• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر میں زراعت ایک انتہائی اہم شعبہ ہے جو نہ صرف لوگوں کی خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کو پورا کرتا بلکہ یہ اربوں ڈالر کی تجارت کا باعث بھی بنتا ہے۔ معیشت میں اس شعبہ کا بہت بڑا کردار ہوتا ہے اور اس سے متعلقہ پیشے روزگار کا ذریعہ اور بھرپور طرزِ زندگی ہیں۔ یہ شعبہ سخت محنت، وقت، پانی، موافق موسم، سائنس اور جدید ٹیکنالوجی مانگتا ہے تبھی جاکر ہمیں وسیع و عریض رقبے پر سرسبز باغات اور لہلاتے ہرے بھرے کھیت نظر آتے ہیں۔ 

زراعت میں پہلے پہل مشینری کا استعمال نہیں ہوتا تھا، مویشیوں یا کچھ اوزار (دستی ہل، بیلوں، کلہاڑی ، درانتی وغیرہ) کی مدد لی جاتی تھی۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ کاشت کی تکنیکوں کی مکمل جدید کاری اور مناسب مشینری کا استعمال کیا جانے لگا تاکہ لاگت میں کمی اور پیداوار میں اضافہ ہو۔ زرعی ماہرین کی جانب سے وقتاً فوقتاً کاشتکاروں کو پیداواربڑھانے کے لیے معلومات فراہم کی جاتی رہتی ہیں کیونکہ بہترین زرعی نظام زمین کے بہتر انتظام اور فصلوں کی پیداوار میں قدرتی وسائل کے تحفظ اور ان کے دانشمندانہ استعمال پر مشتمل ہے۔

انسانی زندگی کو برقرار رکھنے یا بڑھانے کے لیے زرعی مصنوعات تیاری کی جاتی ہیں۔ ہم لوگ ہر روز زرعی مصنوعات کی وسیع رینج کا استعمال کرتے ہیں، جس میں کھانے پینے کی اشیا سے لے کر کپڑوں اور کاغذ کی تیاری شامل ہے۔ زرعی فصلیں مصنوعات میں تبدیل ہوکر کھانے پینے، ایندھن، فائبر یا خام مال میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق تقریباً 11فیصد زمین فصل کی پیداوار کے لیے وقف ہے اور 26فیصد کے قریب جانوروں کے لیے چراگاہوں کے طور پر استعمال ہورہی ہے۔

کھانے کی اشیا: کھانے کی اشیا میں اناج شامل ہیں۔ کچھ فصلیں انسان کی غذا کے لیے استعمال ہوتی ہیں جبکہ کچھ کو جانوروں کو کھلایا جاتا ہے، جو دودھ دیتے یا انسانوں اور دوسرے جانوروں کی خوراک بن جاتے ہیں۔

ایندھن: زرعی مصنوعات ایندھن کی تیاری میں بھی استعمال کی جاسکتی ہیں۔ مکئی، گنے یا جوار سے ایتھنول تیار کیا جاتا ہے۔ زرعی پیداوار کو ٹیکسٹائل یا پلاسٹک کو تقویت دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

فائبر: فائبر والی فصلوں میں روئی، اون اور ریشم شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کپڑا بنانے کے لیے بانس فائبر کا استعمال بھی ممکن ہے۔

خام مال: خوراک کی فراہمی کے علاوہ زراعت صنعتی شعبہ کے لیے خام مال کے حصول کا بڑا ذریعہ ہے۔

پاکستان میں زراعت

پاکستان ایک زرعی ملک ہے جو اپنی معاشی ضرورتوں کا زیادہ تر انحصار زراعت پر کرتا ہے۔ ہمارے ملک کی زمین زرخیز اور آب و ہوا زراعت کے لیے بہت موزوں ہے۔ یہاں کھیتوں میں آبپاشی کے لیے بہترین نہری نظام موجود ہے جبکہ شمالی سمت سے آنے والے دریا پنجاب اور سندھ کی زمین کو زرخیز کرتے ہوئے جنوب میں بحیرۂ عرب میں جاگرتے ہیں۔ مختلف موسموں میں الگ الگ فصلوں کی کاشت ہوتی ہے، ساتھ ہی طرح طرح کے پھل اور سبزیاں بھی پیدا ہوتی ہیں۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں زراعت کا حصہ تقریباً 22فی صد ہے اور مجموعی افرادی قوت میں سے کم و بیش 44فیصد افراد زراعت سے وابستہ ہیں جبکہ آبادی کا 60 سے 70 فیصد حصہ بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اس شعبے سے منسلک ہے۔ ملکی زراعت میں فصلوں کا حصہ 35فیصد، جنگلات 2.13فیصد، لائیواسٹاک61فی صد، پولٹری اور ماہی گیری 4فیصد ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق تشویشناک بات یہ ہے کہ 2050ء تک ملک میں گندم کی پیداوار میں 50فیصد کمی کا خدشہ ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہماری مختلف فصلیں اور پھلوں کی اقسام پہلے ہی متاثر ہورہی ہیں۔ ان تمام پریشانیوں اور خطرات کے باوجود، ہم دنیا میں سب سے زیادہ فصلیں کاشت کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ فصلوں کی کاشت کے لحاظ سے ہماری چار فصلیں (کپاس، گندم، گنا اور چاول) زیادہ اہم ہیں۔ 

