جرمنی کی ڈائری،سید اقبال حیدر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی مشرق اور مغرب کی تہذیب پر گہری نظر تھی ۔ڈاکٹر آریان ہپف ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں ویران’’اقبالؔ چیئر‘‘ حکومتی بے حسی کا شکار ہے۔ڈاکٹرعلامہ محمد اقبالؔ کیسالگرہ دنیا بھر میں نہایت احترام کے ساتھ منائی گئی ۔جرمنی کے شہر ہائیڈل برگ کا تصور آتے ہی علامہ محمد اقبالؔ کا خیال آتا ہے۔ علامہ اقبالؔ 190 میں جرمنی کے شہر میونخ میں PHD کرنےآئے مگر ہائیڈل برگ شہر کی قدرتی خوبصورتی کے سحر میں اسیر ہوگئے اور اپنا قیام یہیں رکھا ۔جرمن حکومت نے ان کی رہائش گاہ کو آج بھی قیمتی آثار قدیمہ کی فہرست میں شامل کر رکھا ہے ہائیڈل برگ شہر کے قلب سے دریائے نیکر شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوا گزرتا ہے۔ علامہ اقبالؔ کی رہائش گاہ کے مقابل دریا کے دوسری طرف وہ جگہ ہے جہاں دریا کے کنارے آپ اکثر بیٹھ کر شاعری فرماتے تھے بعض جگہ یہ بھی ملتا ہے کہ آپ نے جاوید نامہ اور اپنی فارسی شاعری کا آغاز انھیں خوبصورت مناظر کے درمیان بیٹھ کر کیا۔اسی شہر ہائیڈل برگ میں جرمنی کی معروف یونیورسٹیوں میں سے ایک ہائیڈل برگ یونیورسٹی ہے جہاں’’اقبالؔ چیئر‘‘پچھلے لگ بھگ 5 سال سے اداس و پریشان ماضی کے نواز شریف اور حال کے عمران خان کی ادبی بے حسی پر نوحہ کُناں ہے۔اسی ’’اقبالؔ چیئر‘‘ کی مدد سے پاکستان سے آئی بڑی بڑی شخصیات پروفیسر فتح محمد ملک ،ڈاکٹر حسن رضوی پروفیسر ڈاکٹر وقار نے ملک کی مثبت نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کے وقار کو جرمنی کے سیاسی،ادبی حلقوں میں بلند کیا،مگر اس اقبالؔ چیئرپر میاں صاحب کو کوئی مناسب ’’ گلوبٹ‘‘ ذرداری صاحب کو’’ جیالا‘‘اور خاں صاحب کو’’ پسندیدہ نوجوان‘‘ نہیں ملا۔ راقم الحروف نے کئی بار خطوط کے ذریعے جرمنی میں سفیر پاکستان کی وساطت سے حاکم وقت کی توجہ دلانے کی کوشش کی مگر ہمارے خطوط ردی کی ٹوکری کے نذر ہو گئے ۔ جرمنی ،ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں اردو کے شعبہ کی انچارج کرسٹینا اوسٹرہیلڈ نے اردو زبان کے لئے بہت کام کیا ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد اردو شعبے کی ذمہ داری ہائیڈل برگ یونیورسٹی ہی سے فارغ التحصیل ہونہار ’’محب اردو‘‘ ڈاکٹر آریان ہپف کو دی گئی ہیں جنہوں نے چند ہی ماہ میں اپنی کارکردگی سے ہائیڈل برگ یورنیورسٹی ہی نہیں جرمنی کے ادبی حلقوں کو انتہائی متاثر کیا ہے، ڈاکٹر محمد اقبالؔ کی144 ویں سالگرہ پر انہوں نے یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے لئے آئے یورپین اور ایشین طلباء و طالبات کے ساتھ ملکر ایک خوبصورت شام’’علامہ اقبالؔ‘‘ کے نام کا اہتمام کیا۔یونیورسٹی کے اردو کے شعبے کے طالبعلم اور طالبات نے علامہ اقبالؔ کی شاعری سے ’’منتخب نظمیں‘‘اپنی یورپین لہجے میں اردو میں پڑھ کر اور اردو کی لیکچر ر امتہ المنان نے علامہ کی نظم پڑھ کر خوب داد وصول کی۔مجھے بھی علامہ اقبالؔ کے خواب اور اس کی تعبیر کے موضوع پر اپنی نظم پیش کرنے کی دعوت دی گئی جسے سامعین نے پسند کیا ۔تقریب میں جرمنی کی مختلف یونیورسٹیوں کے اعلی تعلیم کے فارغ التحصیل طلباء جو آج مختلف اداروں میں اپنی ہنر مند خدمات پیش کر رہے ہیں انھیں بھی مدعو کیا گیا جو ہردلعزیز نوجوان حسن رضا کے قافلے میں شریک تقریب میں’’سندھی بریانی‘‘ کے ساتھ شریک ہوئے۔ڈاکٹر آریان نے جو اس تقریب کے میزبان تھے انھوں نے پروگرام کی نظامت کرتے ہوئے علامہ اقبالؔ کی شاعری اور فلسفے کی گہرائی پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح گوئٹے ؔحافظؔ سے متاثر تھے اُسی طرح ڈاکٹر اقبالؔ گوئٹے سے متاثر تھے۔ ڈاکٹر آریان نے ڈاکٹر محمد اقبالؔ کو نہایت خوبصورت لب و لہجہ میں خراج عقیدت پیش کیا۔یاد رہے ڈاکٹر آریان نسلا ’’جرمن‘‘ ہیں مگر اردو نہا یت شستہ اور روانی سے بولتے ہیں،تقریب میں یونیورسٹی کے سائوتھ ایشین انسٹی ٹیوٹ کے انچارج پروفیسر ڈاکٹر ہنس ہارڈر نے نا صرف اوّل سے آخر تک شرکت کہ بلکہ ہم باہر سے آئے مہمانوں کی ڈاکٹر آریان اُن کی ساتھی اردو لیکچرر امتہ المنان طاہر کے ساتھ ملکر پذیرائی کی۔مہمانوں کو ہائیڈل برگ یونیورسٹی کی لائبریری دکھائی گئی وہاں شاعری،ڈرامہ اور دیگر موضوعات پر اردو کتابوں کا ذخیرہ دیکھ کر ہمیں خوشی بھی ہوئی اور سر فخر سے بھی بلند ہوا۔