• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کام کی اخلاقیات اور مستعدی کتنی ضروری ہے؟

اخلاقی اقدار اور اخلاقیات کا مظاہرہ انسان کے باوقار ہونے کی دلیل ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے سے انسان خود اپنے قد میں اضافہ کرتا ہے جبکہ دوسرا بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اخلاقیات آپ کی شخصیت کا حصہ ہونا چاہیے، چاہے آپ طالب علم ہوں، کسی کمپنی میں ملازم ہوں یا پھر کاروباری شخصیت۔ آپ کسی بھی پیشے سے وابستہ ہوں، ہر ایک کے اپنے کچھ اصول اور کام کی اخلاقیات (Work Ethics) ہوتی ہیں اور لوگوں سے توقع رکھی جاتی ہے کہ وہ ان پر عمل پیرا ہوں۔ 

پیشہ ورانہ زندگی کے اصولوں اور اخلاقیات پر عمل کرکے آپ زیادہ پیشہ ورانہ طور پر پہلے سے بہتر اور ادارے کے قابل اعتماد شخص بن سکتے ہیں۔ اخلاقیات میں متعدد خصوصیات شامل ہیں، جن میں سب سے اہم اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا ہے کیونکہ یہ چیز آپ کو اپنے ادارے میں منفرد مقام عطا کرے گی۔ 

اس کے علاوہ محنت، مستقل مزاجی اور واضح اہداف کے حصول سے آپ کمپنی مالکان یا مینجمنٹ کا اعتماد حاصل کرسکتے ہیں۔ زیرِنظر مضمون میں ہم ایسے نکات کا ذکر کررہے ہیں جو کام کی اخلاقیات کو بہتر بنانے اور مستعد رہنے میں آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔

ہر دن بھرپور آغاز

اکثر لوگ عادتاً رات دیر گئے تک جاگتے رہتے ہیں جبکہ کچھ کام کی غرض سے بھی دیر سے سوتے ہیں کہ رات کو کام مکمل کرکے سوئیں تاکہ صبح کسی قسم کی کوئی ٹینشن نہ ہو۔ ممکن ہے کہ رات دیر تک کام کرکے آپ اپنے اہداف حاصل کرلیں لیکن اس کی وجہ سے صبح اٹھنے میں دقت اور سارا دن بوجھل گزر سکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ صبح سویرے اٹھ کر اپنے اہم امور انجام دیے جائیں کیونکہ دن کا بھرپور آغاز کرنے والے جب سویرے ہی اپنے کام پر لگ جاتے ہیں تو ان کا سارا دن بہت متاثرکن گزرتا ہے۔ 

رات دیر تک جاگ کر کام کرنے، ہلاّ گلاّ کرنے یا فلمیں دیکھنے کے عادی افراد کو صبح سویرے اٹھنے میں نہایت مشکل ہوتی ہے۔ اپنی عادت میں تبدیلی لاکر رات جلدی سونے اور صبح جلد اٹھنے کی عادت ڈالیں، ابتدا میں یہ کچھ مشکل ہوگا لیکن ایک بار عادت پڑگئی تو آپ کو خود بہتر محسوس ہوگا۔ الارم بجتے ہی اٹھ کر بیٹھ جائیں، جاگنے کے بعد سستی کا مظاہرہ کرنے سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے اور آپ کو مختلف امور انجام دینے کے لیے مناسب وقت نہیں مل پاتا۔ 

نیند سے بیدار ہوکر ورزش کریں، چائے یا کافی پئیں اور تروتازہ ہوکر کام پر لگ جائیں۔ دن میں انجام دینے والے اہم کام یا ذمہ داریوں کی پہلے سے ہی منصوبہ بندی کرلیں، ایسا کرنے سے صبح جلداٹھنے کی ترغیب بھی ملے گی۔ دن کا جلد آغاز کرنے سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور آپ ذہنی طور پر چاق و چوبند بھی رہیں گے۔

اہداف کا واضح تعین

کوئی بھی کام کرنے کے لیے یہ بات یقینی بنائیں کہ آپ کے مقاصد یا اہداف واضح ہوں۔ اس طرح آپ خود کو زیادہ پُراعتماد اور پُرعزم محسوس کریں گے۔ یہ طرزِ عمل مستقبل میں رونما ہونے والی چیزوں سے نمٹنے میں بھی مدد کرے گا۔ 

اگر آپ کے مقاصد یا اہداف واضح نہیں ہیں تو آپ کبھی بھی اپنے کام کی اخلاقی اصلاح نہیں کرسکتے۔ بعض اوقات لوگ آگے بڑھنے کے بجائے خود کو محدود کرلیتے ہیں۔ ایسے افراد کے لیے مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے اردگرد لوگوں پر نگاہ ڈالیں، ممکن ہے کہ دوسروں کی کامیابیوں کو دیکھ کر انھیں تحریک ملے اور وہ اپنے اندر مثبت تبدیلی لائیں۔

وقت کا بہترین استعمال

آج کا کام کل پر ٹالنے کے بجائے آج ہی انجام دیں کیونکہ ایسا کرنے کی عادت سے آپ کبھی بھی کوئی کام وقت پر پورا نہیں کرپائیں گے۔ کام میں تاخیر انتہائی منفی عادت ہے اور یہ آپ کی ترقی کی راہ میں رکاٹ بھی بن سکتی ہے۔ اپنے روزمرہ معمولات کا شیڈول ترتیب دیں اور اس پر سختی سے کاربند رہیں، بالخصوص کام کے اوقات میں اپنی توجہ کام پر ہی مرکوز رکھیں اور پھر دیگر چیزوں کی طرف دھیان دیں۔ 