کپاس کی فصل ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے جس کا زراعت میں حصہ4.1فیصد ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے برآمدی شعبے ٹیکسٹائل کا خام مال کپاس سے ہی حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم المیہ یہ ہے کہ کپاس کی پیداوار میں تقریباً~7فیصد کمی واقع ہوئی کیونکہ اس کے کاشتکار اب گندم اور گنے کی کاشت کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ حکومت کی جانب سے گندم اور گنے کی امدادی قیمت مقرر کرنا ہے۔ ملک میں جنگلات کا کل رقبہ محض 5فیصد ہے یعنی ملک میں 4.51ملین ہیکٹر رقبے پر جنگلات ہیں۔

لائیو اسٹاک زراعت کا اہم جزو ہے، تقریباً 15لاکھ خاندان اس پیشے سے وابستہ ہیں اور زندگی کی بنیادی ضرورتیں اسی سے پوری کرتے ہیں۔ یہ ملک میں دودھ اور گوشت کی فراہمی کا ذریعہ ہے۔ پاکستان دودھ اور گوشت کی پیداوار میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ پاکستان دودھ پیدا کر نے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔ مالی سال 2019ء-2020ء کے دوران پاکستان نے61.6ملین ٹن دودھ اور4.7ملین ٹن گوشت پیدا کیا۔ یہ شعبہ ملک میں چمڑے کی صنعت کے لیے خام مال کی فراہمی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ 

پولٹری بھی لائیوسٹاک کا ایک ذیلی شعبہ ہے، جس میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مالی سال 2019ء-2020ء کے دوران اس شعبے میں 9.1فیصد اضافہ ہوا۔ یہ شعبہ تقریباً 15لاکھ لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بنتا ہے۔ پولٹری کی وجہ سے ملک میں گوشت کی مانگ کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے، یہ گوشت کی 35فیصد طلب پوری کرتا ہے۔ ماہی گیری کے شعبے کی بات کریں تو مجموعی طور پر اس شعبے میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ مالی سال 2019ء-2020ء کے دوران مچھلی کی مجموعی برآمدات کا حجم 2.7فیصد رہا۔

زرعی ٹیکنالوجی

خوراک اور زرعی شعبہ عالمی نظام کا اہم حصہ ہے۔ اس سیکٹرسے منسلک چھوٹے کاشتکار آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے قدیم اور روایتی کاشتکاری کے طریقۂ کار کے تحت فصل اُگاتے ہیں، جس کی وجہ سے بہتراور معیاری پیداوار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گلوبل ہارویسٹ کی رپورٹ کے مطابق پانی کے مسائل، غیر متوقع موسمی تبدیلی اور کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے خراب فصل کی پیداوار نے دنیا بھر میں 50کروڑ چھوٹے کاشتکاروں کا روزگار خطرے میں ڈال دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کم ہوتے ہوئے وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں خوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدید کاشتکاری نظام اور ٹیکنالوجی کو اپنایا جارہا ہے۔ شعبہ زراعت میں ورٹیکل فارمنگ (عمودی زراعت) سے لے کر ڈیٹا سائنس اور فارمنگ ڈرونز (زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے ڈرونز) جیسی ٹیکنالوجیز متعارف کروائی جاچکی ہیں۔

ان ٹیکنالوجیز کو متعارف کروانے کا مقصد موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، خوراک اور متوازن غذا کی بڑھتی طلب، زمین کی محدود دستیابی اور دیگر مسائل کو حل کرنا ہے۔ یہ جدیداقدامات ابتدائی مرحلے میں ہونے کے باوجود سائنسی تحقیق پرمبنی ماڈرن ایگریکلچرپر انحصار کرتے ہیں۔ 

موبائل کا استعمال اور آئی سی ٹی بیسڈ (ICT-based) اقدامات کاشتکاروں کو معلومات اور آگاہی فراہم کرنے کے لیے مفید ذرائع ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی زرعی تحقیق میں اہم کردار ادا کررہے ہیں، جن کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں کسانوں کو آگاہی فراہم کی جار ہی ہے۔ ایک دلچسپ پہلو ڈیجیٹل ایگریکلچر ٹیکنالوجی ہے۔ ڈیجیٹل ٹولز، بائیو ٹیکنالوجی اورجد ید پلانٹ بریڈنگ کے ساتھ زراعت میں جدت ایک مجموعی نقطۂ نظر پیش کرتی ہے تاکہ سائنسی طور پر درست اور مؤثر کاشتکاری کرتے ہوئے خوراک کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔

آنے والے وقتوں میں فصلوں کی پیداواری صلاحیت بڑھانا آسان کام نہیں ہوگا۔ اس وقت زرعی شعبے کو جس طرح صنعتی دور کے طریقوں (جیسے زمین کے استعمال کے فرسودہ تصورات اور پیداواریت) کے تحت چلایا جارہا ہے، اس کے نتائج اور بھی خطرناک ہوسکتے ہیں۔ یہ وہ صورتحال ہے، جہاں زراعت کے فروغ اور فصلوں کی پیداوار کو دُگنا کرنے کے لیے ٹیکنالوجی کا کردار اہم ہوجاتا ہے۔ اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ زرعی زمینوں کے لیے مزید بڑے کارپوریٹ فارمز بنانا یا پھر نئے مصنوعی کیمیکلز تیار کرنا پریں گے۔ 

زرعی ٹیکنالوجی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جدید مانیٹرنگ اور ڈیٹا انالیسز کے ٹولز استعمال کرتے ہوئے کم وسائل میں زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جائے۔ اس کے علاوہ، زرعی پیداوار کے دو اہم ترین اور بنیادی وسائل، زمین اور پانی، کے استعمال پر زائد بوجھ ڈالے بغیر فصلوں کی پیداوارکو دُگنا کیا جائے۔