• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی حکومت اور پرائیویٹ انویسٹرز کنسورشیم منی نیوکلیئر ری ایکٹرز بنانے کیلئے رولز رائس کی فنڈنگ کرے گا

لندن (پی اے) رولز رائس کو منی نیو کلیئر ری ایکٹرز بنانے کیلئے فنڈنگ مل گئی ہے۔ پرائیویٹ انویسٹرز اور برطانوی حکومت کا کنسورشیم کلین انرجی پیدا کرنے کیلئے چھوٹے نیوکلیئر ری ایکٹرز کی تیاری میں رولز رائس کی حمایت کر رہا ہے۔ پرائیویٹ فرمز کی جانب سے 195 ملین پونڈ کے کیش انجکشن اور حکومت کی جانب سے 210 ملین پونڈ کی گرانٹ ملنے کے بعد رولز رائس سمال موڈیولر ری ایکٹررز (ایس ایم آر) بزنس کی تخلیق کا اعلان کیا گیا ہے۔ امید ہے کہ نئی کمپنی 2050 تک 40000 جابس پیدا کر سکتی ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ نئے نیو کلیئرپاور کے بجائے رینیوایبل پاور پر فوکس کیا جانا چاہئے۔ فی الوقت برطانیہ کی 21 فیصد الیکٹرک سٹی جنریشن نیو کلیئر سمال موڈیولر ری ایکٹرز سے ہوتی ہے۔ سمال ماڈیولر ری ایکٹرز، نیو کلیئر فیوژن ری ایکٹرز ہوتے ہیں جو روایتی ری ایکٹرز سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ رولز رائس گروپ، بی این ایف ریسورسز، ایکسیلون جنریشن اور حکومت کی طرف سے انویسٹمنٹ کے ذریعے رولز رائس ایم آر ڈیزائن تیار کیا جائے گا اور اس کے ریگولیٹری پراسس کے ذریعے یہ اندازہ لگایا جائے گا کہ آیا یہ برطانیہ میں تعینات کرنے کیلئے مناسب ہو سکتا ہے۔ یہ بھی نشان دہی کی جائے گی کہ کون ری ایکٹرز کے پارٹس کی مینو فیکچرنگ کرے گا اور توقع ہے کہ اس وینچر کی زیادہ تر انویسٹمنٹ برطانیہ کے نارتھ پر فوکس کی جائے گی جہاں پہلے سے نیوکلیئر مہارت موجود ہے۔ رولز رائس ایس ایم آر نے کہا کہ اس کے پاور سٹیشنز میں سے ایک روایتی نیوکلیئر پلانٹ کے سائز کے تقریباً دسواں حصہ گھیرے گا جو فٹ بال کی دو پچز کے فٹ پرنٹ کے مساوی ہے اور اس سے تقریباً ایک ملین گھروں کو بجلی ملے گی۔ فرم کا کہنا ہےکہ ایک پلانٹ میں 470 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہوگی، اتنی ہی بجلی 150 سے زیادہ آن شور ونڈ ٹربائنز کے ذریعے پیدا کی جاتی ہے۔ رولز رائس کے چیف ایگزیکٹیو وارن ایسٹ نے کہا کہ کمپنی کی ایس ایم آر ٹیکنالوجی کلائمیٹ چینج سے نمٹنے میں مدد کیلئے کلین انرجی سلوشن پیش کرتی ہے۔ بزنس اینڈ انرجی سیکرٹری کواسی کوارٹنگ نے کہا کہ ایس ایم آر نے لاگت کم کرنے اور تیزی کے ساتھ تعمیر کے مواقع فراہم کئے ہیں تاکہ لوگوں کے گھروں تک صاف بجلی کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور اپنے پہلے سے کم ہوتے غیر مستحکم فوسل کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کیلئے یہ زندگی بھر کا ایک موقع ہے کہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ لو کاربن انرجی کو ملک میں لگایا جا سکے اور زیادہ تر انرجی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے۔

یورپ سے سے مزید