں کہ میں نے لان کے چار سوٹ خریدے بلکہ اس طرح بتاتی ہیں کہ فلاں برانڈ کا ایک سوٹ ،فلاں کے دو لیے ہیں ۔ اسی طرح ڈیزائنرز جیولری وغیرہ کے رواج نے فروغ پایا صرف اس لئے کہ جو ہمارے پاس ہو وہ عام نہ ہو ،صرف ہمارے پاس ہوں، یوں ڈیزائنرز کی بھی چاندی ہوگئی اور اب آٹھ دس لاکھ کا دلہن کا جوڑا عام بات ہے ورنہ تو بات اس سے بھی بہت آگے نکل چکی ہے ، پھر بیوٹیشن اتنا مشہور ہو کہ اس کا نام ہی کافی ہو چاہے لاکھ روپے لیتا ہو ، شادی ہال بہت مشہور ہونا چاہئے ، کیٹررز شہر کے جانے پہچانے اور سب سے زیادہ پیسہ لینے والے ہوں اور اس طرح برانڈڈ کے شوق میں لاکھوں روپے پھونک دیے جاتے ہیں۔ یہ سب تو ہم جیسے لوگوں کو معلوم ہیں ورنہ اپر کلاس کے ڈیزائنرز مثلاً بربیریس ، مائیکل کورس ، ٹوری برچ ، گوچی ، گیپ وغیرہ کے تو چند ناموں کے سوا ہم نے نام بھی نہیں سنے ۔

ایک اور دلچسپ مشاہدہ یہ کیا کہ، اب آپ کسی سے یہ کہہ کر دیکھیں کہ’’ مجھے بخار ہے ‘‘ لوگ فوراً پوچھیں گے ۔’’کووڈ ہے یاڈینگی ؟ وائرل ہے یا ٹائیفائڈ ؟ ‘‘ مطلب بخار بھی بے نام نہیں ہونا چاہئے کچھ تو مشہور نام والا بخار ہو یہ کیا کہ سیدھا سادھا بخار ہوگیا۔ خیر دنیا اسی تبدیلی کا نام ہے۔ آج برانڈڈ کا زمانہ ہے تو کل نجانے یہ دوڑ کہاں تک پہنچے لیکن اس ساری بھاگ دوڑ میں ہم یہ بھولتے جارہے ہیں کہ ہم کیا تھے اور اب ہم کیا بنتے جارہے ہیں ۔پہلے ہماری برانڈ کیا تھی اور اب ہماری برانڈ کیا ہے ۔ 

برانڈڈ کی اس دوڑ میں ہماری تہذیب ، ہمارا تمدن کتنامتاثر ہورہا ہے۔ یہ ہم نے سوچنا چھوڑ دیا ہے۔ ہماری شخصیت کیسی ہے ،ہم سے مل کر لوگوں کو مثبت انرجی ملتی ہے یا منفی ؟ہماری زبان لوگوں کو زخمی کر رہی ہے یا ان کے زخموں پر مرہم رکھ رہی ہے ۔ کیا ہم اپنے فرائض و عبادات اس طرح انجام دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نظر میں بہترین بن سکیں؟ یہ ہم سب کو سوچنے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین انسان بننے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