کوشش کریں کہ سوشل میڈیا اور ٹی وی کے استعمال پر کم وقت صرف کریں، اس طرح آپ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں پر بہتر طریقے سے توجہ مرکوز کرسکیں گے۔ آپ اپنے گزارے گئے ہر لمحے کو کسی عظیم مقصد کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں۔

وقت کی پابندی

وقت کی پابندی کسی بھی شخص کی زندگی میں نظم و ضبط لاتی ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں وقت کی پابندی نہایت اہمیت رکھتی ہے اور بطور ایک پروفیشنل یہ آپ کی سب سے بڑی خوبی ہونی چاہیے۔ ذرا تصور کریں کہ آپ کو بزنس میٹنگ کے لیے جانا ہو اور آپ وہاں دیر سے پہنچیں، ایسے میں اگر متعلقہ شخص وقت کا پابند ہے تو اس پر آپ کا تاثر اچھا نہیں پڑے گا اور ممکن ہے کہ وہ آپ کی کمپنی سے کوئی ڈیل نہ کرے۔ 

دیر سے پہنچنے کی روش ممکنہ طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ آپ تفویض کیا گیا کام بھی وقت پر نہیں کرتے ہوں گے۔ ہر کمپنی کام کے عمدہ اخلاقیات کی تعریف کرتی ہے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ آپ کسی بھی بزنس میٹنگ کے لیے مقررہ وقت سے کچھ وقت قبل ہی پہنچ جائیں۔ آپ زندگی بھر اپنی اس عادت پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ وقت کی پابندی کرنے والے انسان بن سکتے ہیں۔

اپنی غلطیوں سے سیکھنا

دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں جو غلطیاں نہ کرتا ہو۔ لیکن جو چیز انسان کو دوسروں سے منفرد بناتی ہے وہ اپنی غلطی تسلیم کرنا اور آئندہ وہی غلطی دوبارہ نہ دہرانے کا عزم کرتے ہوئے اس سے سیکھنا۔ پیشہ ورانہ زندگی میں انسان کو بےشمار چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جنہیں پورا کرنے کےدوران وہ جانے انجانے میں کئی غلطیاں بھی کرتا ہے۔ 

اگر آپ اپنے کام کی اخلاقیات کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی غلطیوں سے سیکھنا ہوگا۔ کوشش کریں کہ کام میں کم سے کم غلطیاں ہوں کیونکہ بار بار کی غلطیوں سے آپ کی کارکردگی پر منفی اثر پڑے گا اور مینجمنٹ کے سامنے آپ کا بُرا تاثر قائم ہوگا۔

دفتری اوقات میں مستعدی

دن کا بیشتر حصہ دفتری امور کی نذر کرنے کے بعد واپسی پر انسان کافی تھک جاتا ہے اور اس کے بعد گھریلو مصروفیات میں باقی وقت گزر جاتا ہے۔ دفاتر میں کام کرنے والے بیشتر افراد (ڈیسک ورکرز) کے دن کا بڑا حصہ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے گزرتا ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ دورانیہ 8سے 10گھنٹے ہوتا ہے۔ 

جسمانی سرگرمیوں میں کمی جہاں انسان کے متحرک رہنے پر اثر انداز ہوتی ہے، وہیں اس کی صحت کو بھی متاثر کرنے کا سبب بنتی ہے۔ روزمرہ معمولاتِ زندگی میں مصروفِ عمل ایسے لوگوں کے پاس بیرونی سرگرمیاں سرانجام دینے کے لیے سہولتیں موجود نہیں ہوتیں۔ لہٰذا دن بھر مستعد رہنے کے لیے ذیل میں بیان کی گئی چند ضروری باتوں پر عمل کریں۔

زائد پانی پینا: پانی کا استعمال جسم کے لیے بے حدضروری ہے۔ دفتری اوقات میں آپ ہر کچھ دیر بعد پانی پئیں۔ اس طرح آپ کا جسم ہائیڈریٹ اور دن بھر توانا رہے گا۔

وقفے وقفے سے ٹہلنا: دن میں 8سے 10گھنٹے مستقل کرسی پر بیٹھے رہنا کسی طرح بھی صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔ لہٰذا ہر کچھ وقفہ کے بعد کام سے دو منٹ کا وقفہ لیں اور تھوڑا ٹہل لیں۔ کچھ نہیں تو اُٹھ کر اپنے دفتری معمولات کے چھوٹے موٹے کام خود کرلیں۔

اسکرین سے نظریں ہٹانا: مستقل طور پر کمپیوٹر کا استعمال آنکھوں اور دماغی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔ لہٰذا ہر تھوڑی دیر بعد اپنی آنکھیں لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر اسکرین سے ہٹالیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ہر گھنٹے کے دوران چند منٹ کے لیے ہی سہی انسانی جسم اور آنکھوں کو کچھ دیر وقفے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سیڑھیوں کا استعمال : بہت سے لوگ سیڑھیاں چڑھنے کے بجائے لفٹ کا استعمال کرتے ہیں، جس کی کئی وجوہات ہیں جیسے کہ ہاتھوں میں سامان ہونا، میٹنگ میں پہنچنے کی جلدی یا گرمی لگنا وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن اگر آپ خود کو فٹ رکھنا، بڑھتے وزن پر قابو یادفتر میں مستعد رہنا چاہتے ہیں تو چند منزلوں تک جانے کے لیے سیڑھیوں کا استعمال کریں، یہ جسمانی ورزش کا سب سے آسان طریقہ ہے۔