کراچی میں لائن لاسز کی بنیاد پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف درخواست کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق سندھ ہائیکورٹ نے دلائل طلب کرلیے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ لوڈشیڈنگ کی لائن لاسز سمیت مختلف وجوہات ہوتی ہیں، گلی میں ایک گھر بھی اگر بل ادا کرتا ہے تو اس کو بلاوجہ پریشانی ہوتی ہے۔
جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ بروقت بل ادا کرنے والوں یا بجلی چوری نہ کرنے والوں کو تو بجلی ملنی چاہیے، کے الیکٹرک پری پیڈ کارڈ کا سسٹم کیوں نافذ نہیں کرتی؟
عدالت میں کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ پری پیڈ کارڈز کے نظام کے لیے پالیسی بنانی پڑے گی۔
عدالت نے کہا کہ آج سے کام شروع کریں گے تو 5 سال بعد مکمل ہوگا، ایسا نظام بنائیں کہ کارڈ کے بغیر صارف بجلی استعمال نہ کرسکے۔
کے الیکٹرک کے وکیل نے کہا کہ متعلقہ حکام تک عدالتی تجویز پہنچائیں گے۔