• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جعلی پولیس مقابلے، کون کب کہاں اور کیوں مارا گیا، صحافی احمد فراز کی کتاب میں انکشاف

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان کے دو صوبوں پنجاب اور سندھ میں ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ جاری ہے خاص طور پر 30؍ برسوں یعنی 1991ء سے اب تک 6؍ ہزار 244؍ پولیس مقابلوں کئے گئے ہیں جن میں 5؍ ہزار 246؍ افراد ان پولیس مقابلوں میں مارےگئے۔

 یہ انکشاف معروف صحافی کرائم رپورٹر احمد فراز نے اپنی کتاب ( encounter cops) میں کیا ہے جس میں جعلی پولیس مقابلوں اور ایکسٹرا جوڈیشل کلنگ کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ 

کتا ب میں کون ،کب کہاں کیوں اور کس کے ہاتھوں جعلی پولیس مقا بلے میں مار اگیا اور کن ملزمان کو چن چن کر اور کن کو جیلوں سے نکال کر مارنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ 

کتاب میں ایک پولیس آفیسر کی جانب سے جعلی پولیس مقابلوں کے حق میں فتوی حاصل کرنے اور عدالتوں سے سزا دلوانے کے بجائے اپنی عدالتیں لگانے اور کس کو کہاں اور کیسے ختم کرنے کا ذکربھی شامل ہیں۔

کتاب میں آصف زرادری پر مقدمہ درج کرنے کیلئے ایک اینکاؤنٹر اسپیشلسٹ کو ڈی ایس پی بنانے کے عہدے پر ترقی دینے کی شرط سمیت مرتضی بھٹو، ایک امریکی شہری، رحمان ڈکیت، عاطف چوہدری، نقیب اللہ محسود، ننھو گورائیہ، بھولا سنیارا، مظہر تبی، ملنگی، حنیفا بابا، ہیرا گجر، طالب علم رہنماؤں، ناجی بٹ ، ہمایوں گجر، طاہر پرنس اور سلطان راہی کے قاتل ساجو کانا سمیت ماورائے عدالت ہونےو الے متعدد جعلی پولیس مقابلوں کے لرزہ خیز قصے شامل ہیں۔ جبکہ کن کن پولیس افسروں اور انسپکٹرز نے یہ جعلی مقابلے کئے ان کے نام بھی لکھے گئے ہیں ۔

 کتاب میں پہلے جعلی مقابلے اور جگا بدمعاش سے لے کر اب تک کے جعلی پولیس مقابلوں کی اصلی کہانیوں ، کن پولیس افسروں کو بندے مارنے پر ڈریکولا کے لقب دینے، جعلی پولیس مقابلوں کی روایت اور جوڈیشل انکوائریوں کے بارے بھی لکھا گیا کہ ان مقابلوں میں جو ملزمان اپنے ساتھیوں کو چھڑانے آتے ہیں وہ پکڑے کیوں نہیں جاتے۔ 

پولیس جعلی مقابلہ کرنے کے لئے کس سیکشن کا سہارا لیتی ہے ؟ اس کا بھی ذکر کیا گیا کتاب میں ہر اس پولیس افسر کا نام اور اس کے جعلی پولیس مقابلے کا بھی ذکر ہے جس نے صرف اپنی نوکری بچانے اور نام کمانے کیلئے کئی افراد کو ماورائے عدالت قتل کر ڈالا اور اپنے خوف اور دہشت کے ذریعے کروڑوں کی جائیدایں بھی بنائیں۔

اہم خبریں سے مزید