• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز 2030 تک ملکی ترقی میں پونے 10 کھرب روپے کا اضافہ کرسکتی ہیں

ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن 2030ء تک پاکستان کی اقتصادی ترقی میں 9اعشاریہ 7 کھرب روپے یعنی 59اعشاریہ7 ارب امریکی ڈالرز کا سالانہ اضافہ کر سکتی ہے، جو 2020ء میں ملک کی مجموعی پیداوار کے 19 فیصد کے برابر ہے۔

یہ بات گوگل اور پاشا کی جانب سے جاری کردہ مشترکا رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔

’اَن لاکنگ پاکستان ڈیجیٹل پوٹینشل‘ کے عنوان سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

یہ ملک 3 لاکھ سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کا مرکز ہے، جو سالانہ 25 ہزار سے زائد آئی ٹی گریجویٹس پیدا کرتا ہے اور 2010ء سے 700 سے زائد ٹیک اسٹارٹ اپس کی تربیت کرچکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2020ء سے ٹیکنالوجی کی برآمدات میں 15 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے اور توقع ہے کہ 2022ء میں یہ برآمدات 3اعشاریہ 5 ارب امریکی ڈالرز تک پہنچ جائیں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی آن لائن آبادی میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور 2021ء میں انٹرنیٹ کے استعمال کی شرح میں 54 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ رپورٹ الفا بیٹا کے اکنامسٹس نے تیار کی ہے، جس میں3 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جنہیں پاکستان کو ترقی کے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے، ان اقدامات میں مقامی ٹیک ایکو سسٹم کی مدد کے لیے انفرااسٹرکچر کو ترقی دینا، آئی ٹی سیکٹر کی برآمدات کےلیے سازگار ماحول کی تخلیق جاری رکھنا اور ملک میں جدت اور ڈیجیٹل اسکلز کو فروغ دینا شامل ہیں۔

اس بارے میں گوگل کے ریجنل ڈائریکٹر برائے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا، فرحان قریشی سمجھتے ہیں کہ وبا کے باعث پیش آنے والی رکاوٹوں کے باوجودپاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا مستقبل روشن ہے۔

قومی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید